ایاز امیر۔ کالم نویسی سے ڈرامہ نگاری تک

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

ایاز امیر۔ کالم نویسی سے ڈرامہ نگاری تک

خامہ بدست کے قلم سے
جناب ایاز امیر کی کالم نویسی تو مسلّمہ ہے لیکن اب ان کی ڈرامہ نگاری کی صلاحیت بھی ما شاء اللہ سامنے آنے لگی ہے۔ اس میں ”مشق“ جاری رکھیں تو شاید آغا حشر کے بعد اردو ڈرامہ نویسی میں ان کا نام آنے لگے۔ جمعہ کے ا خبارات میں چند سطری خبر چھپی جس کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف سے وہ گاڑی واپس لے لی گئی ہے، جو کسی بھی سابق وزیر اعظم کو ملنے والی قانونی مراعات میں شامل تھی اور اس کے لیے جواز یہ بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم کے جیل میں ہونے کے باعث، یہ گاڑی ان کے زیر استعمال نہیں رہی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اسے جاتی امرا سے ”مالِ مسروقہ“ کی برآمدگی قرار دیا مسلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلعات مریم اورنگ زیب نے جواب دینے میں تاخیرنہ کی، ان کا کہنا تھا: فردوس باجی لوگوں کو سچ بتائیں، قانون کے مطابق ہر وزیر اعظم کو ایک بلٹ پروف گاڑی حفاظت کے لیے دی جاتی ہے جو آپ نے زبردستی وا پس لے لی۔ یہ آپ کے لیے فخر کا نہیں، شرم کا مقام ہے۔ بعد میں موصولہ خبر کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی بی ایم ڈبلیو گاڑی کابینہ ڈویژن نے واپس لے لی۔

یہ بھی پڑھیے

ایاز امیر صاحب کا کالم: حقائق یہ ہیں

متانت اور حب الوطنی کا نیا معیار،شریفوں کو گالی

نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!
نواز شریف کا سفرِ مدینہ اور کالم نگار

”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

ہمارے پسندیدہ کالم نگار ایاز امیر نے اس ”سیدھی سادی“ کارروائی کو ”دنیا“ میں اپنے تازہ کالم”اتنا رونا بنتا نہیں ہے“ میں اس طرح ڈرامائی رنگ دیا:”ساری گرفتاریوں سے زیادہ انوکھی بات تو سرکاری مرسیڈیز کی جاتی امرا سے برآمدگی ہے۔ اندازہ لگائیے کہ کب سے وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہوئے لیکن یہ سرکاری گاڑی قبضے میں رکھی ہوئی تھی، یہ تو کیبنٹ ڈویژن کو زبردستی کرنی پڑی کہ مع حکام اور پولیس کے جاتی امرا جانا پڑا اور کارکو برآمد کیا۔ نہیں، تو جاتی امرا والے دبائے بیٹھے تھے۔
یہاں ڈرامے میں قدرے جھول رہ گیا، وہ یہ ”آئٹم“ بھی ڈال دیتے تو سنسنی میں اضافہ ہوجاتا کہ جب کیبنٹ ڈویژن کے حکام مع پولیس کے جاتی امرا گئے تو انہیں شریف فیملی کی طرف سے باقاعدہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں مریم نواز پیش پیش تھیں۔ ان پر قابو پانے کے لیے لیڈیز پولیس کو بلانا پڑا۔ اس دورا ن عظمیٰ بخاری بھی مسلم لیگ متوالیوں کے ساتھ مسلح ہو کر شاہدرہ سے جاتی امرا پہنچ گئی۔لیکن معاملہ ہوائی فائرنگ اور لاٹھی بازی سے آگے نہ بڑھا۔ سرکاری امور میں مداخلت اور مزاحمت پر مریم نواز اور عظمیٰ بخاری سمیت جملہ ”مزاحمت کاروں“ کے خلاف مقدمے کا اندراج، وزیر اعلیٰ بزدار کے معاون خصوصی شہباز گل کی مداخلت پر روک دیا گیا۔ انہیں یہ ہدایت بنی گالہ سے ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

نوازشریف کے ”لایعنی“ ٹیسٹ اور کالم نگار

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

ٹیکس ایمنسٹی سکیم۔۔ حقائق یہ ہیں کہ۔۔

موصوف مزید لکھتے ہیں: ”شریفوں کی تو پوری آ بیاری مخصوص گملوں میں ہوئی ان کی پنیری بنا کر انہیں گملوں میں ڈالا گیا اور پھر انہیں دھوپ چھاؤں سے بچاتے ہوئے تندرست وتوانا کیا گیا۔ اور جب یہ تناور درخت بن گئے، تو آپ نے بھی اڑان بھری اور اس کی ایک شاخ پر آبیٹھے۔ 1997کے الیکشن میں آپ نے ان ہی شریفوں کی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا (اور کامیاب ہوئے) 12اکتوبر1999کی کارروائی کے بعد، آپ جنرل مشرف کے چہیتوں میں شمار ہونے لگے اور پی ٹی وی پر جنرل نقوی کے تیار کردہ بلدیاتی نظام کی پروجیکشن میں شامل ہوگئے۔ 10اکتوبر2002کے الیکشن کے لیے آپ نے ایک بار پھر شریفوں کا ٹکٹ حاصل کرلیا اور قومی اسمبلی کا الیکشن چند سو ووٹوں سے ہار گئے۔2008میں آپ نے پھر قومی اسمبلی کے لیے شریفوں کا ٹکٹ حاصل کیا۔ آپ کا حلقہ ان چند حلقوں میں شامل تھا جہاں نوازشریف نے انتخابی جلسہ کیا۔ اس بار آپ جیت گئے۔2013میں آپ پھر شریفوں کے ٹکٹ کے خواہش مند تھے لیکن اس بار آپ ٹکٹ حاصل نہ کرسکے(اس کی وجوہات آپ خود جانتے ہیں) جہاں تک الزامات کا تعلق ہے، تو آپ خود بھی اس کا نشانہ بن چکے ہیں (اور آپ کا دعوےٰ تھا کہ یہ شرمناک الزام آپ کے سیاسی مخالفین کی سازش ہے)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *