مزدور عورتیں اپنی بچے دانیاں کیوں نکلوا رہی ہیں؟

انڈیا میں حالیہ مہینوں میں کام کرنے والی خواتین اور ان کے مخصوص ایام سے متعلق دو نہایت پریشان کن اور تشویش ناک خبریں سامنے آئی ہیں۔

انڈین معاشرے میں مخصوص ایام سے گزرنے والی خواتین کے بارے میں منفی رویہ پایا جاتا ہے۔ ماہواری کے دوران ان کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور ان کا سماجی اور خاص طور پر مذہبی تقریربات میں شریک ہونا منع ہے۔ حالیہ برسوں میں ان خیالات کی شدید مخالفت شروع ہو گئی ہے اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والی پڑھی لکھی خواتین اس مخالفت میں پیش پیش ہیں۔

لیکن اس حوالے سے سامنے آنے والی دو خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاشرتی رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ خواتین کی ایک وسیع اکثریت خاص طور پر نچلے اور غریب طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، جو تعلیم یافتہ نہیں اور جن کے پاس کوئی وسائل نہیں انھیں اکثر ایسے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جن سے ان کی زندگی اور صحت پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پہلی خبر ملک کی جنوبی ریاست مہاراشٹر سے سامنے آئی جس میں ذرائع ابلاغ نے آشکار کیا کہ ریاست میں گذشتہ تین برس میں ہزاروں خواتین کے آپریشن کر کے ان کی بچہ دانیاں نکال دی گئی ہیں۔ ان میں شامل خواتین کی اکثریت کے آپریشن اس لیے کرائے گے کہ وہ گنے کی کاشت میں مزدوری کر سکیں۔

دہلی

گنے کی کاشت ایک محنت طلب کام ہے اور ٹھیکدار پہلے تو خواتین کو اس کام کے لیے مزدوری دینے پر تیار نہیں ہوتے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے مخصوص ایام کی وجہ سے چند دن کام پر بھی نہیں آ سکتیں

ہرسال غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی دسیوں ہزار خواتین، عثمان آباد، سنگلی، بیڈ اور سولاپور ضلعوں سے روزگار کی تلاش میں گنے کی کاشت کرنے والے مغربی اضلاع جنھیں ’شوگر بیلٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، منتقل ہو جاتی ہیں تاکہ چھ ماہ کے لیے انھیں گنے کے کھیتوں میں کاشت کے دوران مزدوری مل جائے۔

مزدوری کی تلاش میں ان اضلاع میں آنے والی غریب خواتین ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں جو ان کا ہر طرح سے استحصال کرنے کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے۔

گنے کی کاشت ایک محنت طلب کام ہے اور ٹھیکدار پہلے تو خواتین کو اس کام کے لیے مزدوری دینے پر تیار نہیں ہوتے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے مخصوص ایام کی وجہ سے چند دن کام پر بھی نہیں آ سکتیں۔ اگر وہ کام پر نہ آسکیں تو انھیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

ان جگہوں پر رہائش کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور محنت کش خواتین کو اکثر گنے کے کھیتوں کے قریب عارضی جھونپڑیوں اور خیموں میں رہنا پڑتا ہے جہاں بیت الخلا کا کوئی انتظام نہیں ہوتا اور اکثر گنے کی کاشت رات کے وقت بھی جاری رہتی ہے جس کی وجہ مزدور خواتین کو آرام کرنے کا بھی مناسب وقت نہیں ملتا۔

اس غیر انسانی ماحول میں اگر ان خواتین کے مخصوص ایام آ جائیں تو یہ ان کے لیے ایک اور عذاب بن جاتا ہے۔

انڈیا

مزدوری کی تلاش میں آنے والی غریب خواتین ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں جو ان کا ہر طرح سے استحصال کرنے کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے

غیر صحت مند ماحول کی وجہ سے بہت سی خواتین کو مختلف قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں سرگرم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ لالچی اور بے ضمیر ڈاکٹر، باآسانی دواؤں سے رفع ہوجانے والی نسوانی بیماریوں کے لیے بھی پیسے بنانے کی غرض سے انھیں غیر ضروری آپریشن کا مشورہ دیتے ہیں۔

ان علاقوں میں اکثر خواتین کی کم عمری میں شادیاں کر دی جاتی ہیں اور نوجوانی ہی میں ان کے دو یا تین بچے ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر انھیں بچہ دانی نکالنے کے آپریشن کے بعد ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں بھی نہیں بتاتے اس لیے وہ سوچتی ہیں کہ یہ آپریشن کرانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس صورت حال کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں پورے کے پورے گاؤں بچہ دانی سے محروم خواتین والے بن گئے ہیں۔

مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی میں ایک خاتون رکن کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیرِ صحت ایکناتھ شنڈے نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گذشتہ تین برس میں صرف ایک ضلع بیڈ میں 4605 خواتین کے بچہ دانی نکالنے کے آپریشن کیے گئے ہیں۔

انڈیا

انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چند اور ممالک میں ماہواری کے ایام میں خواتین کو چھٹی مل جاتی ہے۔ بہت سے نجی کمپنیاں بھی خواتین کو یہ سہولت دیتی ہیں

لیکن یہ آپریشن کرانے والی سب خواتین گنے کے کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور نہیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ اس سنگین صورت حال کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بی بی سی مراٹھی سروس میں کام کرنے والی پرجاتا دھولپ نے ضلع بیڈ کے ونجاروادی کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ اکتوبر سے مارچ تک کے دوران ہر سال 80 فیصد خواتین گنے کی کاشت کرنے والے اضلاع میں مزدوری کی غرض سے جاتی ہیں۔

مرھاٹی سروس کی نامہ نگار نے مزید بتایا کہ ان میں نصف خواتین کی بچہ دانی پہلے ہی نکالی جا چکی ہوتی ہے اور ان میں اکثر خواتین 40 سال سے بھی کم عمر ہوتی ہیں اور کچھ کی عمر تو صرف 20 برس ہوتی ہے۔

ان سے ملنے والی بہت سی خواتین نے کہا کہ آپریشن کرانے کے بعد ان کی صحت گر گئی ہے۔ ایک عورت نے شکایت کی کہ ان کی کمر، گردن اور گھٹنوں میں مسلسل درد رہتا ہے اور جب وہ صبح نیند سے بیدار ہوتی ہیں تو ان کے ہاتھ منہ اور پیروں پر سوجن ہوتی ہے۔

ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان پر مسلسل غنودگی طاری رہتی ہے اور انھیں چند قدم چلنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ دونوں خواتین کا کہنا تھا اس کی وجہ سے اب وہ گنے کی کاشت میں مزدوری کرنے کے قابل نہیں رہیں۔

دوسری خبر جنوبی ریاست تمل ناڈو سے موصول ہوئی اور وہ بھی اتنی ہی سنگیں نوعیت کی تھی۔

سلائی کرنے والی خواتین

کپٹروں کی ملوں میں کام کرنے والی سو سے زیادہ خواتین سے بات کر کے مرتب کی گئی روائٹر فاونڈیشن کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سلائی کا کام کرنے والی خواتین ماہواری کے دوران ایک دن کی روزی چھوڑنا بھی برداشت نہیں کر سکتیں

کئی ارب روپے مالیت کا کاروبار کرنے والی کپڑوں کی ملوں میں کام کرنے والی خواتین محنت کشوں کا کہنا ہے کہ ماہواری کے ایام میں انھیں چھٹی دینے کے بجائے کچھ دوائیں پلائی جاتی ہیں۔

کپٹروں کی ملوں میں کام کرنے والی سو سے زیادہ خواتین سے بات کر کے مرتب کی گئی روائٹر فاونڈیشن کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سلائی کا کام کرنے والی خواتین کو ماہواری کے دوران دوائیں زیادہ تر ڈاکٹروں کی طرف سے فراہم نہیں کی جاتی اور وہ ایک دن کی روزی بھی چھوڑنا برداشت نہیں کر سکتیں۔

ان سب خواتین نے بتایا کہ وہ دوائیں استعمال کر چکی ہیں اور ان میں نصف سے زیادہ کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں ان کی صحت خراب ہوئی ہے۔ زیادہ تر خواتین کا کہنا ہے کہ نہ تو انھیں دوا کا نام بتایا گیا اور نہ ہی اس کے مضر اثرات کے بارے میں خبردار کیا گیا۔

ان خواتین کی اکثریت نے خود کو درپیش صحت کے مسائل کا ذمہ دار جن میں طبعیت میں بے چینی، مایوسی، پشاب کی نالی میں سوزش اور اسقاط حمل شامل ہیں، ان دواؤں کو ٹھہرایا۔

ان خبروں کی وجہ سے حکام حرکت میں آئے ہیں۔ خواتین کے قومی کمیشن نے مہاراشٹر میں خواتین کی حالت کو انتہائی سنگین اور دردناک قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے وہ اس صورت حال کا تدارک کرے۔

تمل ناڈو میں ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کپڑے کی ملوں میں کام کرنے والی خواتین کی صحت پر نظر رکھیں گے۔

یہ خبریں ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب پوری دنیا میں یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ خواتین کو بھی روزگار کے مساوی مواقعے فراہم کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے صنفی طور پر حساس پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

تشویشناک بات یہ کہ ملک کی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 2005-06 میں 50.8 فیصد سے کم ہو کر 2015-16 میں 36 فیصد رہ گیا ہے۔ اگر خواتین کے کام کرنے کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

انڈونیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت چند دیگر ممالک میں ماہواری کے ایام میں خواتین کو چھٹی مل جاتی ہے۔ بہت سے نجی کمپنیاں بھی خواتین کو یہ سہولت دیتی ہیں۔

انڈیا

انڈیا کی کچھ ریاستوں مثلاً بہار میں حکومت سنہ 1992 سے خواتین ملازمین کو ماہواری کے دوران اضافی چھٹیوں کی سہولت دے رہی ہے

انڈیا کی حکومت کے ایک تھنک ٹینک نتی آیوگ میں کام کرنے والے اورواشی پرشاد کا کہنا ہے کہ انڈیا کی کچھ ریاستوں مثلاً بہار میں حکومت سنہ 1992 سے خواتین ملازمین کو ماہواری کے دوران اضافی چھٹیوں کی سہولت دے رہی ہے اور یہ بڑی کامیابی سے جاری ہے۔

گذشتہ سال ایک خاتون رکن اسمبلی نے ایک مسودہ قانون پارلیمان میں پیش کیا تھا جس میں ملک میں ملازمتیں کرنے والی تمام خواتین کو ہر ماہ دو دن کی اضافی چھٹی دینے کی تجویز دی گئی۔

اس رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پالیسی فیصلوں پر عملدرآمد کرانا خاص طور پر غیر روایتی شعبوں میں بہت مشکل ہے جہاں بہت زیادہ نگرانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسی پالیسیوں کا نفاذ روایتی شعبوں میں شروع ہو جائے تو آہستہ آہستہ اس کا اثر ذہن اور سوچ تبدیل کرنے میں بہت اہم ثابت ہوتا ہے۔

لیکن اس طرح کی سماجی اصلاحات کا اثر گنے کے کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین تک بہت کم پہنچ پاتا ہے اور یہ خواتین ٹھیکداروں اور استحصالی عناصر کے رحم و کرم پر رہتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *