ورلڈ کپ: انگلینڈ تاریخ کا دھارا بدل کر پہلی بار عالمی چیمپیئن بن گیا

انگلینڈ نے 2019 ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں بھی میچ ٹائی ہونے کے بعد باؤنڈریز کی بنیاد پر میچ میں برتری حاصل کر کے عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے سنسنی خیز ورلڈ کپ فائنل میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انگلش باؤلرز نے نپی تلی گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے اوپنرز کو کھل کر کھیلنے کی اجازت نہیں دی البتہ گزشتہ میچوں کی نسبت اس مرتبہ کیوی اوپنرز نے اپنی ٹیم کو بہتر آغاز فراہم کیا۔

گزشتہ میچوں میں بدترین ناکامی سے دوچار رہنے والے مارٹن گپٹل آج قدرے بہتر فارم میں نظر آئے لیکن 29 کے مجموعی اسکور پر وہ 19 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو قرار پائے، انہوں نے ناصرف اپنی وکٹ گنوائی بلکہ ریویو لے کر اپنی ٹیم کو اہم سہولت سے محروم کردیا۔

اس کے بعد ہنری نکولس کا ساتھ دینے کپتان کین ولیمسن آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے بیٹنگ لائن کو سنبھالا دیا اور ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔

دونوں نے اپنی ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، انگلینڈ نے لیام پلنکٹ کے ذریعے اہم وکٹ حاصل کرتے ہوئے 30رنز بنانے والے کین ولیمسن کو پویلین واپسی پر مجبور کردیا۔

امپائر کمار دھرماسینا نے آؤٹ نہیں دیا تھا جس پر انگلینڈ نے ریویو لیا اور ری پلے میں صاف ظاہر تھا کہ گیند کیوی کپتان کے بلے سے لگ کر وکٹ کیپر کے گلوز میں پہنچی تھی۔

ابھی نیوزی لینڈ کی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ لیام پلنکٹ نے انگلینڈ کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے وکٹ پر سیٹ بلے باز ہنری نکولس کو باؤلڈ کر کے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا، انہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 55رنز بنائے۔

اس کے بعد تجربہ کار روس ٹیلر نے ٹام لیتھم کے ہمراہ ٹیم کا اسکور آگے بڑھانا شروع کیا لیکن ابھی اسکور 141 تک ہی پہنچا تھا کہ روس ٹیلر امپائر میراس ایراسمس کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے۔

15 رنز بنانے والے روس ٹیلر کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا حالانکہ ری پلے سے ظاہر تھا کہ گیند وکٹوں کے اوپر سے جا رہی تھی لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنا ریویو پہلے ہی گنوا چکی تھی لہٰذا ٹیلر پویلین لوٹنا پڑا۔

نئے جمی نیشام اچھی فارم میں نظر آئے اور چند اسٹروکس کھیل کر اپنے خطرناک عزائم ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن لیام پلنکٹ کی ایک گیند کو مڈ آن کے اوپر سے کھیلنے کی کوشش میں وہ جو روٹ کو سیدھا کیچ دے بیٹھے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم 173رنز پر پانچ وکٹیں گنوا بیٹھی۔

اس موقع پر ٹام لیتھم نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے گرینڈ ہوم کے ہمراہ 46 رنز کی قیمتی شراکت قائم کر کے نیوزی لینڈ کی معقول مجموعی تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا، گرینڈ ہوم کے آؤٹ ہونے کے ساتھ ہی اس شراکت کا خاتمہ ہوا۔

لیتھم نے عمدہ بیٹنگ جاری رکھی لیکن تیزی سے رنز کرنے کی کوشش میں وہ کرس ووکس کو وکٹ دے بیٹھے، انہوں نے 47رنز بنائے۔

اختتامی اوورز میں انگلش باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب نیوزی لینڈ کے بلے باز تیزی سے رنز کرنے میں ناکام رہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر 241رنز ہی بنا سکی اور یوں انگلینڈ کو ورلڈ چیمپیئن بننے کے لیے 242رنز کا ہدف ملا ہے۔

انگلینڈ کی جانب سے لیام پلنکٹ اور کرس ووکس نے تین، تین جبکہ جوفرا آرچر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

سپر اوور

سپر اوور کی پہلی گیند پر انگلینڈ نے تین رنز بنائے جس کے بعد دوسری گیند پر بٹلر ایک رن بنانے میں کامیاب رہے۔

اوور کی تیسری گیند پر اسٹوکس چوکا لگانے میں کامیاب رہے جبکہ چوتھی گیند پر انہوں نے سنگل لے کر بٹلر کو اسٹرائیک دی۔

اوور کی پانچویں گیند پر بٹلر دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر آخری گیند پر چوکا لگا کر سپر اوور میں اپنی ٹیم کا اسکور 15تک پہنچا کر نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ جیتنے کے لیے 16رنز کا ہدف دیا ہے۔

سپر اوور میں ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے گوفرا آرچر نے پہلی گیند وائیڈ کرائی البتہ وہ امپائر کے اس فیصلے سے کچھ خاص خوش نظر نہ آئے۔

اس کے بعد کرائی گئی پہلی گیند پر کیوی بلے باز دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر اگلی گیند پر نیشام نے چھکا لگا دیا۔

اگلی گیند پر نیشام دو رن لینے میں کامیاب رہے اور پھر سپر اوور کی چوتھی گیند پر بھی وہ دو رن لینے میں کامیاب رہے۔

اوور کی پانچویں گیند نیشام نے ایک رن لے کر گپٹل کو اسٹرائیک دی تو نیوزی لینڈ کو میچ کی آخری گیند پر فتح کے لیے دو رنز درکار تھے۔

میچ کی آخری گیند پر بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک ہی رن لینے میں کامیاب رہی اور یوں میچ ایک مرتبہ پھر ٹائی ہو گیا لیکن میچ میں زیادہ باؤنڈریز مارنے کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ چیمپیئن بننے کا تاج سر پر سجانے میں کامیاب ہو گئی۔

بین اسٹوکس کو میچ میں ناقابل شکست 84رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *