ہارس ٹریڈنگ کا نیا دور

عمران خان ہر وہ بات کررہے ہیں جس کے خلاف وہ اپنی جنگ کا دعوی کیا کرتے تھے۔ ان چیزوں میں سے ایک ہارس ٹریڈنگ بھی ہے جسے وہ جمہوریت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک چیز قرار دیتے تھے۔ حال ہی میں گرفتاریوں کے نئے دور کے آغاز سے یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ حکومت انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک بات  محدود ہوتی ہوئی اظہار رائے کی آزادی ہے۔ بہت کم ایسے سیاستدان ہوں گے جو اعلی اخلاقی پوزیشن سے اس قدر تیزی سے تنزلی کا سفر طے کر چکے ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ گھبرائے ہوئے وزیر اعظم اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں۔ ان کا قومی اسمبلی میں دھمکیوں سے بھرا خطاب اور آدھی رات کی گئی تقریر  ملک کے معاشی  اور سیاسی مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کی اہلیت کے بارے میں لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ ایک یونانی  ٹریجڈی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

پچھلے ہفتے کچھ اپوزیشن  رہنماوں کی وزیر اعظم سے ملاقات ، جو شاید اپنی وفاداری بدلنے کے خواہش مند ہیں، کا واقعہ اس گندے کھیل کی یاد دلاتا ہے جس نے پاکستانی سیاست کو آلودہ کر رکھا ہے ۔ ایک وفاقی وزیر کا دعوی ہے کہ  پنجاب اسمبلی میں اور بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو وفاداری بدلنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ خان کا وسیم اکرم پلس اپوزیشن میں دھڑے بندی کے معاملے میں بہترین کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک  جادوگر صوبائی گورنر اپنے جادو کی چھڑی سے اتنے پی پی ممبران خرید چکا ہے کہ وہ سندھ حکومت کو بھی بدل کر رکھ دے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت میں تبدیلی اب زیادہ  دور نہیں ہے۔

جو ماضی میں بُرا اوربھیانک تھا اب  وہ کرپشن کی جنگ لڑنے والے لیڈر کی حکومت میں من و سلوی بن چکا ہے۔ یہ اس ضمیر کو نہیں جگا رہا جو اپوزیشن ممبران کو اپنے کرپٹ پارٹی ممبرز  کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرے۔ ہم میں سے جو لوگ کرپشن سے لدے سیاسی نظام سے واقف ہیں  انہیں معلوم ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کیسے کی جاتی ہے۔ چھانگا مانگا سیاست اور بنی گالہ میں ملاقات میں کوئی  خاص فرق نہیں ہے  اگرچہ ان کا طریقہ کار کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ پی ٹی آئی کے وزراء  وفاداریاں بدلنے والے لوٹوں کو سراہ رہے ہیں۔

یہ صرف موقع پرستی یا مالی فائدہ نہیں  جو اپوزیشن ممبران کو  حکومتی پارٹی کی طرف متوجہ کرتا ہو  بلکہ سکیورٹی ایجنسیاں بھی   سیاسی وفاداریاں بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پچھلے  الیکشن سے قبل سیاسی دھڑے بندی میں ان ایجنسیوں کا کردار بلکل واضح ہے۔ اس کا بنیادی مقصد  جارحانہ اپوزیشن کے سامنے ایک کمزور اتحاد کھڑا کرنا ہوتا ہے۔

اگرچہ پچھلے ہفتے اپوزیشن پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں  کوئی خاص پلان تو سامنے نہیں آیا جس سے حکومت کو خطرہ محسوس ہو لیکن پھر بھی اس نے پی ٹی آئی قیادت کو پریشان ضرور کیا ہے۔ بجٹ کی با آسانی منظوری  کے بعد بھی عمران خان کی بے چینی کم نہیں ہوئی ہے۔ بجٹ کے اختتام پر عمران کی تقریر میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے حکومت پر اعتماد نظر آتی ہو  کہ وہ ملک کے معاشی حالات کی مشکلات سے کیسے نمٹنے  میں کامیاب ہو گی۔ اس تقریر میں انہوں نے وہی  راگ الاپنے پر انحصار کیا کہ وہ ان چوروں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ملک کو مقروض کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خان نے اپوزیشن کو فکس کرنے کی جو دھمکی دی ہے  اس سے موجودہ احتساب کے عمل پر مزید سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان کن معاملہ سینیر اپوزیشن لیڈر  اور رکن اسمبلی کی منشیات کی ایک بڑی تعداد رکھنے پر گرفتاری ہے۔ ان پر کچھ کالعدم جماعتوں سے تعلقات پر بھی الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ گرفتاری کا وقت ہی اس کاروائی پر سوالیہ نشان  ڈال دیتا ہے۔ اس سے ہمیں وہ دور یاد آ گیا جب سیاسی رہنماوں کو  بھینس چوری کے جرم میں گرفتار کیا جاتا تھا۔ پاکستانی قانون کے مطابق  جس میں منشیات رکھنے کی سزا پھانسی ہے اس لیے یہاں منشیات رکھنے کا الزام بہت بھیانک اور سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ کسی بھی سینئر سیاسی لیڈر کے خلاف اس طرح کا کیس  پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔

اگرچہ اے این ایف فیڈرل گورنمنٹ کے تحت ہے لیکن اس میں زیادہ تر سٹاف ممبرز آرمی سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کا سربراہ بھی میجر جنرل ہے۔ چونکہ یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ رانا ثنا اللہ پر الزامات  قابل اعتماد ہیں بھی یا نہیں، ایک سینئر سیاسی لیڈر کی گرفتاری اس ادارے  کو متنازع بنا  سکتی ہے۔ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے امیج کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے  کیونکہ  وہ پہلے سے ہی اس کی  لیڈر شپ  اور میڈیا ونگ کی سیاسی چالوں  کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ میڈیا کی غیر اعلانیہ بندش  اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کا معاملہ بھی پریشان کن ہے۔ کسی بھی طرح کی وجہ بتائے بغیر ٹی وی پروگرام آف ائیر کر دینا  مزاحمتی آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے۔ حیران کن طور پر ٹیلیویژن چینلز کو  رشوت خوری اور کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیاسی رہنماوں  کے انٹرویوز نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی  جب کہ پارلیمان میں ان رہنماوں کو بولنے  کی آئینی طور پر مکمل آزادی ہے۔  اس طرح کی ڈریکونین کاروائیاں  جمہوری نظام کے لیے بلکل بھی خوش آئند نہیں ہیں۔ یہ حکومت کی کمزوری کی علامت ہیں  اوراپوزیشن کو ہینڈل کرنے میں حکومت کے عدم اعتماد کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ جب عمران خان خود اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے فری میڈیا کا بھر پور استعمال کیا اور اب وہ اسی میڈیا کی آزادی سے خائف ہیں۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ میڈیا پر پابندیوں میں اس کا کوئی  کردار نہیں۔  اس کے پیچھے کوئی بھی ہو، ذمہ داری تو حکومت کی بنتی ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی یقینی بنائے۔ خفیہ ایجنسیوں کو ریاستی معاملات پر اختیار دینا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ خان اگر تاریخ سے ایک سبق سیکھ سکتے تھے تو یہ تھا کہ ہارس ٹریڈنگ اور انتقامی کاروائیوں سے کبھی حکومت کو استحکام نہیں دیا جا سکتا۔ انہیں اپنے فائدے کے لیے  اس ذہنیت سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ ایک سخت اور مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا بھی جمہوری سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ اپوزیشن نہ تو حکومت گرانا چاہتی ہے اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہے۔ لیکن مقابلہ کی سیاست کر کے وزیر اعظم نے حکومت کو خود ہی غیر مستحکم کر رکھا ہے  اور حکومت کو مکمل طور پر سکیورٹی ایجنسیوں پر منحصر کر دیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو بہت گہرے مالی ، خارجی اورداخلی مسائل کا شکار ہو  اس کے لیے یہ صورتحال بہت خطرناک ہے۔ ابتر ہوتی ہوئی سیاسی عدم استحکام کی صورتحال  ان چینلنجز سے نمٹنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ مختصر اور قلیل المدتی فوائد کے لیے  گندی سیاست  کرنے کی بجائے حوکمت کو چاہیے کہ ملک کے طویل المدتی مفاد کو نظر میں رکھتے ہوئے سیاسی اقدامات کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *