کتب بینی کے فوائد اور والدین کی ذمہ داریاں

" نیدا ملجی "

جب میں چھوٹی  تھی تو میرے چند دوست تھے جو رات کو رضائی میں چھپ کر کتابیں پڑھتے تھے تاکہ کتابیں ان کے والدین کی نظر میں نہ آجائیں باوجود اس حقیقت کہ کتابیں نا مناسب نہیں ہوتی تھیں۔ یہ  معمولی  نوعیت کی ادب کی کتابیں ہوتیں جو وہ سکول کی لائبریری سے  ادھار لیتے تھے۔ تب سے آج تک میں سوچتی ہوں کہ آخر والدین بچوں کو پڑھنے  سے روکتے کیوں تھے؟  چونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے فارغ ہوتے ہیں انہیں انہیں سکول کی مصروفیات سے وقت میسر ہوتا ہے اس لیے ان میں  پڑھائی کی عادت پروان چڑھانے کا یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔

معاشرتی حالات کی وجہ سے زیادہ تر گھرانے  یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوائیں ۔ اسی وجہ سے وہ دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کی سکول میں  بہترین پوزیشن کے حصول کی خبریں بھی بہت شوق سے بتاتے ہیں لیکن  اس پہلو کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ بچوں کو اپنے تجسس کو بڑھانے اور ذہنی  نشو نما کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ ہمارا بچہ سکول کے امتحان میں تو بہترین نتیجہ لاتا ہے لیکن وہ اس قابل پھر بھی نہیں کہ کسی طرح کی تخلیقی گفتگو کر سکے؟ کیوں بہت سے بچے اپنے والدین ، بڑوں، اساتذہ اور دوستوں کے سامنے خاموش کھڑے رہتے ہیں ؟ ہم بولنے سے ڈرتے کیوں  ہیں؟ شاید اس لئے کہ ہمیں بچے کوہر قسم کے ادب کی پڑھائی کرنے  کی اجازت دینے سے ڈرتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ جو پڑھتے ہیں اس پر ہمارا مکمل کنٹرو ل ہو  اس خوف سے کہ وہ کوئی غیر مناسب چیز نہ سیکھ لیں  اور پھر وہ اپنے آپ کو  آزاد خیال بنا کر معاشری اقدار کو روندنے کی کوشش نہ کریں۔

پڑھائی کرنے کا اپنا مزہ ہے اور یہ ذہن کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہماے جسم کے لیے غزا اور صحت مند اشیاء کا استعمال ضروری ہے۔ زندگی میں بہت کم ایسے متبادل موجود ہیں جنہیں سوتے وقت  رضائی میں  بیٹھ کر  پڑھائی کے بجائے اختیار کیا جا سکے۔ اگرچہ آج کل بہت سے لوگ الیکٹرونک کتب پڑھتے ہیں لیکن آج کے دور میں اصل کتب کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔

ای بک مالکان  میں سے 90 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ  وہ خود ای بک کی بجائے کاغزی کتب پڑھتے ہیں۔ کیلیفورنیا میں برکلے کی ایک یونیورسٹی کی  تحقیق کے مطابق بچوں کو جتنا جلدی کتب سے مانوس کیا جاے ، خاص طور پر وہ بچے جن کے والدین خود کتابیں پڑھتے اور انہیں بھی سناتے ہیں،  اتنے ہی وہ بچے بعد میں اچھے نتائج اور ذہانت میں اعلی سطح پر پہنچتے ہیں۔ بچے  پرائم ٹائم ٹی وی  پروگراموں کے مقابلے میں کتابوں سے زیادہ نئے الفاظ سیکھتے ہیں۔ کتب میں موجود تصویریں علم کی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ تجسس میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہن کے دروازے کئی اطراف میں کھلتے جاتے ہیں وہ بات کرنے لگتے ہیں اور ان کے ذہن میں دبے خیالات ابھر کر سامنے آتے ہیں انہیں اپنی پہچان، اپنی جگہ اور اپنے کردار سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے ۔

تو ایسا کیوں ہے کہ ہم بچوں کو پڑھ کر سنانے میں اتنی دیر کر دیتے ہیں؟  استاد کے طور پر میں ہزاروں والدین سے ملی ہوں جن کی یہ ہی شکایت ہے کہ ہمارا بچہ پڑھنا پسند نہیں کرتا اور ایک کتاب پوری نہیں کر پاتا۔ میں اکثر ان والدین سے پوچھتی ہوں کہ انہوں نے پہلی بار کب اپنے بچے کو کتاب سے مانوس کروایا تھا تو مجھے یہ جان کر حیرت نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ان کا بچہ سکول میں داخل ہو چکا تھا س کے بعد انہوں نے انہیں پڑھانا شروع کیا۔ اس سطح پر بچے کا کتاب سے تعلق ایک بلکل مختلف نوعیت سے ہوتا ہے۔ اس  سطح پر بچے کتابوں کو تعلیمی دباو اور محنت سے جوڑ رہے ہوتے ہیں  جب کہ جو بچے والدین سے کہانیاں سنتے بڑے ہوتے ہیں وہ کتابوں کو والدین سے تعلق، تجربہ بیان کرنے اور خاندان کی   خوشگوا ر یادوں سے جوڑتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں کتب  بینی سے اصل خوشی ملتی ہے اور یہ  خوشی ان کے دل کے اندر بسی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن بچوں کو کتب سے لگاؤ ہوتا ہے وہ تنہائی اور ذہنی دباؤ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ نہ پڑھنے والے بچوں کے مقابلے میں انہیں یہ مسائل شاذو ناذر ہی پیش آتے ہیں۔ نوجوانوں کو کتب  بینی سے  سکون ملتا ہے۔ اس سے انسان میں  خود کی اہمیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ان میں دوسروں کو سمجھنے اور ان سے ہمدردی کا احساس ہوتا ہے۔ اس سے ذہنی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے اور  ذہنی بیماری بھی نہیں ہوتی ،ہمدردی اور سخاوت پیدا ہوتی ہے ۔ اس  سے زندگی کے مختلف پہلو  سامنے آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ والدین یہ اہم کام پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اتنی دیر سے کیوں بچوں کو پرھائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کچھ اس کام کو اساتذہ کے لئے چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ کتاب پڑھنا بلکل والدین اور بچوں کے بیچ  کے تعلق کا ایک اہم ترین عنصر ہے۔ سکولیسٹک ایجوکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن  کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ  جہاں تک بچوں کو آواز سے پڑھ کر سنانے کا تعلق ہے،4 سے 10 سال کی عمر کے بچوں میں سے  80 فیصد بچوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنا بہت پسند کرتے ہیں  کیونکہ یہ ان کا والدین کے ساتھ بہترین وقت ہوتا ہے۔

بہت سے بچے  خود کتابیں پڑھنے کی عادت بڑوں سے سیکھتے ہیں  جو ان کی کہانیاں سننے میں دلچسپی  کا اظہار کرتے ہیں۔بچوں کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ کہانی سننا  اور سنانا بھی اچھا لگتا ہے ۔ کتب بینی کا شوق اکیلے بیٹھ کر پڑھنے سے پروان نہیں چڑھتا۔  اگر والدین اس بات میں دلچسپی لیں کہ بچہ اس کہانی کے بارے میں کیا سوچتا ہے اوراس کے خیالات کو سنیں  تو اس سے بچوں میں تجزیہ کرنے کی قابلیت پیدا ہوتی ہے  اور اعتماد  کے ساتھ وہ اپنی رائے دوسروں کےسامنے رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *