جوڑ توڑ کا سیزن

کیا سیاسی جوڑ توڑ کا سیزن دوبارہ شرو ع ہو چکا ہے؟ میڈیا رپوٹس کے مطابق ن لیگ کے پنجاب اسمبلی کے ممبران پرائم منسٹر عمران خان سے بنی گالہ میں ایک ہفتہ قبل ملے جس سے یہ چہ میگوئیاں سننے کو ملیں کہ مسلم میں کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے ۔ اس کے کچھ دیر بعد ایک وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ سندھ کے گورنر  وزیر اعظم کا حکم ملنے سے 48 گھنٹے کے اندر سندھ حکومت کا بھی تختہ الٹ سکتے ہیں  کیونکہ بہت سے پی پی ممبران اسمبلی وفاداریاں بدلنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک اور وفاقی وزیر نے دعوی کیا کہ بہت سے ن لیگی ایم این اے اپنے بوٹ پہنے موقعے کی تلاش میں ہیں کہ کب وہ پی ٹی آئی حکومت کے حمایتی بن سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  حکومت مخالف سیاسی جماعتوں میں دھڑے بندی   پر غور و خوض جاری ہے۔ حکومتی پارٹی جو اپنے اتحادیوں پر بہت زیادہ تکیہ کیے ہوئے  ہے اور مرکزی اور پنجاب حکومت کو لازما یہ محسوس ہو رہا ہو گا کہ اپنے تحفظ کے لیے مخالف جماعتوں کے  بندے توڑ کر اپنی جماعت میں شامل کیے جائیں۔

اپوزیشن ممبران  کی اپنی مجبوریاں ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی جماعت سے بغاوت کر کے حکومت کو سپورٹ کرنے لگیں۔ لیکن یہ وجوہات یا مجبوریاں نظریہ یا اصول پر مبنی نہیں ہیں  بلکہ اپنے  سیاسی مفاد  پر مبنی ہیں۔ بہت سے لوگوں کی الماریوں میں ڈھانچے پڑے ہیں  اس لیے وہ حکومتی دباو کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ راستہ ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔ سیاستدان اپنے حلقے کے لوگوں  اور لوکل ایڈمنسٹریشن کو ان کے تمام مسائل اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی سہولت دینے کا وعدہ  کر کے اپنی حلقہ کی سیٹ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ وعدے تب تک پورے نہیں کیے جا سکتے جب تک صوبائی اور مرکزی حکومت ایک اسمبلی ممبر کی ضرورت کے مطابق ان کو فنڈز جاری کرے۔ اس لیے اسمبلی میں موجود اپوزیشن ممبران   دھڑے بندی کے خلاف قوانین کو دیکھتے ہوئے بھی  اس چھڑی اور مولی کی حکومتی پالیسی کے نیچے دبے  نظر آتے ہیں کیونکہ حکومت پولیس، انٹیلی جنس اور لوکل ایڈمنسٹریشن کو استعمال کر کے مخالفین کو رام کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ قانون اس معاملے میں بہت واضح ہے  اور جو لوگ اس قانون سے کھیلتے ہیں ان کے ذہنوں میں اس قانون کے بارے میں کوئی شکو ک و شبہات نہیں ہونے چاہیے۔ آرٹیکل 63 اے میں 6 ایسی شرائط بیان کی گئی ہیں  جن میں پارٹی کا ممبر  دھڑے بندی کا مجرم قرار دیا جا سکے اور اس کو نا اہل قرار دیا جا سکے۔

پہلی شرط یہ ہے کہ  ممبر آف پارلیمنٹ اپنی پارٹی  سے استعفی دے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ کسی دوسری پارٹی کو جائن کر لے۔ باقی چار شرائط کا تعلق قانون سازی میں ووٹنگ سے ہے  جو کوئی ممبرا پنی پارٹی لیڈر شپ کی ہدایات کے خلاف جا کر وزیر اعظم یا وزیر اعلی کے انتخاب میں مدد کرتا ہے، عدم اعتماد یا اعتماد کے لیے ووٹ کا فیصلہ کرتا ہے، بجٹ اور آئینی ترامیم کے لیےبحث اور ووٹنگ میں حصہ لینا ہے۔ اس آئینی شق  میں اب بھی کافی گنجائش موجود ہے کہ ایک قانون ساز اسمبلی کا ممبر  دھڑے بندی  میں شمولیت کے بغیر بھی  اپنی رائے کی آزادی  کے حق کو استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی ممبر کسی مالی یا ترمیمی  بل کی حمایت میں یا خلاف ووٹ دے سکتا ہے  اور اسے اس پر اس کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح صرف پرائم منسٹر یا وزیر اعلی سے ملاقات اور ترقیاتی فنڈز کی درخواست  کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پارٹی سے الگ ہو چکا ہے۔

موجودہ حالت میں آرٹیکل 63 اے ایک متوازن اپروچ کا حامل ہے  جو کئی سال کی مختلف تبدیلیوں سے گزر کر اس سطح کو پہنچا ہے۔ آئین کی 1973 کی اصل  شکل میں ڈیفیکشن کی شق شامل نہیں تھی۔اور یہ چیز بہت سی بڑی جمہوری نظام  جن میں برطانوی نظام بھی شامل ہے کے عین مطابق تھی  اگرچہ بہت سے کیسز اس وقت موجود تھے جو اپنی خاص پہچان رکھتے تھے۔ کسی بھی علیحدہ ہونے والے شخص یا گروپ کے لیے نا اہلی کا کوئی قانون موجود نہیں تھا۔

نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں 1997 میں آرٹیکل 63 اے آئین میں  14ویں ترمیم کے ذریعے شامل  کیا گیا ۔ یہ شق اصل حالت میں سکوپ میں بہت وسیع اور سخت نوعیت کا تھا۔ مثال کے طور پر اس کے مطابق ایسے شخص کو نا اہل قرار دیا جائے گا جو (1) پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے گا یعنی پارٹی کی واضح پالیسی اور نظم و ضبط کے خلاف  جائے گا، یا (2)پارلیمانی پارٹی  کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے ۔

آرٹیکل 63 اے میں  جنرل مشرف کی حکومت کے دوران 2002 میں تبدیلی کی گئی  اور پھر 2003 میں 17ویں ترمیم کے ذریعے اسے پھر سے  نافذ العمل کر دیا گیا۔ تبدیلی کے بعد اس شق کے حصے اتنے زیادہ سخت نہیں رہے اور دھڑے بندی کے کچھ پہلوں میں بہت آسانیاں پیدا کی گئیں۔

آرٹیکل 63 اے میں مزید ترمیم 18 ویں ترمیم کے ذریعے 2010 میں کی گئی اور اس آرٹیکل کو مکمل طور پر بدل دیا گیا۔کسی بل کی حمایت یا مخالفت میں  پارٹی ہدایات کے بر عکس ووٹنگ  کا معاملہ دھڑے بندی کے سکوپ میں شامل کر دیا گیا۔ پارٹی ہیڈ کی طرف سے ڈیکلیریشن آف ڈیفیکشن کا اختیار پریزائیڈنگ افسر کو دے دیا گیا  جو الیکشن کمیشن کو خالی ہونے والی سیٹ کے بارے میں مطلع کرے گا۔ یہ فیصلہ پارٹی سے الگ ہونے والے افراد کی حمایت میں معلوم ہوتا ہے  اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی سربراہ خود بھی پارٹی بدلنے کی آزادی  کا حق استعمال کر سکتا ہے۔

اگرچہ عام تاثر اس کے خلاف ہے لیکن آئین میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جو ایک پارلیمانی پارٹی میں فارورڈ بلاک کو روک سکے۔اگر ایک پارٹی کا ایک بڑا گروپ بھی الگ ہو جائے تو آرٹیکل 63 اے  الگ ہونے والے ممبران پر لاگو ہو گا جیسا کہ پارٹی ہیڈ نے اعلان کیا ہو گا۔  بھارتی آئین کے 10ویں شیڈول  میں لکھا ہے کہ اگر پارٹی کے 2 تہائی ممبران اگر پارٹی سے الگ ہو جاتے ہیں اور دوسری پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں تو اسے دھڑے بندی قرار نہیں دیا جائے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *