ایاز امیر صاحب کا کالم: حقائق یہ ہیں

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

ایاز امیر صاحب کا کالم: حقائق یہ ہیں

خامہ بدست کے قلم سے
جناب ایاز امیر”دنیا“ میں اپنے تازہ کالم ”جو ہورہاہے، درست ہورہاہے“ میں لکھتے ہیں: سوچنے کا مقام ہے اور حیرانی بھی کہ جنہوں نے لمبا لمبا اقتدار کیا، وہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ملک بھر میں کوئی چڑیا بھی نہیں پھڑک رہی۔ آصف زرداری اسلام آباد کے گرد ہی بند ہیں، چھوٹا موٹا ہی احتجاج ہوجاتا۔ لیکن نہ پارٹی میں دم ہے، نہ عوام میں ان کے لیے کوئی ہمدردی، کیا فاضل کالم نگار کو واقعی معلوم نہیں، یا ان کی یادداشت کمزور ہوچکی کہ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے، جب نیب میں زرداری صاحب کی پیشی پراسلام آباد میں اچھا خاصا ہنگامہ ہوا تھا۔ جیالوں کی خاصی بڑی تعداد اظہار یک جہتی کے لیے آ ئی تھی اور پولیس کو لاٹھی چارج، واٹرکنین اور آنسو گیس استعمال کرنا پڑی تھی اور پھر فاضل کالم نگار نوازشریف کار خ کرتے ہیں (جن کے ٹکٹ پر 1998میں پنجاب اسمبلی کا اور 2002اور 2008میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔2013میں بھی نوازشریف کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی لیکن اس بار قسمت مہربان نہ ہوئی) میاں نوازشریف بلوچستان کی جیل میں قید نہیں، لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ایام اسیری گزار رہے ہیں۔ ایک زمانے میں کوٹ لکھپت لاہور کے باہر تصور کیا جاتاتھا۔ اب تو شہر کے عین وسط میں ہے، لیکن وہ بند ہیں اور شہر کی زندگی جیسے بھی ہے، چل رہی ہے۔ ٹریفک میں ایک دن بھی ان کی گرفتاری کی وجہ سے خلل نہیں آیا۔لگتا ہے، یہاں پھر وہی یاد داشت کا مسئلہ ہے یا نفرت اس انتہا کو پہنچ چکی کہ دیوار پر لکھا ہوا بھی نظر نہیں آرہا۔ ہم 28جولائی2018کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جی ٹی روڈ مارچ کا ذکر نہیں کرتے، جو چار روز میں مکمل ہوا اور سخت گرمی کے باوجود جی ٹی روڈ پر لاکھوں عوام معزول وزیر اعظم سے اظہار یک جہتی کے لیے امنڈ آئے۔ہم 25جولائی2018کے الیکشن ریزلٹ کی بات بھی نہیں کرتے، جب تمام تر ہتھکنڈوں اورحربوں کے باوجود نوازشریف کی مسلم لیگ نے ایک کروڑ28لاکھ ووٹ حاصل کرلئے اور پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ایک بار پھر اپنی حیثیت منوالی۔ بات سڑکوں پر آنے کی ہے تو 13جولائی2018کو لاہور کی سڑکوں پر کیا عالم تھا جب باپ، بیٹی گرفتاری دینے لندن سے لاہور پہنچے تھے۔ طلعت حسین جیسے معتبر اخبار نویس نے صرف اندرون ِ شہر میں مظاہرین کی تعداد50ہزا ربتائی تھی۔ وہ امن وامان کے ذمہ دار اداروں سے لڑنے بھڑنے کو بھی تیار تھے لیکن شہبازشریف کی دوراندیشی سے معاملہ کسی بڑے تصادم سے بچ گیا۔
اور یہ تومہینے بھر پہلے کی بات ہے، 7جون کی بات، جب سپریم کورٹ سے6ہفتے کی ضمانت کے خاتمے پر نوازشریف کو پھر جیل جاناتھا۔ اس دن پہلا روزہ تھااورسخت حبس کا موسم۔ اس کے باوجود شہر یا نِ لاہور اپنے لیڈر سے اظہار وفاکے لیے سڑکوں پر آئے۔ جاتی امرا سے کوٹ لکھپت کا سفر چار گھنٹے میں طے ہوا۔ سارے راستے عوام کا جم غفیر تھا۔ لاہوربھر سے قافلے فیروز پور روڈ کے شنگھائی پل کی طرف رواں دواں تھے، لیکن میڈیا کو لائیو کو ریج کی اجازت نہ تھی۔ اور اب بھی ہر جمعرات کو کارکنوں کی بڑی تعداد اپنے لیڈر سے وفاداری کے اظہار کے لیے کوٹ لکھپت پہنچتی ہے۔ فاضل کالم نگار کو حیرت ہے کہ شہر میں ایک دن بھی ٹریفک میں خلل نہیں آیا۔ کیا انہیں واقعی علم نہیں کہ ٹریفک میں خلل ڈالنے کے لیے ہزاروں، لاکھوں لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کام چند درجن لوگ بھی کرسکتے ہیں۔ یہاں تو نابیناحضرات کا احتجاجی مظاہرہ بھی میٹرو بس کو معطل کردیتاہے۔ لاہور میں اگر ٹریفک میں خلل نہیں پڑا تو یہ مسلم لیگیوں کی امن پسندی اور عام شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب سے بچانے کا جذبہ ہے، جس کی تحسین کی جانی چاہیے۔
ماضی میں جائیں تو 5جولائی1977کو بھٹو صاحب کی برطرفی پر ملک بھر میں کہیں احتجاج نہ ہوا بلکہ پی این اے والوں نے جشن منایا اور کئی روز تک حلوے کی دیگیں تقسیم کی جاتی رہیں لیکن یہی بھٹو لاہور آئے تو پرانے ایئر پورٹ سے شیر پاؤ برج تک خلقِ خدا کا ہجوم تھا۔ پھر اسی لاہور میں بھٹو صاحب پر قتل کا مقدمہ چلا، وہ ہر روز کوٹ لکھپت جیل سے لاہور ہائی کورٹ لائے جاتے۔لیکن فیروز پور روڈ سے ما ل روڈ تک کہیں کوئی ہنگامہ نہ ہوتا۔ یہاں تک کہ انہیں سزائے موت سنادی گئی اور پھر اس پر عملدرآمد بھی ہوگیا اور اکادکا مظاہروں کے سوا کچھ نہ ہوا لیکن اسی بھٹو کی بیٹی 10اپریل1986کو جلا وطنی سے لاہور آئی تو تاریخ کا بے پناہ استقبال اس کا منتظر تھا۔
تو جنابِ کالم نگار! ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔کیا جناب اُس وقت کے منتظر ہیں جب ملک میں ایک ایسی تحریک اٹھ کھڑی ہو کہ جب نظام مملکت ناکام ہوجائے۔اللہ نہ کرے کہ وہ وقت آئے۔لیکن موجودہ ارباب ِ اقتدار کی ناکام اقتصادی پالیسیوں اور انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں شاید وہ وقت زیادہ دور نہ ہو۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *