ایمازون کے 25 سال: کامیابی کی ایک داستان

ایمازون کے معرض وجود میں آنے کے پانچ سال بعد 1999 میں اس کمپنی کے بانی جیف بیزوس نے کہا تھا کہ ’اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایمازون ڈاٹ کام ایک کامیاب کمپنی ہو سکتی ہے۔ ہم جو کرنا چاہتے ہیں اس میں بہت پیچیدگی ہے۔‘

یہ بہت حیران کن بات ہے کہ کمپنی کے بانی اس کی کامیابی کے حوالے سے اتنی بے یقینی کا شکار تھے۔

آج 25 سال بعد ایمازون دنیا کی سب سے زیادہ قابلِ قدر کمپنیوں میں سے ایک ہے جبکہ اس کے بانی بیزوس دنیا کے امیر ترین آدمی بن چکے ہیں۔

جس کمپنی نے آن لائن کتابیں فروخت کرنے کے کام سے آغاز کیا تھا اب وہ ایک بڑا نام بن چکی ہے۔

یہ سب مرہون منت ہے اس کمپنی کی ممبرشپ سبسکرپشن، سٹورز کے قیام، سودا سلف کی فروخت، اس کے اپنی سمارٹ آلات اور ایک ایسا ڈیلیوری سسٹم کی جو صارفین تک کوئی آرڈر صرف ایک گھنٹے میں پہنچا سکتا ہے۔

ٹھوس

سو ایمازون اتنی بڑی کمپنی کیسے بن گئی؟

ایمازون کی تخلیقی صلاحیت کا مظہر اس کی موجودہ مالی حالت ہے۔

گذشتہ سال ایپل کے بعد ایمازون دنیا کی دوسری بڑی ایسی پبلک کمپنی تھی جس کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر تک تھی۔ مائیکروسافٹ کے بعد مارکیٹ ویلیویشن کے اعتبار سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی بن چکی ہے۔

ایمازون کی کامیابی کا اندازہ اس کی آمدن سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

بازار

اس سال کے آخر تک ایمازون کے کل کاروبار کا تخمینہ 275 ارب ڈالر تک لگایا جا چکا ہے اور ان اندازوں کے مطابق 2020 کے آخر تک کمپنی کا ریونیو 320 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔

جیف بیزوس کی کامیابی اس کمپنی کا دنیا بھر تک پھیلاؤ ہے لیکن اس کی کامیابی کی اس سے بھی بڑی وجہ ایمازون کا متعدد دیگر شعبوں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ تھا۔

ویڈیو سٹریمنگ سروسز، ڈیوائسز، کلاؤڈ سروسز اور حال ہی میں سواد سلف کا کاروبار اسے مالی طور پر کامیابیوں کی ان بلندیوں تک لے گیا کہ جہاں اب اس کا ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں جیسے فیس بک، ایپل، گوگل اور نیٹ فلکس سے براہِ راست مقابلہ ہے۔

بلا رکاوٹ

اور یہ کتابوں کی فروخت سے شروع ہوا۔

ایمازون نے 1995 میں کتابوں کی آن لائن فروخت شروع کی۔ جیف بیزوس نے 1999 میں کہا تھا کہ ’جب ہم نے چار سال قبل کتابیں فروخت کرنا شروع کی تھیں تو ہمیں کہا گیا کہ دیکھیں آپ صرف کمپیوٹر کا کاروبار جانتے ہیں اور کتابوں کے کاروبار سے متعلق آپ کو کچھ پتا نہیں ہے اور یہ سچ تھا۔‘

لیکن ہوا یہ کہ ایمازون کے پاس امریکہ میں ایسا بڑا سٹور موجود تھا کہ جس سے کمپنی کو آگے بڑھنے میں بہت مدد ملی اور ایمازون کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی روایتی مدمقابل کمپنیوں سے بہتر کتابوں کا انتخاب کرسکے۔

جب ای بکس کا دور آیا تو ایمازون نے کمال مہارت سے اس شعبے میں بھی اپنے قدم جما لیے۔

کتابیں

1999 - ایمازون آن لائن خریداری کا دنیا میں سب سے بڑا پلیٹ فارم

1990 کی دہائی کے آخر میں ایمازون نے کاروبار کو دیگر شعبوں تک پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی شروعات میوزک اور ڈی وی ڈیز کی فروخت سے ہوئی۔

اس کے فوری بعد بیزوس کا کاروبار الیکٹرونکس، کھلونوں اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتنوں تک پھیل گیا۔

امریکی گوداموں کے پھیلتے نیٹ ورک نے ایمازون کی بڑی مدد کی اور اس کو صارفین کی طرف سے بہت پزیرائی ملی۔ اب یہ ایک مشہور کمپنی بن چکی تھی۔

دس سال بعد ایمازون امریکہ سمیت دنیا بھر میں آن لائن اشیا فروخت کرنے والی سے بڑی کمپنی بن گئی۔

آن لائن

2005 - ایمازون پرائم رکنیت کا آغاز

سنہ 2000 میں ایمازون مارکیٹ پلیس کی تخلیق ہوئی جس کے نتیجے میں ایمازون کا پلیٹ فام ہزاروں چھوٹے کاروباری سلسلوں تک پھیل گیا اور اس کے بعد کمپنی نے یہ محسوس کیا کہ اپنے وفادار صارفین تک یہ سب پہنچانے کے لیے بہتر ڈیلیوری سروس ضروری ہے۔

ایمازون پرائم کا آغاز 2005 میں کیا گیا جس میں منتخب اشیا کو صارفین تک کم سے کم وقت میں پہنچانا بھی شامل تھا۔ صرف اس اقدام سے ایمازون کی تمام ہی اشیا کی فروخت میں اضافہ ہوگیا۔

اور آج دس کروڑ سے زیادہ افراد ایمازون پرائم کے رکن ہیں جو ایک مخصوص رقم کے عوض جلد ڈیلیوری کے علاوہ ویڈیو اور موسیقی کی سٹریمنگ سہولت بھی حاصل کرتے ہیں۔

یہ دنیا میں رقم کے عوض رکنیت کا دوسرا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

صارفین

2007- صارفین کے لیے ایمازون کی اپنی پہلی پروڈکٹ ’دی کنڈل‘

ایمازون اپنی کتابیں فروخت کرنے کے آغاز کو کبھی نہیں بھولا۔ جب ای بکس مشہور ہونا شروع ہوئیں تو جیف بیزوس نے 2007 میں کنڈل متعارف کروایا اور جو بعدازاں اس شعبے میں عالمی مقبولیت حاصل کر گیا۔

اسی عرصے میں ایمازون کا سمارٹ ڈیوائسز کا شعبہ پھلتا پھولتا گیا اور پھر 2010 کی دہائی کے آغاز میں اسے گوگل اور ایپل سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔

ایمازون وہ پہلی کمپنی تھی جس نے کوئی سمارٹ ڈیوائس متعارف کروائی۔ یہ ایکو سپیکر تھا جو کمپنی کے اپنے مصنوعی ذہانت والے نظام الیکسا سے لیس تھا۔

اس وقت ایمازون سمارٹ ڈیوائسز فروخت کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی ہے۔

سمارٹ

انٹرنیٹ پر اشیا بیچنے کے مقابلے میں آج ایمازون کا مستقبل مزید پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ سنہ 2018 کی دوسری ششماہی ایمازون کے لیے مشکلات کا پیغام لے کر آئی اور اس کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے نیچے گر گئی۔

آن لائن کاروبار میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ایمازون نے اپنی نگاہیں خدمات کے مزید پھیلاؤ پر مرکوز کر لی ہیں۔

اور شاید آپ حیران ہوں کہ کمپنی نے آن لائن کاروبار کے ساتھ ساتھ باقاعدہ دکانیں کھولنے کا عزم بھی کر لیا ہے جہاں صارفین خود جا کر کمپنی کی مختلف مصنوعات خرید سکیں گے۔

مزید 25 سال بعد ایمازون کہاں کھڑی ہو گی؟ یہ سب دیکھنے کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *