چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن آج تحریک عدم اعتماد جمع کروائے گی

اسلام آباد: ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات کے باوجود پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایوان بالا میں موجود اپوزیشن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف آج (منگل کو) تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس تحریک کو جمع کروانے کے لیے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کا ایک اجلاس ہوگا، جس میں تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی اپنائی جائے گی، اس اجلاس کی صدارت سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران راجا ظفر الحق کو صادق سنجرانی سے شکست ہوئی تھی۔

اس اجلاس کو بلانے کا فیصلہ نیشنل پارٹی (این پی) کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کی راجا ظفر الحق سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ’ہم نے تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا‘۔

میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ حکمت عملی پر پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن سینیٹرز کی ملاقات میں بھی غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تحریک عدم اعتماد پر دستخط کریں گے اور پھر اسے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا فیصلہ جمعرات (11 جولائی) کو رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا، تاہم اب تک میں نہ اس کا امیدوار ہوں اور نہ کسی نے میرا نام تجویز کیا۔

اگرچہ اپوزیشن کے امیدوار کا حتمی فیصلہ جمعرات کو کیا جائے گا لیکن مسلم لیگ (ن) میں موجود ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ جماعت کو اس نشست کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا نام دینے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم دوسرے ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا امیدوار بلوچستان سے ہوگا۔

واضح رہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں۔

یاد رہے کہ ایوان بالا کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ 26 جون کو اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

سینیٹ کی بات کی جائے تو وہاں مسلم لیگ (ن) کے پاس اب بھی اکثریت ہے، حیران کن طور پر (ن) لیگ نے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے پی پی پی کو مدد کی پیشکش کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے پی ٹی آئی سے ہاتھ ملا لیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہے، اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔

اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔

تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *