لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید

بلوچستان کے کچھ لاپتہ افراد کی واپسی، ہوم منسٹر کی طرف سے بہتری کی امید کا اظہار اور اختر مینگل کی طرف سے سنائی گئی خوشخبری اچھی چیزیں ہیں لیکن  ان سب چیزوں سے سوالات کا جواب ملنے کی بجائے مزید سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کس کی کسٹوڈی سے آزاد ہو کر آئے ہیں اور انہیں پہلے کیوں واپس نہ لایا جا سکا؟  اس کے علاوہ  جواب دہ نہ ہونے کا سوال بھی ابھی تک وہیں ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے انکوائری کمیشن کو افرادی اور مالی ذرائع کے ذریعے مضبوط کرنے کا معاملہ بھی اپنی جگہ موجود ہے  اور ادارے کی کمزوری اور ناکامی کی وجہ سے  متاثرہ خاندانوں کو بہت کرب اور مایوسی کی حالت کا سامنا ہے۔ ہم مارچ اپریل 2019 کے اسی ادارے کی طرف سے جاری کر دہ اعداد و شمار سے اس ادارے کی پرفارمنس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پہلے کچھ حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ادارے کو اپریل کے اختتام تک کل 6051 شکایات موصول ہوئیں جس میں سے صرف مارچ اور اپریل میں موصول ہونے والی شکایات بالترتیب 62 اور 136 یعنی کل 198 کیسز تھے۔ اپریل کے اختتام تک 3783 کیسز نمٹائے گئے۔ 31 مارچ تک زیر تفتیش معاملات کی تعداد 2181 تھی اور 30 اپریل تک زیر تفتیش واقعات کی تعداد 2258 تھی۔  اپریل میں 136 نئے کیسز سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی  بہت زیادہ تعداد میں لوگ لا پتہ ہو رہے ہیں اور کمیشن کے سامنے موجود لاپتہ افراد کی 30 اپریل تک کی لسٹ پہلے ہی کافی لمبی ہے۔ مارچ 1، 2011 سےاپریل 2019تک علاقہ کے لحاظ سے اگر شکایا ت کو الگ الگ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب سے 1271، سندھ سے 1512، کے پی کے سے 2277 ،بلوچستان سے 408 ، اسلام آباد سے 256، فاٹا سے 265، آزاد کشمیر سے 53 اور گلگت بلتستان سے 8 افراد لا پتہ ہوئے ۔ اس بیان پر یقین کرنا مشکل ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیو ں کے واقعات پچھلے آٹھ سال میں سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں بہت کم رہے ہیں۔ اس کا واحد مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے پاس ذرائع اور اختیار کی کمی اس قدر زیادہ ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے کیس رپورٹ ہی نہیں کر سکتے۔ حکومت کی طرف سے عدم توجہ سے ہی اختر مینگل ناراض نظر آتے ہیں۔

مارچ اپریل 2019 کے دوران ملنے والے لا پتہ افراد کی تعاد 117 تھی۔ جو لوگ گھر واپس آئے ان کی تعداد 64 تھی جب کہ  53 افراد واپس نہیں آ سکے۔ ان میں سے 35 افراد انٹرنمنٹ سینٹرز سے بازیاب ہوئے جو 2011 میں جاری کردہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آف ریگولیشن  کے تحت قائم کیے گئے تھے۔ 16 افراد جیلوں میں مختلف الزامات کے نتیجہ میں قید تھے۔ 2 افراد مر چکے تھے اور انہیں دفنا دیا گیا تھا۔

ان کیسز کی وجہ سے کچھ بہت عجیب و غریب سوال پیدا ہو رہے ہیں۔ 2011 کے اس فاٹا ریگولیشن فاٹا کے کے پی میں شمولیت کے بعد ختم ہو گیا۔ لیکن PATA میں اسے ایک نئے قانون کے تحت قائم رکھا گیا جو کہ آئین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔  ان انٹرنمنٹ سینٹرز میں قید بہت سے لوگ کافی عرصہ قبل لاپتہ ہوئے تھے۔ سوات کے رحیم اللہ 29 دسمبر 2001 کو لاپتہ ہوئے۔ کمیشن کے ایک ڈی ایس پی آفیسر کے مطابق انہیں سوات کے علاقے پیتھون کے انٹرنمنٹ سینٹر سے بازیاب کیا گیا۔ یہ معلومات حاصل کرنا مشکل ہے کہ کسی قیدی کو کب لایا گیا ، کیوں لایا گیا اور 18 سال تک اس کے خاندان کو اس کے بارے میں کیوں مطلع نہ کیا جا سکا۔ اگر کسی قیدی کو بہت سنجیدہ جرم کے عوض حراست میں لیا گیا ہو تو بھی اس کے خاندان کے افراد کو بے خبر رکھ کر سزا دینے  اور انہیں قانونی طریقہ اختیار کر کے اپنے ساتھی کی رہائی کی کوشش سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔

اسی طرح فرمان الہ  جس کا تعلق مہمند ایجنسی سے تھا اکتوبر 2010 میں لاپتہ ہوا۔ ایک ایف سی آفیسر نے کمیشن کو بتایا کہ وہ گالانئی کے ایک انٹرنمنٹ سینٹر میں حراست میں تھے اور انکے والد کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی تھیں۔ انہیں  اس بات کا 8 سال بعد پتا چلا۔  جو لوگ جیل سے بازیاب ہوئے ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن کا ٹرائل ملی کورٹ میں ملتوی ہو چکا تھا  جس کی وجہ فوجی عدالتوں کے قانونی حیثیت میں 6 جنوری کے بعد توسیع نہیں ہوئی تھی۔ اس گروپ میں امیر زیب بھی شامل تھے جن کو تعلق لوئر دیر سے تھا اور 2013 میں لا پتہ ہوئے تھے۔ ملٹری انٹیلی جنس نے کمیشن کو مطلع کیا تھا کہ انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی (وقت اور جرم کا نہیں بتایا گیا) اور انہیں کوہاٹ ڈسٹرکٹ جیل میں رکھا گیا ہے۔ مارچ اپریل کے اس دورانیہ میں جو 64 لاپتہ افراد واپس آئے  ان کا معاملہ بھی جانچ پڑتا ل کا متقاضی ہے۔ سب سے بڑے گروپ میں وہ لوگ شامل تھے  جن کی بازیابی  کی خبر خفیہ ایجنسیوں، پولیس افسران اور ایگزیکٹو آفیسرز  نے دی تھی۔ ان لاپتہ افرا د کے رشتہ داروں جنہوں نے ان کی واپسی کی تصدیق کی ہے نے ان افراد کے بارے میں تفصیل بتانے سے گریز کیا اور صرف اس دورانیہ کے بار ے میں بتایا جو انہوں نے غائب رہ کر گزارا۔ یہ دوارانیہ 4 سے 14 سال تک محیط تھا۔ بہت سے بازیاب افراد کمیشن میں پیش ہوئے  لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ کچھ نے بتایا کہ وہ کہیں گئے ہوئے تھے  (مثال کے طور پر تبلیغ کرنے) جب کہ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں نا معلوم افراد نے اٹھا لیا تھا  اور کسی نا معلوم جگہ پر اتنا عرصہ رکھنے کے بعد انہیں رہا کر دیا۔

ایک ایسا اقدام جس میں لوگوں کو لاپتہ کرنے والوں کی شناخت کا عنصر شامل نہ ہو  اور جو متاثرین کو تلافی کی بنیاد بھی سامنے نہ  لا سکے وہ انکوائری  کی تضحیک ہے۔ ادارے کی ذمہ داریاں جیسا کہ اس کی فارمیشن کے نوٹیفیکیشن میں بیان کی گئی ہیں، مندرجہ ذیل ہیں: افراد کو لاپتہ کرنے والے لوگوں اور تنظیموں کا تعین، ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج، لا انفورسمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کاروائی کے اصول و ضوابط کا تعین، جس کے ذریعے کسی ذمہ دار کو گرفتار کر کے حراست میں لیا جا سکے ۔ اگر کمیشن نے یہ ساری ذمہ داریاں پوری کی ہوتیں تو متاثرہ خاندانوں کی تکلیف بہت کم ہو جاتی۔ لیکن اس ناگفتہ بہ صورتحال کا ذمہ دار صرف یہ ادارہ  ہی نہیں ہے۔ کمیشن کے پاس ذرائع کی کمی ہے۔ اسے ضرورت کے مطابق وسائل اور افرادی قوت میسر نہیں ہے۔ اس کا کوئی سربراہ بھی موجود نہیں کیونکہ اس کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال  اکتوبر 2017 سے نیب کے چئیرمین بن چکے ہیں  لیکن انہوں نے اس کمیشن کی سربراہی سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ طاقت ور حلقے اس سلسلے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ سول سوسائٹی بھی  اس دیو سے دوری اختیار کرنے میں ہی خیر سمجھتی ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ یہ مطالبہ کرے کہ ایکٹوسٹ اور جرنلسٹ زینت شہزادی جس کی بازیابی کا جاوید اقبال نے دعوی کیا تھا کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ سب سے آخری نکتہ یہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر جبری گمشدگی کو ایک جرم ڈیکلیئر کرنے کے لیے اقدامات کرے اور اس معاملے میں اقوام متحدہ کے  تیار کردہ اصو ل وضوابط کو نافذ کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *