حکومت نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، چیئرمین ایف بی آر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اگر کوئی ایسا نیا ٹیکس لگایا ہے تو بتایا جائے اسے واپس لیا جائے گا۔

فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں ایک سے 15 گریڈ تک تبادلے ہوئے ہیں، جو معمول کے مطابق ہیں، نیا ایف بی آر ضرور بنے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نئے لوگ یا عمارت ہوگی بلکہ وہیں لوگ ہوں گے جو اس میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی فرد ہراساں کرنے یا کرپشن میں ملوث ہوگا اسے کسی بھی حال میں کسی بھی ادارے میں نہیں ہونا چاہیے مگر اس کا موثر علاج آٹومیشن ہے۔

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہم چھاپے نہیں ماریں گے، ابھی جو سب ہورہا وہ چھاپے نہیں بلکہ سخت چیکنگ ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو خودکار طریقے سے کرنے جارہے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے ایف بی آر میں نظام کو خودکار کردیا جائے گا اور اس ذاتی تعلق کو کم کیا جائے گا، اس کے علاوہ آڈٹ کی تعداد کو کم کیا جائے گا۔

اس موقع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کو بہت بڑی سہولت دی ہے اور 2018 کے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں بھی 2 اگست تک توسیع کردی گئی ہے۔

نئے ٹیکسز کے اعلان اور تاجر تنظیموں کی ہڑتال سے متعلق سوال پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی نیا ٹیکسز نہیں لگایا، مجھے بتائیں کہ ہم نے کونسا نیا ٹیکس لگایا، سیلز ٹیکس میں کہیں اضافہ نہیں ہوا بلکہ صرف چینی کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ نیا ٹیکس لگایا ہے یہ غلط ہے، ہم نے ٹیکسٹائل کے شعبے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، برآمدی شعبہ پہلے بھی ٹیکس چھوٹ میں تھا جبکہ مقامی شعبے میں پہلے سے ٹیکس عائد تھے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نظام کو صحیح کرنے کے لیے جو تبدیلی کی گئی، اس میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں ہیں، شناختی کارڈ کی شرط پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے جو صرف سیلز ٹیکس کے لیے ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ لوگوں نے چیزوں کو بہت بڑھا چڑھا دیا ہے، ہوسکتا ہے اس کی وجہ ہماری خامی ہو کہ ہم نے بہتر طریقے سے آگاہی نہیں دی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ٹیکس جمع کرنے کا سب سے آسان طریقہ سیلز ٹیکس کو 17 سے بڑھا کر 18 یا 19 فیصد کرنا تھا مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، اس حکومت نے اس بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا اگر لگایا ہے تو بتائیں وہ ٹیکس واپس لینے کو تیار ہیں۔

مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافہ ہے، مہنگائی کے حل کے لیے صنعتی ترقی اور روزگار کو بڑھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی بڑی وجہ مڈل مین کا کردار ہے، کیونکہ مڈل مین امیر سے امیر تر ہورہا ہے، جسے کم سے کم کرنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *