خلع کاصوابدیدی حق غیرشرعی ہے، عدالتیں شوہر کی مرضی کے بغیر طلاق نہ دیں: مولانا شیرانی

sheraniاسلام آباد : اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کے خلع کے حق کو خاوند کی رضامندی سے مشروط کرنے کی سفارش کر دی، بچے کی پیدائش کیلئے کرائے کی کوکھ کا استعمال بھی غیر اسلامی قرار دیدیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے ایک بار پھر عیجب منطق پیش کرکے نیا پنڈورا باکس کھول دیا، محمد خان شیرانی کے نزدیک عورت اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس سے متعلق انہوں نے عقل سے بالا تر طریقوں کی سفارش کردی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کا خلع کا صوابدیدی حق، غیرشرعی قرار دیدیا،نہ صرف یہ بلکہ طلاق کیلئے خاوند کی رضامندی بھی لازم قرار دے دی،جب کہ مسلم فیملی لاء کی شق آٹھ میں ترمیم کی سفارش بھی کرڈالی۔ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کہتے ہیں جب تک خاوند طلاق کیلئے راضی نہ ہو عدالتیں خواتین کو خلع نہ دیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے خواجہ سرا کیلئے مخنث کا لفظ استعمال کرنے کی بھی ممانعت کردی، خواجہ سرا سے متعلق محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا کیلئے مخنث کا لفظ استعمال نہ کیا جائے، مرد کے اثرات والے بچے کو مرد اور عورت کے اثرات والے بچے کو عورت قرار دیا جائے۔ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کیلئے متبادل ماں کا رحم کرائے پر حاصل کرنا غیرشرعی فعل ہے،متبادل ماں کے ذریعے بچہ پیدا نہیں کیا جا سکتا، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *