’’سب سے بڑی قوت‘ قوتِ برداشت ہے‘‘

ڈاکٹر اظہر وحیدazhar

برداشت کاراستہ خالصتاً الی اللہ ہوتا ہے ۔۔۔ اس لئے مع اللہ ہوتاہے ۔ ہمارے دینی بھائیوں اور دینی جماعتوں میں برداشت کا جوہر سب سے زیادہ ہونا چاہیے۔ اس لئے کہ برداشت کا تعلق صبر کے ساتھ ہے اور اہلِ ایمان کو صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کا حکم ہے۔ عدم برداشت بے صبری کا مظاہر ہ ہے اور بے صبری صرف دنیا دار کا خاصہ ہے۔۔۔ کہ وہ عاقبت کا انتظار نہیں کر سکتا۔ دین کی تبلیغ گفتار سے زیادہ کردار سے ہوتی ہے ۔ اس لیے ایک دین دار شخص کی گفتگو اور رویہ قوتِ برداشت کا شاہکار ہونا چاہیے کہ وہ دین کی نمائندگی کر رہا ہے۔ دین کا جوہر اخلاص اور اخلاق ہے۔۔۔ عبادات میں اخلاص اور معاملات میں اخلاق!! اگر دین کی نمائندگی کرنے والے برداشت اور صبر کا دامن بار بار چھوڑ دیں اوردوسری طرف دنیادار لوگ اپنی سیکولر اخلاقیات کے سہارے برداشت پر مبنی مثال اور معاشرے قائم کر دیں تو ایک عام آدمی اپنا رُخ کس طرف کرے گا؟ ظاہر ہے ایسی صورت میں وہ بغداد، دمشق اورریاض کی بجائے لندن،زیورچ اور روم کی معاشرت کا حصہ بننا پسند کرے گا۔لوگوں میں دین سے بیزاری کہیں ہماری مردم آزاری کا ردِّ عمل تونہیں؟
برداشت اور عدم برداشت کا تعلق اِخلاقی جذبے سے کہیں بڑھ کر دینی جذبے کے ساتھ ہے۔اسی طرح عدم برداشت کا دائرہ صرف دینی غیرت وحمیت کے ساتھ ہے ۔۔۔ ذاتی پسند ناپسند اور انا کے ساتھ نہیں ۔ عدم برداشت کی جا‘اگردینی غیرت ہے تو بجا ۔۔۔ لیکن اگرجابجا ہے‘ توناروا ۔۔۔ بلکہ ذاتی اَنا!! غیرت اور غصے میں فرق ہوتا ہے۔ غیرت کا مظاہرہ کرنے والا اپنی ذاتی انا کی نفی کی حالت میں دینی شعائر کے پامال ہونے پر سرخ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غصہ صرف اور صرف ذاتی انا کے پامال ہونے کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے۔ عدم برداشت اگرذاتی اَناکی بِنا پر ہو‘ تو لازم ہے کہ اس کا حشر غرور اور تکبر کے دائرے میں ہو۔ جب غرور کے دائرے میں حشر ہوتا ہے تو انجام بالعموم عبرت کے دائرے میں نشر ہوتا ہے ۔قوم ،قبیلے، رنگ، نسل، زبان اور نسب کا تعصب دراصل غرور اور تکبر کی ایک اجتماعی شکل ہے۔دین کا راستہ درحقیقت اپنی نفی کا راستہ ہے۔۔۔ اس لیے دینی غیرت و حمیت ‘غصے اور تعصب سے ایسے ہی جدا ہے‘ جیسے نور ظلمت سے۔ غیرت اور غصے میں وہی فرق ہوتاہے جو خوشبو اور بدبو میں ہے۔ ذاتی اَنا کیلئے زندگی گذارنے وا لا جب کسی دینی کام میں ہاتھ ڈالتا ہے تو فساد برپا کر دیتا ہے۔ وہ کلمۂ حق کو بھی اپنی ذاتی اَنا بنا لیتا ہے ۔ کلمے کی اصل دراصل خودپسندی اور خود پرستی کی نفی ہے ۔۔۔خدا پرستی ‘ خود پرستی کی نفی ہے ۔ خود کی نفی کیے بغیر انسان جس خدا کا تصور کرتا ہے ‘وہ اُس کی اپنی فہم کے بت کے سو ااور کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ رسالتؐ کے واسطے کے بغیر توحید کا اقرار ناممکن ہے ۔ اللہ سے محبت کا دعویٰ رسولِ کریم ﷺ کے اتباع کے بغیر معتبر نہیں ٹھہرتا۔ اتباع درحقیقت اتباعِ کردار ہوتی ہے۔پیروی نقوشِ قدم کی تلاش کا نام ہے۔ آپ ﷺ کے نقوشِ قدم مکارم اخلاق ہیں۔ دینِ مبین رسولِ امین ؐ کا لایا ہوا دین ہے ۔ رسولِ رحمت ﷺجس دین کے ساتھ مبعوث ہوئے ‘وہ دینِ رحمت ہے۔ دینِ رحمت میں داخل ہونے والا لامحالہ مخلوقِ خدا کے حق میں رحم دل ہو جاتا ہے۔ رحم کیا ہے؟ قطبِ ارشاد حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے :’’رحم اُس فضل کا نام ہے جو اِنسانوں پر اُن کی خامیوں کے باوجود کیا جائے‘‘۔ اگر ہم اپنے لیے خدا سے رحم کے طلبگار ہیں تو مخلوقِ خدا کیلئے رحمت کا سائبان بنیں ۔۔۔ یعنی دوسروں کی خامیوں پر اپنی برداشت کی چادر ڈالیں۔۔۔اپنے عفو کی عبا میں دوسروں کے عیوب چھپانا ‘ ستّار العیوب ذات کے قرب کا باعث بن سکتا ہے۔
وہ شخص چمن کی سَیر کیا کرے گا جس کی نظر پھول اور خوشبو کی بجائے کانٹے اور کھاد پر پڑتی رہے ۔ اصلاح کے باب میں کسی کی خامیاں گنوانے سے پہلے اس کی خوبیوں کا بیان جاری کرنا لازم ہے ۔۔۔ تاکہ وہ اپنی خوبیوں کا سفر جاری رکھ سکے۔ تنقید سے پہلے تعریف اصلاح کرنے کا ایک مہذب طریق ہے۔ خامیوں کی نشاندہی وہ کرے ‘ جو خامیوں کو دُور کرنے پر مامور ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ حسن ‘ دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ دیکھنے والے کی آنکھ میں حسن اس لئے ہوتا ہے کہ وہ حسن دیکھنے کی خوگر ہوتی ہے۔خوب�ئ حسن دراصل خوب�ئ حسنِ نظر ہے۔
برداشت کا جوہرصرف اپنی ذاتی اَنا اور مفادکی قربانی ہے۔ اجتماعی اور ملّی مفاد کا کلیہ اورہے۔ا گر اجتماعی مفاد اور قومی وقارکے معاملات پر سمجھوتہ در سمجھوتہ ایکسپریس کا سفر جاری رہے تو برداشت اوربے غیرتی میں فرق نہیں رہتا۔ ہم غیروں کی زیادتی برداشت کرتے چلے جاتے ہیں ‘ اپنوں کی نازبرداری برداشت نہیں کرتے۔ جب تک ہم ’’رحماءُ بینھم‘‘ نہیں ہوتے ‘ اشدّاءُ علی الکفّار‘‘ کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے سرمائے کی قدر نہیں کرتے تو وہ غیروں کے کام آتا ہے۔ ہمارا نوجوان ہمارا سرمایہ ہے۔ اسے سرمایہ داری کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔
برداشت اگر مبنی بر اِخلاص ہو توافکار و کردار میں روحانیت کو جنم دیتی ہے ۔ اگر برداشت کے پیشِ نظر مفاد اور منفعت کا سودا ہو‘ تو عین ممکن ہے یہی برداشت ا ندرونِ خانہ منافقت پیداکرتی ہے ۔ برداشت اگرمزاج کا حصہ بن جائے تو اِنسان متحمل ہوجاتاہے۔ دراصل ایک متحمل مزاج انسان ہی تخلیقی جذبوں کا حمل اُٹھا سکتا ہے۔
برداشت کا ایک روحانی پہلو یہ ہے کہ انسان ترغیباتِ نفس کی لپک کوبھی برداشت کر ے۔ مرغوباتِ نفس کی تکون دولت، شہرت اور عورت سے مل کر بنی ہوئی ایک غیر قائمہ زاویہ مثلت ہے۔ لذائذِ ِ نفس کی نفی کرنا ایک کڑوا کام ہے ‘لیکن یہی کڑواہٹ اگر برداشت کر لی جائے تو’’دل برداشتہ ‘‘ کے اندر تلک مٹھاس کی ایک لہر پیداکر دیتی ہے۔
برداشت ایک ایسااِخلاقی سبق ہے ‘جسے سناتے رہنے کی بجائے کر کے دکھا یا جاناچاہیے۔ سنی سنائی بات ویسے بھی برداشت نہیں ہوتی ۔برداشت کا درس دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے سے کمزور آدمی کی کمزوریاں برداشت کرکے دکھا دی جائیں۔۔۔ اس طرح وہ شخص اپنے سے کمزور لوگوں کو برداشت کرنے کا سبق سیکھ لے گا۔ یوں معاشرے میں برداشت اور رواداری کی سبک خرام ہوا چلنے لگے گی۔۔۔ سب کو سکون کا سانس آئے گا۔ برداشت یک طرفہ بھی ہو تو دو طرفہ فائدہ دے جاتی ہے ۔کاروبارِ گلشن ہو ‘ یا گلشنِ کاروبار ۔۔۔ جیو اور جینے دو کے اصول پرچلتے ہیں۔ برداشت اجنبی کو دوست بنا دیتی ہے ۔۔۔ عدم برداشت دوستوں میں اجنبیت پیدا کردیتی ہے۔ بقول حضرت واصف علی واصف ؒ ’’سب سے بڑی قوت ‘ قوتِ برداشت ہے ‘‘۔ دراصل برداشت اتنی بڑی قوت ہے کہ غیریت کو اپنایت میں بدل دیتی ہے۔ اس کے برعکس عدم برداشت اپنوں کو غیروں کے حوالے کر دیتی ہے ۔ عدم برداشت نفرت کے بیج بوتی ہے اور برداشت محبت کی کونپل کو گلاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔۔ ہم دلوں کی زمین میں نفرت کا جھاڑ جھنکار اور کدورت کی باڑیں لگاتے ہیں ‘ یا محبت کی تاحدِّ نظر لہلہاتی فصل بوتے ہیں۔ فصل محبت کی ہو یا نفرت کی ۔۔۔ اِسے ایک نسل بوتی ہے اور کئی نسلیں کاٹتی ہیں ۔
عدم برداشت غصے کو جنم دیتا ہے ۔۔۔ اور غصہ ایسی آگ ہے کہ جب بھڑک اٹھتا ہے تو اپنے پرائے کا فرق نہیں رکھتی ۔ غیض اور غضب مترداف الفاظ ہے۔ ہم غیض کا مظاہرہ کرکے اس کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔انفرادی عدم برداشت اجتماعی زندگی میں وہ کانٹے بو دیتا ہے ‘ کہ آنے والی نسلوں اور صدیوں انہیں صاف کرتے کرتے لہو لہان ہو جاتی ہیں۔ دھرتی پرنفرت کا جھاڑ جھنکاراور عدم برداشت کے تھوہر جب تک صاف نہ کیے جائیں کوئی فصل بارآور نہیں ہوتی!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *