بونگ، کلچے اور کائنات

میں ابھی ابھی کلچوں کے ساتھ بونگ، چنے اور آملیٹ کا ناشتہ کرکے فارغ ہوا ہوں، حلوے کے ساتھ کھویا میں نے میٹھے کے طور پر لیا ہے اور اب ڈائٹنگ کے پیش نظر مصنوعی شکر والی چائے پی رہا ہوں۔ اس ناشتے کے بعد جس سرور کی کیفیت مجھ پر طاری ہے اس میں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں، کالم البتہ لکھا جا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عام طور پر میں دو اہم سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، پہلا، اعلیٰ قسم کی بونگ کیسے پکائی جاتی ہے اور دوسرا، کائنات کا آغاز کیسے ہوا! سالہا سال سے انسان ان سوالوں کے جواب کی تلاش میں سر کھپا رہا ہے، بونگ کے ضمن میں تو اپنے ہاں خواتین کو کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم کائنات کا مسئلہ اب بھی کافی الجھا ہوا ہے۔ ویسے یہ میری ذاتی رائے ہے، کچھ بٹ صاحبان کے خیال میں بونگ کا مسئلہ کائنات کے مسئلے سے زیادہ غور طلب ہے۔ خیر جو بھی ہو، فی الحال بونگ کو ہم بٹ برادری کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں اور کائنات کے آغاز کی بات کرتے ہیں۔

(آدھ گھنٹے کی نیند کے بعد)۔ سائنس کا دعویٰ ہے کہ یہ کائنات 13.5ارب سال قبل ایک عظیم دھماکے ساتھ وجود میں آئی۔ یہ دھماکہ جسے بِگ بینگ کہا جاتا ہے، کیونکر ہوا، اس دھماکے سے پہلے کیا تھا، کیا یہ بگ بینگ ازخود ہو گیا، بگ بینگ سے پہلے کیا تھا... ہم سب ا ن سوالوں کے جواب چاہتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ جواب بالکل سادہ اور آسان ہوں، کوانٹم فزکس پڑھنی پڑے اور نہ ریاضی کی کتاب کھولنے کی ضرورت محسوس ہو۔ اسٹیفن ہاکنگ کہتا ہے کہ کائنات چند قوانین کے تابع ہے، یہ قوانین اٹل ہیں، انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے، کائنات کا وجود انہیں قوانین کے تحت عمل میں آیا، ان قوانین کو توڑا نہیں جا سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہم انہیں قوانین نہ کہتے۔ یہ قوانین کیا ہیں، انہیں سمجھنے کے لیے اپنے اردگرد نظر ڈالیں، آپ کو یہ قوانین ہر لمحے ایکشن میں نظر آئیں گے۔ مثلاً کسی عمارت کی دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر دیکھیں، لامحالہ کشش ثقل آپ کو زمین کی طرف کھینچے گی، یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص چھلانگ لگائے اور ہوا میں معلق ہو جائے۔ اسی طر ح نیوٹن کے قوانینِ حرکت لے لیں، ہر عمل کا ردعمل ہوگا، کسی شے پر قوت لگائیں گے تو وہ حرکت میں آ جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔ اپنی زمین کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مادے سے بھری ہوئی ہے، توانائی ہم سورج سے حاصل کرتے ہیں جبکہ جگہ کی کوئی کمی نہیں، ایک لامتناہی خلا ہے جسے ہم کائنات کہتے ہیں۔ گویا کائنات کی تشکیل کے لیے تین اجزا ضروری تھے، مادہ، توانائی اور جگہ۔

آئن اسٹائن نے جب یہ انکشاف کیا کہ مادہ اور توانائی دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور انہیں آپس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو گویا اُس نے آدھی گتھی سلجھا دی، یہ ایک ایسی دریافت تھی جس کی مدد سے کائنات کا راز پانے میں سائنس دانوں کو ’’آسانی‘‘ ہوگئی، اس کے بعد یہ طے ہوگیا کہ کائنات کی پیدائش کے لیے فقط دو اجزا ضروری ہیں، توانائی اور اسپیس، اور یہ دونوں اجزا بِگ بینگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے جس کے بعد آن کی آن میں یہ کائنات کسی غبارے کی مانند پھیلتی گئی اور اب تک پھیل رہی ہے۔ اس بات کا مشاہدہ ہبل ٹیلی اسکوپ سے کیا جا چکا ہے، ہر لمحہ کہکشائیں دور ہوتی چلی جا رہی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی میں کوئی ایک لمحہ ایسا بھی تھا جب یہ کائنات ’’اکٹھی‘‘ تھی اور پھر بگ بینگ کے بعد پھیلتی چلی گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بگ بینگ کیسے ہوا، یہ کیسے ممکن ہے کہ کچھ بھی وجود نہ رکھتا ہو اور یکدم پوری کائنات ازخود وجود میں آجائے، آخر بونگ بنانے کے لیے اتنا تردد کرنا پڑتا ہے یہ تو پوری کائنات ہے جس کے بارے میں سائنسدان کہتے ہیں کہ خود ہی بن گئی! سائنسدان اس بات کا جواب بہت دلچسپ انداز میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم وقت میں پیچھے کی طرف سفر کریں تو اربوں سال پہلے یہ کائنات سکڑ کر شاید ایک پروٹون جتنی تھی مگر اس کی حالت بلیک ہول کی مانند تھی، بلیک ہول سے روشنی کا گزر ہو سکتا ہے اور نہ اس میں وقت کوئی وجود رکھتا ہے، گویا آج سے تیرہ ارب سال پہلے جب کائنات پروٹون جتنے ایک بلیک ہول کی طرح تھی تب بگ بینگ کے نتیجے میں اِس سے توانائی خارج ہوئی مگر ساتھ اتنی ہی منفی توانائی بھی اسپیس میں پھیل گئی، یہ منفی توانائی آج اسپیس میں موجود ہے اور مثبت توانائی کے برابر ہے، طبیعیات کے قانون کے تحت مثبت اور منفی اگر برابر ہوں تو جواب صفر آتا ہے، یعنی nothinig، یہی سائنسدانوں کی وضاحت ہے۔

اگلا سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی اس وسیع و عریض کائنات میں ہم انسان کیا کر رہے ہیں، ہمارا وجود کیا معنی رکھتا ہے، آج اگر کوئی سیارہ ہم سے ٹکرا جائے اور اس زمین کا نشان ہی مٹ جائے تو اس کائنات کو کوئی فرق پڑے گا، شاید اتنا بھی نہیں جتنا سمندر میں سوئی گرنے سے پڑتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی انسان کی زندگی کا کوئی بھی مقصد کتنا ہی اعلیٰ اور ارفع کیوں نہ ہو، اس کی کیا حیثیت ہے، اور پھر یہ مقصد کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ کوئی متعین اور طے شدہ بات ہے، کیا انسانوں کے مقاصد جن اصولوں کے تحت اپنائے جاتے ہیں وہ اصول آفاقی ہیں یا ان میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہتی ہے؟ مثلاً آج سے دو ہزار سال پہلے رومن سلطنت میں پیدا ہونے والے کسی شخص کا مقصد اپنے دوست مارک انتھونی سے وفاداری نبھانا ہو سکتا تھا تو کیا اس شخص کو سلطنت روما سے بغاوت کا مرتکب قرار دیا جائے گا؟ اگر ہاں تو مارک انتھونی اور کلوپیترا کی محبت کو کس خانے میں فٹ کریں گے، کیا محبت ایک آفاقی حقیقت نہیں، کیا محبت کا مقام اتنا ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر مارک انتھونی کی روم سے بغاوت کو معاف کیا جا سکے؟

یہ بات کون طے کرے گا کہ کون سا مقصد زیادہ اعلیٰ ہے۔ کائنات کی وسعتوں کو دیکھیں تو انسان کے ہر جذبے، مقصد اور نظریے کی بے وقعتی کا احساس ہوتا ہے، اسی لیے اگر ہم ہر بات کی سائنسی تشریح کرنے بیٹھ جائیں تو اس سے زندگی نہیں گزرتی۔ کائنات کے وجود کی سائنسی تشریح درست ہے یا غلط، اس ضمن میں ابھی کافی تحقیق باقی ہے مگر ہم انسان محض یہ سوچ کر زندگی بسر نہیں کر سکتے کہ ہمارا یہاں کوئی مقصد نہیں، ایک سوچنے سمجھنے والے انسان کو زندہ رہنے کے لیے ایک مقصد چاہیے اور اگر کوئی انسان اس سے بھی آگے کے درجے پر فائز ہونا چاہتا ہے تو اسے ایک نظریہ بھی چاہئے، عظیم انسانوں کے نظریات اور مقاصد بھی وقت کے ساتھ بدلتے ہیں مگر یہ تبدیلی پروگریسیو ہوتی ہے اور اسے ہر زمانے اور وقت کے حساب سے جانچا جاتا ہے۔ یہ کائنات کتنی ہی لامحدود کیوں نہ ہو، ہماری زندگیاں بہرحال اسی زمین سے جڑی ہیں، انسان کے لیے یہ اٹل حقیقت ہے، زمین کا یہ ٹکڑا ہی ہماری کائنات ہے، جب تک کوئی اسکائی لیب آکر اس سے نہیں ٹکراتا تب تک اس زمین کے باسیوں کے لیے خوشیاں اور آسانیاں فراہم کرنا ہی سب سے اعلی ٰ و ارفع انسانی مقصد اور نظریہ ہو سکتا ہے۔

کالم کی دُم:کچھ لوگوں کو کلچے کے ساتھ بونگ کھا کر بھی خوشی مل سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *