ایک غیر سیاسی لطیفہ

دوکان کا نام بڑا دل لبھانے والا تھا شاید یہ دل لبھانے والا لفظ بھی اس کے لئے مناسب نہ ہو۔ انگریزی میں ایک لفظ ہے Attractive شاید یہ لفظ زیادہ موزوں ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی دوکان کے نام کی۔ یہ تھا Smart and Final۔ اب اس کا مفہوم کیا تھا؟اللہ جانے دوکان دار نے کیا سوچ کر رکھا ہوگا تاہم اس کے کم از کم درجنوں مفہوم اور مطالب نکالے جا سکتے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی صوابدید پر ہے۔ اب سمارٹ کو ہی لے لیں۔ اس کو درجنوں صورتحال میں مختلف مفہوم کے ساتھ استعمال کر لیں۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی اخبار نویس نے سوال کیا کہ اس نے ٹیکس اتنا کم کیسے دیا؟۔ آگے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے (تب وہ صدارتی مہم چلا رہے تھے اور ابھی الیکشن نہیں ہوا تھا) اس سوال کرنے کو نہایت ہی استہزائیہ نظروں سے دیکھا۔ پھر مسکرائے اور پھر ایک تاریخی جملہ کہا۔ Bacause I am smart (کیونکہ میں سمارٹ ہوں) اب آپ خود بتائیں جب ٹیکس چور خود کو ٹیکس چوری کرنے پر سمارٹ قرار دے تو پھر اس لفظ کے دیگر معانی کو کہاں تک گھسیٹا جا سکتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
لفظ فائنل کا بھی یہی حال ہے۔ میں نے گاڑی چلاتے ہوئے شفیق سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس دوکان کے نام کا کیا مفہوم ہے؟۔ آگے سے شفیق کہنے لگا۔ خالد بھائی! اس بات کو چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ اگر میں نے مفہوم بتایا تو آپ کہیں گے کہ میں سیاسی گفتگو کر رہا ہوں۔ میں نے کہا‘ تم اس دوکان کا مطلب پاکستانی سیاسی تناظر میں بیان کرنے کے بجائے امریکی تناظر میں بیان کر دو تو تمہیں اور مجھے دونوں کو خاصی آسانی رہے گی۔ شفیق مسکرایا اور کہنے لگا۔ امریکی حساب سے اس کا مطلب یہ کہ شاندار اشیائے ضرورت بس یہیں سے مل سکتی ہیں۔ یہاں فائنل سے مراد یہ نہیں کہ ان اشیاء کی قیمتیں فائنل یا حتمی ہیں بلکہ وہ جو کہتے ہیں ناں کہ یہ چیز تو بس ''اخیر ‘‘ ہے، یعنی اس پر تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے تو اس کا میرے حساب سے یہ مطلب نکلتا ہے، باقی وہ جو فارسی کی کہاوت ہے کہ ''فکر ہر کس بقدر ہمت اوست‘‘ یعنی ہر کسی کی سوچ اس کی اپنی ہمت اور اہلیت کے مطابق ہوتی ہے تو ممکن ہے وہ سامنے کھڑا ہوا امریکی اس کا کوئی اور مطلب بتا دے۔ تاہم یہ نام اپنے اندر مثبت مفہوم کو لئے ہوئے ہے۔
میں نے کہا شفیق! یہ لفظ ''فائنل‘‘ اپنے اندر تھوڑا تحکم اور تھوڑی زبردستی کا عنصر لئے ہوئے معلوم نہیں ہوتا؟ جیسے کہہ رہا ہو کہ ''میں ہی حرف آخر ہوں‘‘ یا یہ کہ اس کے آگے اور کوئی بات نہ کریں۔ شفیق کہنے لگا‘ بھلا دوکان داری میں کیا زبردستی ہو سکتی ہے۔ میں نے کہا کیوں نہیں ہو سکتی۔ اب مجھے کتاب کا نام وغیرہ تو ٹھیک سے یاد نہیں۔ شاید یہ ''آوارہ گرد کی ڈائری‘‘ یا ''دنیا گول ہے‘‘ تھی۔ بہرحال یہ ابن انشا مرحوم کی ہی کوئی کتاب تھی۔ وہ غالباً کابل میں تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ وہ بازار میں گھوم پھر رہے تھے کہ ان کے پاس ایک لحیم شحیم خان صاحب آئے اور اپنا کندھے پر لٹکایا ہوا تھیلا ان کے سامنے رکھ کر کہنے لگے‘ خو ہمارے پاس ہینگ ہے۔ خریدو گے؟۔ ابن انشا نے کہا‘ خان صاحب! مجھے ہینگ درکار نہیں ہے۔ خان صاحب کو جلال آ گیا۔ کہنے لگے‘ خو اَم تمارے پیچھے کتنی دیر سے آ رہا ہے۔ اب تم کہتا ہے کہ تم ہینگ نہیں خریدو گے۔ تم یہ ہینگ کیسے نہیں خریدے گا۔ اَم تمارا نوکر ہے؟ اتنی دور سے تمارے پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔ اب اسے خریدو۔ ابن انشا کہتے ہیں‘ ہم نے خان صاحب کا ڈیل ڈول اور تیور دیکھے۔ پھر اپنی صحت کی طرف نظر کی اور پھر ہم نے ہینگ خریدنے کا ارادہ کر لیا۔ اور خان صاحب سے بلا ضرورت ہینگ خرید لی۔
پھر میں نے شفیق سے کہا کہ اس دوکان کے نام سے سیاسی گفتگو کا کیا جواز بنتا ہے جو تم کہہ رہے تھے کہ اس سے جو مطلب تم بیان کرو گے وہ سیاسی ہو جائے گا۔ شفیق کہنے لگا‘ خالد بھائی! آپ رہنے ہی دیں۔ اب آپ صرف مزے لینے کے لئے یہ بات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا‘ نہیں میں سنجیدہ ہوں اور اپنی معلومات میں اضافے کی غرض سے پوچھ رہا ہوں۔ شفیق کہنے لگا‘ جیسے اب ہمارے موجودہ حکمران سمارٹ ہیں۔ میں نے کہا‘ کس حساب سے؟۔ وہ کہنے لگا‘ دیکھنے میں بھی اور عملی طور پر بھی۔ میں نے کہا‘ دیکھنے والی بات تو سمجھ میں آتی ہے‘ یہ عملی طور پر بھی سے کیا مراد ہے؟۔ وہ کہنے لگا‘ اب دیکھیں موجودہ حکمرانوں کو یہ پتا ہے کہ حکومت چلانے کے لئے کس کس کو خوش رکھنا ضروری ہے اور کس کس کی ٹکے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا جس کو خوش رکھنا ضروری ہے‘ وہ اسے خوش رکھ رہے ہیں اور جس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس کی انہیں واقعتاً کوئی فکر نہیں۔ ان کی حکومت ٹھیک چل بھی رہی ہے اور مزید چلتی بھی رہے گی۔ یہ ساری اے پی سی وغیرہ اپوزیشن نے صرف اپنا رانجھا راضی کرنے کے لئے کی ہے۔ اپنی دل کی تسلی کی غرض سے کہ ہم کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ اس ساری بھاگ دوڑ سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ ہمارے ہاں نتیجہ ایسے نہیں نکلا کرتا۔
میں نے پوچھا‘ نتیجہ کیسے نکلتا ہے؟ وہ ہنسا اور کہنے لگا‘ آپ کو پتا مجھ سے زیادہ ہے لیکن آپ صرف چسکے لینے کی غرض سے بھولے بن جاتے ہیں۔ میں نے کہا‘ اچھا یہ تو بتا دو کہ وہ کون ہیں جن کی ٹکے کی پروا نہ بھی کریں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شفیق کہنے لگا‘ اس کا بھی آپ کو بخوبی پتا ہے لیکن پھر بھی عرض کر دیتا ہوں کہ یہ پاکستانی عوام ہیں۔ آپ ہیں۔ آپ جیسے دیگر کروڑوں لوگ ہیں جن کی پروا کریں یا نہ کریں حکومتوں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سو میرے بھائی! ہمارے موجودہ حکمران سمارٹ ہیں۔ میں نے کہا‘ اور پہلے والے؟ وہ کہنے لگا‘ جب تک سمارٹ تھے اور اپنی سمارٹ نیس دکھاتے رہے‘ چلتے رہے۔ جب اوور سمارٹ ہونے لگے یا حماقت کرنے لگے‘ آپ جو بھی کہہ لیں تو پھر گھر چلے گئے۔ میں نے کہا‘ تمہارا مطلب ہے کہ اس ساری تبدیلی میں ووٹ کی کہیں کوئی جگہ نہیں نکلتی؟۔ الیکشن کا کوئی کردار نہیں؟۔ وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے کہا‘ تمہاری یہ خاموشی بتاتی ہے کہ تمہارے نزدیک یہ اکثریتی ووٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور تم محض میرے احترام میں صرف خاموشی سے کام چلانا چاہتے ہو۔ تم ایک عرصے سے امریکہ میں ہو اور تمہیں چیزوں کا اس طرح علم نہیں ہے جس طرح وہ پاکستان میں چل رہی ہیں۔ تمہاری پہلی بات میں کسی حد تک حقیقت ہے لیکن یہ بات جان لو کہ مقتدر حلقوں کا الیکشن والے دن یعنی پولنگ ڈے پر کردار نہ ہونے کے برابر ہے‘ بلکہ یوں سمجھو صفر ہے۔ میں پولنگ والے دن کی بات کر رہا ہوں۔ اس سے پہلے کی نہیں۔
شفیق نے مجھے ٹوکا اور کہنے لگا‘ ان باتوں کو چھوڑیں اور ایک انتہائی غیر سیاسی لطیفہ سنیں۔ ایک بچہ امتحان میں بری طرح فیل ہو گیا۔ باپ نے ڈانٹ ڈپٹ کی تو بچے نے اپنے باپ کو بتایا کہ اس کے فیل ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے جو بچہ اس کی کرسی پر بیٹھا کرتا تھا وہ بہت زیادہ نالائق تھا۔ یہ کہہ کر شفیق نے مجھ سے پوچھا۔ خالد بھائی! کافی پئیں گے؟۔
شفیق نے مجھے ٹوکا اور کہنے لگا‘ ان باتوں کو چھوڑیں اور ایک انتہائی غیر سیاسی لطیفہ سنیں۔ ایک بچہ امتحان میں بری طرح فیل ہو گیا۔ باپ نے ڈانٹ ڈپٹ کی تو بچے نے اپنے باپ کو بتایا کہ اس کے فیل ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے جو بچہ اس کی کرسی پر بیٹھا کرتا تھا وہ بہت زیادہ نالائق تھا۔ یہ کہہ کر شفیق نے مجھ سے پوچھا۔ خالد بھائی! کافی پئیں گے؟
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *