جج ارشد ملک سے جنرل آصف نواز تک

مریم نواز کی گزشتہ پریس کانفرنس کی طرح‘ اس بار بھی ''پُراسراریت‘‘ کا عنصر موجود تھا۔ ہفتے کی سہ پہر تین بج کر 22منٹ پرمریم اورنگ زیب صاحبہ کی کال تھی‘ وہی سوال‘ کیا آپ لاہور میں ہیں؟ ... تو ابھی180H کے لیے روانہ ہوجائیں۔ چار بجے ایک اور دھماکہ خیز پریس کانفرنس ہے۔''دھماکہ خیز‘‘ پر زور تھا۔ تو کیا ان کا اشارہ مریم نواز کی گزشتہ پریس کانفرنس پر ہمارے کالم کی طرف تھا‘ جس کی سرخی میں ''سنسنی آمیز‘‘ اور ''دھماکہ خیز‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے؟ موضع کا پوچھا تو جواب ملا:یہ میں نہیں بتائوں گی اور پھر ہنستے ہوئے کہا: اس پر میںUnder Oathہوں۔ اور اس کے ساتھ کال کٹ گئی۔انہیں باقی میڈیا کو بھی اطلاع کرنا تھی اور چار بجنے میں صرف آدھ گھنٹہ تھا۔ 
گزشتہ بار سٹیج پر صرف تین کرسیاں تھیں ‘مریم کے دائیں پرویز رشید اور بائیں عظمیٰ بخاری کے لیے ۔ آج کرسیوں کی لمبی قطار تھی۔ سوا چار بجے شہبازشریف اور مریم دیگر قائدین کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔ شہبازصاحب نے مرکزی نشست سنبھالی‘ جس کے سامنے ٹی وی مائکس کا ''ڈھیر‘‘ تھا۔ ان کے دائیں شاہد خاقان عباسی‘ احسن اقبال اور رانا تنویر اور بائیں مریم نواز ‘ خواجہ محمد آصف ‘ پرویز رشید ‘ عطا اللہ تارڑ اور عظمیٰ بخاری فروکش ہوئے۔ (لگتا تھا ترتیب پہلے سے طے تھی) آغاز شہباز صاحب کی گفتگو سے ہوا۔ جو ڈیڑھ ‘ دومنٹ سے زیادہ نہ تھی۔ انہوں نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی سزا کو تین بار کے وزیر اعظم‘ ایٹمی دھماکے کرنے والے بہادر سیاستدان اور سی پیک سمیت متعدد عظیم ترقیاتی منصوبوں کے موجد کے ساتھ بدترین ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ اس حوالے سے جو ٹھوس اور نا قابل تردید نئے شواہد ملے ہیں‘ اس کی تفصیل بیٹی مریم آپ کے سامنے پیش کریں گی ۔شہبازشریف نے اپنی نشست مریم کے لیے خالی کردی اور خود مریم کی نشست پر بیٹھ گئے۔ ''کیا یہ پارٹی میں ''انتقالِ اقتدار‘‘ کا اشارہ ہے؟‘‘ہمارے پیچھے بیٹھے ایک دوست نے سرگوشی کی۔ مریم نے جو کچھ کہا اور اس کے ساتھ53منٹ کی ویڈیو‘ ٹی وی چینلز کے ذریعے دنیا کے سامنے آچکی۔مریم اورنگ زیب غائب تھیں‘ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ میڈیا مانیٹرنگ میں مصروف تھیں اور خوش تھیں کہ تمام نیوز چینلز نے اس پریس کانفرنس کو لائیو دکھایا تھا(جس پر پیمرا نے 21نیوز چینلز کو اگلے روز اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیئے) مریم کی گفتگو ان الفاظ کے ساتھ اختتام کو پہنچی کہ میرے پاس اس سے بھی بڑے ثبوت ہیں اور نام بھی ہیں‘ مجھے مجبور نہ کیا جائے‘ میری کسی ادارے سے لڑائی نہیں ‘ نہ میں کسی سے لڑائی کرنا چاہتی ہوں۔ شہباز صاحب اور مریم دوبارہ اپنی اپنی نشستوں پر آگئے۔ اب پھر مائک شہباز صاحب کے سامنے تھے ‘ جنہوں نے یہ کہہ کر سوالات لینے سے انکار کردیا کہ جو کہنا تھا‘ مریم کہہ چکیں اور مریم کا کہنا تھا: آج سوالات کی باری میری تھی ‘جومیں نے آپ کے ذریعے ساری قوم کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ 
اور پھر ردِ عمل کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسے ایک جعلی ویڈیو قرا ردیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان صاحبہ اس کافرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان کررہی تھیں۔ سب سے دلچسپ ردِ عمل فیاض الحسن چوہان کا تھا‘ ناصر بٹ کو جرائم پیشہ شخص قرار دیتے ہوئے ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ویڈیو جج صاحب کو نشے میں دھت کرکے بنائی گئی۔وہ جو بزرگ کہا کرتے ہیں‘ جو زیادہ بات کرتا ہے‘ غلطیاں بھی زیادہ کرتا ہے۔ پریس کانفرنس سے اگلے روز جج صاحب کے دستخطوں سے جاری کردہ پریس ریلیز کو دور کی کوڑی لانے والوں نے موضوعِ سخن بنالیا؛ حالانکہ جج صا حب نے بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ناصر بٹ اور اس کے بھائی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اعتراف کیاتھاکہ وہ ایک ہی شہر (راولپنڈی)کے رہائشی ہیں اور اس وقت سے باہم رسم وراہ رکھتے ہیں جب جج صاحب وکالت کیا کرتے تھے۔ ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کا موقف تھا کہ یہ مختلف اوقات میں ‘ مختلف مقامات پر ہونے والی ملاقاتوں کو کانٹ چھانٹ کر بنائی گئی ہے۔ (اور یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے کہ ہر ملاقات میں دونوں نے ایک ہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں)۔
بہر حال اس پر ''اجماعِ امت‘‘ ہے کہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے‘ تاکہ دود ھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ یہ جعلی قرار پائے تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔( ان کی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہوگا) پریس کانفرنس سے بنیادی خطاب مریم کا تھا ‘لیکن ان کے دائیں بائیں ‘ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت موجو دتھی‘ شہباز صاحب کی مختصر سی گفتگو کے سوا ؛ اگرچہ وہ سب خاموش رہے (صرف ایک جگہ پر احسن اقبال نے تصیح کی‘ جب مریم ''منصف‘‘ کو ''مصنف‘‘ بول گئیں) لیکن ان کی موجودگی اس بات کا اظہار تو تھی کہ وہ اس پریس کانفرنس کی ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں۔ 
یہ فرانزک پاکستان میں بھی کرایا جاسکتاہے‘ لاہور میں ''خادم پنجاب‘‘ کے دور میں جو فرانزک لیبارٹری قائم ہوئی‘ وہ دنیا کی کسی بھی معیاری لیبارٹری سے کم نہیں‘ خود کے پی کے حکومت بھی حساس معاملات کی فرانزک کے لیے اس کی خدمات حاصل کیا کرتی تھی‘ لیکن اپنے ہاں پولرائزیشن اس انتہا پر ہے کہ کوئی کسی کا اعتبار کرنے کو تیار نہیں ؛ چنانچہ یہ فرانزک کیوں نہ بیرون ملک کسی بڑے فرانزک ادارے سے کرالیا جائے؟ ہمیں یہاں جنرل آصف نواز مرحوم کا معاملہ یاد آیا۔ یہ نوازشریف کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کا دور تھا۔ دونوں میں اختلافات کی کہانیاں عام ہورہی تھیں۔ ایک انٹرویو میں اعجاز الحق نے ہمیں بتایا کہ ایک تقریب میں جنرل آصف نواز نے بریگیڈیئر امتیاز( بریگیڈیئر بِلاّ) کوچھڑی چبھوتے ہوئے کہاتھا: باز آجائو‘ تمہاری ایک ایک حرکت میرے علم میں ہے۔ جنرل کا خیال تھا کہ بریگیڈیئرامتیاز کی آئی بی ان کے ٹیلی فون ٹیپ کرتی ہے۔
8جنوری1993ء کو (اتوار کے دن) جنرل صاحب ‘ آرمی ہائوس میں اپنے کمرے میں ٹریڈمل پر ایکسرسائز کررہے تھے کہ 8بج کر25منٹ پر سینے میں تکلیف محسوس کی۔ بیگم صاحبہ نے بریگیڈیئر شامی کو فون کیا‘ وہ فوراً پہنچے اورجنرل صاحب کو سی ایم ایچ لے گئے۔ اس دوران وہ بے ہوش ہوگئے تھے۔ انجیو پلاسٹی کے ساتھ سات گھنٹے کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود جنرل صاحب تین بج کر56منٹ پر خالقِ حقیقی سے جاملے۔ تب ان کی عمر 56سال تھی۔ وہ ایک سال‘ چار ماہ اور 23دن آرمی چیف رہے۔
ان دنوں صدر غلام اسحاق خاں اور وزیر اعظم نواز شریف کے تعلقات بھی کشیدہ تھے(یہ کشیدگی وزیر اعظم کی17اپریل کی دھواں دھار تقریر اور اگلے روز صدر کے ہاتھوں ان کی برطرفی پر منتج ہوئی)اس دوران جنرل صاحب کے ورثا‘ ان کی اچانک موت کے حوالے سے پرائم منسٹر ہائوس کی طرف انگلیاں اٹھانے لگے۔ گیارہ اپریل کو بیگم صاحبہ نے پریس کانفرنس میں اپنے شوہر کی وفات کو قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں نے جنرل کو زہر دیاتھا۔ سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد‘ 26مئی کو''کاکٹر فارمولے‘‘ کے تحت ‘ وزیر اعظم اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرانے پر رضا مند ہوگئے‘ (غلام اسحاق خاں کو بھی ایوان صدر سے رخصت ہونا پڑا) انتخابی مہم کے دوران بھی یہ الزام چلتا رہا۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنرل صاحب کی کنگھی سے ملنے والے ان کے بال کا امریکہ میں ٹیسٹ کروایاہے ‘جس میں زہر کے اثرات پائے گئے ہیں؛ چنانچہ اکتوبر میں جنرل صاحب کی قبر کشائی ہوئی ۔ لاش کی باقیات سے ضروری اجزا لے کران کی اٹاپسی ہوئی اور فرانس ‘ برطانیہ اور امریکہ کے ڈاکٹروں نے زہر خوانی کے کسی امکان کو مسترد کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ‘جنرل صاحب کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی۔ یہ جنرل صاحب کیFamily diseaseتھی۔ اس وقت بے نظیر صاحبہ کی دوسری وزارتِ عظمیٰ شروع ہوچکی تھی اور یہ اعلان 13دسمبر1993ء کوخود حکومتی ترجمان نے کیا تھا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *