مہنگائی،ویل،چیک گوشت اور وڈیو گوشت

آپ کے قیمتی وقت کا خلوصِ دل سے احترام کرتے ہوئے آغاز ہی میں بتائے دیتا ہوں کہ میں آج کے کالم میں ہفتے کے روز دھماکے کے ساتھ رونما ہوئی وڈیو کے بارے میں کوئی تجزیہ نما شے لکھنے نہیں جارہا۔

پاکستان پر ان دنوں ہر شخص کی نیت پر شبہ کرنے کا عذاب نازل ہے۔ صحافیوں کی اکثریت ’’لفافہ‘‘ ٹھہرائی جاچکی ہے۔ان کے لکھے اور کہے الفاظ کا بھروسہ نہیں رہا۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی خود کو یہ کہنے پر مجبورپاتا ہوں کہ مجھے کہیں سے مذکورہ وڈیو کو نظرانداز کرنے کی ہدایت نہیں ملی۔ بہت غور کے بعد اس کے بارے میں گفتگو نہ کرنے کا فیصلہ قطعاََ ذاتی ہے۔

بنیادی وجہ اس فیصلے کی یہ ہے کہ آج سے چند ہفتے قبل بھی بہت دھوم دھام کے ساتھ ایک وڈیو عیاں ہوئی تھی۔ اس وڈیو کو منظرعام پر لانے والے ’’لفافہ‘‘ بھی نہیں تھے۔اس ملک کو ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ سے پاک کرنے کی مہم میں جتی حکومت کے ایک بلامعاوضہ کام کرنے والے معاونِ خصوصی کا کردار اس ضمن میں مبینہ طورپر کلیدی ٹھہرایا گیا تھا۔ شاید اسی باعث انہیں بلامعاوضہ خدمات کی فراہمی سے روک دیا گیا۔

140کے قریب اراکین کی بھاری بھر کم تعداد کے ساتھ قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے رہ نمائوں نے یکسوہوکر عہد کیا کہ وہ حکومت کو ایک ایسے پارلیمانی کمیشن کے قیام پر مجبور کردیں گے جو مذکورہ وڈیو کے ’’مستند‘‘ ہونے کا پتہ چلائے۔ اگر وہ سچ پر مبنی قرار پائے تو یہ جاننے کی کوشش ہوکہ اسے منظر عام پر لانے کا ’’فیصلہ‘‘ کیوں اور کہاں ہوا۔

جس وڈیو کا میں ذکر کررہا ہوں اس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوان تقریباََ ایک ماہ تک عمران حکومت کے دئیے پہلے بجٹ پر مباحثے میں مصروف رہے۔ دونوں ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین لفظی جنگ کئی بار گلیوں اور محلوں میں لونڈے لپاڑوں کے درمیان گھونسہ بازی کے قریب جاتی محسوس ہوئی۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے وڈیو کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے ایوان میں تقاریر فرمائیں۔ ایک دوبار بطورقائد حزب اختلاف شہباز شریف صاحب نے بھی ’’پوائنٹ آف آرڈر‘‘کا سہارالیتے ہوئے اس مطالبے کو دہرایا۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی والا قصہ ہوگیا۔

میں دیانت داری سے اصرار کرتا ہوں کہ ہفتے کے روز عیاں ہوئی وڈیو وسیع تر تناظر میں اس سے قبل عیاں ہوئی وڈیو کے مقابلے میں نسبتاََ ’’ہلکی‘‘ ہے۔ اس کے ذریعے ہوئے دعوے کی تصدیق یا تردید کے لئے اگرچہ مجھے اعتماد بخشنے والے حقائق تک رسائی حاصل نہیں۔

قانونی نکات میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ سیاست کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے البتہ شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ہفتے کے روز برسرِ عام لائی وڈیو کو عدالتی تحقیق کی زد میں لانے کی کوشش کرنا ہوگی۔پریس کانفرنسیں اور جلسوں میں ہوئی تقاریر اس ضمن میں کارآمد نہ ہوں گی۔

ہفتے کے روز منظرِ عام پر لایا وڈیو عدالتی توجہ نہ حاصل کرپایا تو رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوجائے گا۔’’خلقتِ شہر‘‘ کو ویسے بھی ایک شعر کے مطابق نت نئے ’’فسانے‘‘ کی طلب ہوتی ہے۔وڈیوز ویسے بھی فقط ایک فریق کے پاس نہیں ہوتیں۔ وڈیوز کو عیاں کرنے کے لئے جنگ چھڑگئی تو نہلے کے جواب میں دہلے آجائیں گے۔ نہلہ پہ دہلہ والی لڑائی میں سب سے تگڑا ’’پروڈکشن ہائوس‘‘ جیت جائے گا۔

وڈیوز کے ذریعے نہلے پہ دہلے آتے رہے تو میں اس کالم میں آپ کو ہرگز نہیں بتاپائوں گا کہ 14ہزا روپے ماہوار تنخواہ لینے والے ڈرائیور کا جو اپنی بیوی اور ایک بچی سمیت اسلام آباد کے نواحی علاقے میں تین ہزار روپے ماہوار کرائے والے ایک کمرے میں رہتا ہے اس ماہ بجلی کا بل چھ ہزار روپے آیا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ بل ادا کرنے کے بعد وہ باقی بچے آٹھ ہزار روپے سے پورا مہینہ کیسے چلائے۔

بجلی کے بل سے فقط 14ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ لینے والا ڈرائیور ہی پریشان نہیں ہوا۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے لئے کام کرنے والے صاحب سے بھی ملاقات ہوگئی۔ ان کی تنخواہ سے حکومت کا عائد شدہ ٹیکس ان کا چیک تیارہونے سے پہلے کاٹ لیا جاتا ہے۔ان کے اکائونٹ میں اوسطاََ سوا دو لاکھ روپے ماہوارجمع ہوتے ہیں ۔ موصوف کے بیمار اور بوڑھے والدین ہیں ۔ تین بچے ہیں ،وہ سب اچھی تعلیم کیلئے نجی سکول جاتے ہیں حبس کے اس موسم میں لگے دو ایئرکنڈیشنرز چلانے کو مجبور ہے۔ اس کا بل 62ہزار روپے تھا۔

یہ صاحب مجھے جب بھی ملے سیاست دانوں سے جڑی جھوٹی سچی کرپشن کہانیاں سناکر محفل میں رونق لگایا کرتے تھے۔ انہیں ’’جب آئے گا عمران‘‘ کا بہت شدت سے انتظار تھا۔ حالیہ ملاقات میں بجلی کے بل،بچوں کی فیس، پیٹرول کی قیمت اور گھریلو اخراجات کا فکر مندی سے تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہنے کو مجبور ہوگئے کہ بچوں کو اب برگر کھلانے گھر سے ہر ماہ دو تین بار باہر لے کر جانا ناممکن ہوجائے گا۔ فکر انہیں یہ بھی لاحق تھی کہ ان کا ادارہ کہیں ’’چھانٹی‘‘ کرنے کو مجبور نہ ہوجائے اور وہ خدانخواستہ اس کی زد میں نہ آجائیں۔

میں پریشان ہوئے اس نسبتاََ جواں سال مڈل کلاس پروفیشنل کو تسلی نہ دے پایا۔ جھوٹے دلاسے دینے کی عادت نہیں۔اتنے برس گزرجانے کے بعد بھی کسی دوست یا عزیز کے ہاں کوئی موت ہوجائے تو پرسہ دینے کا ڈھنگ نہیں سیکھ پایا۔ فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھانے کے بعد خاموش بیٹھا رہتا ہوں۔

ہماری معیشت کو ’’مستحکم‘‘ کرنے کے لئے IMFنے جو نسخہ دیا ہے اسے تین برس تک استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس نسخے میں بجلی کے بلوں جیسی ’’کڑوی گولیاں‘‘ ہیں مگر آمدنی بڑھانے کی کوئی امید نہیں دلائی گئی۔سوال اٹھتا ہے کہ بجلی کے بلوں سے بلبلائے ڈرائیور یا مڈل کلاس پروفیشنل کی پریشانی کا نہلے پہ دہلہ کی صورت نمودار ہوئے وڈیوز کس نوعیت کا مداوا فراہم کرسکتے ہیں۔

مداوا سے یاد آیا کہ میرے لاہور کے ایک اداکار ہوا کرتے تھے -دلجیت مرزا-بہت طرح دار آدمی تھے۔ کامیڈین کے طورپر متعارف ہوئے۔ بعدازاں فلم ساز اور ہدایت کار بھی ہوگئے۔ غلام علی خان کا ’’پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نے تکیا‘‘ والا گانا شاید ان ہی کی ایک فلم کے ذریعے مشہور ہوا تھا۔ ان کی بنائی فلمیں مگر باکس آفس پر ناکام ہوتی رہیں۔ اپنی فلموں میں کام کرنے والے چھوٹے اداکاروں کو معاوضہ ادا نہ کرپاتے تھے۔

لاہورہی کے ایک نسبتاََ غیر معروف کامیڈین ،امداد، بھی ہوا کرتے تھے۔ فلمی حلقوں میں ’’دادومیراثی‘‘ کہلاتے تھے۔ایک دن وہ مرزا صاحب کے دفتر میں بیٹھے فریاد کناں تھے کہ ان کے ہاں فاقہ کشی طاری ہے۔ کوئی صورت نظر نہیں آرہی کہ آج چولہا جلاکر اس پر کیا پکایا جائے۔ اسے ’’نذز اللہ نیازحسین‘‘ کچھ رقم دی جائے۔ اگرچہ اصولی اعتبار سے مرزا صاحب بے چارے امداد کے ان کی فلم میں کام کرنے کی وجہ سے مبلغ پانچ ہزار روپے سکہ رائج الوقت کے مقروض تھے۔

مرزا صاحب اسے مسلسل ٹالتے رہے۔ بالآخر زچ ہوکر انہوں نے کہا کہ وہ اسے چیک کی صورت کچھ رقم لکھ دیتے ہیں۔ امداد کو جبلی طورپر ’’چیک‘‘ کی حقیقت معلوم تھی۔ بے ساختہ پکاراُٹھا:’’مرزا صاب میں اپنے گھر والی کو چیک گوشت پکانے کو تومجبورنہیں کر سکتا‘‘۔ دادو کی بے ساختہ اور تخلیقی جگت نے مرزا صاحب کے دفتر میں موجود افراد کو قہقہے لگانے پر مجبور کردیا۔ نام یاد نہیں آرہا مگر ان میں سے ایک صاحبِ دل نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دادو کو شاید ’’ویل‘‘ کی صورت کچھ رقم دے کر ’’داد‘‘ دی۔

جانے کیوں یہ کہنے کو جی چاہ رہا ہے کہ نہلے پہ دہلہ کی صورت نمودار ہوتے ہوئے وڈیوز کی بحث میں اُلجھ کر میں اپنے قارئین کو ’’وڈیوگوشت‘‘ پکانے کی راہ پر لگانے کی کوشش کروں گا۔ میرے لئے یہ ویسے ممکن بھی نہیں کیونکہ میں دادو جیسے تخلیقی ذہن کا مالک نہیںہوں۔ ایک سطر لکھنے کے لئے بھی سوبار سوچنا پڑتا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *