پاکستان نے اپنی فضائی حدود تمام کمرشل پروازوں کے لیے کھول دی

پاکستان نے ساڑھے چار ماہ کی بندش کے بعد اپنی فضائی حدود تمام کمرشل پروازوں کے لیے کھول دی ہے۔

اس دوران کچھ عرصے کے لیے تو پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہی تاہم بعد میں اسے جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔

پاکستان سول ایوی ایشن کی جانب سے پیر کی شب ہوابازوں کو جاری کیے گیے نوٹم یعنی مراسلے میں پاکستانی فضائی حدود کھولے جانے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

سول ایویشن کے نوٹم ونگ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب رات 12 بج کر 10 منٹ سے پاکستان کی فضائی حدود کو ہر قسم کی کمرشل ایئر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

سول ایویشن کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹم یا نوٹیفکیشن کو ادارے کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈیا کے نیم فوجی دستے پر خودکش حملے، بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی بمباری اور پھر پاکستان کی جانب سے انڈین جنگی طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود تمام کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

فضائی حدود

سول ایویشن کی جانب سے فضائی حدود کھولنے کے لیے جاری کیا گیا نوٹیم

اس کے کچھ عرصے بعد ملک کی دیگر فضائی حدود تو بحال کر دی گئی تاہم انڈین سرحد کے ساتھ یعنی مشرقی فضائی حدود ایئر ٹریفک کے لیے بند تھی۔

سول ایویشن کی جانب سے فضائی حدود کو کمرشل پروازوں کے لیے جزوی طور پر کھولتے ہوئے بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان آمدورفت کے لیے مشرقی سرحد سے بچ کر مغربی سرحد کے ساتھ ایک راستہ دیا تھا جس میں وہ اڑ سکتے تھے۔

اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر یورپ سے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آنے والی وہ بین الاقوامی پروازیں ہوئی تھیں جو انڈین فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انھیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا جس کے مزید اخراجات تھے۔

فضائی حدود

اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہو رہے تھے جن کی مختصر دورانیے کی پروازوں کو اب ایک طویل راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان انڈیا کو ہوا تھا کیونکہ مسافت بڑھ جانے کے باعث ایک طرف ہوائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گیے تو دوسری جانب انھیں سفری اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے تھے۔

یاد رہے اس کے پیش نظر انڈین حکومت نے وزیراعظم مودی کے جون میں کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے دورے پر پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے جہاز کو 13 جون کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے۔

اس ضمن میں ملک میں انڈین ہائی کمیشن نے باضابطہ درخواست بھیجی تھی۔

اس بندش کے باعث جہاں انڈین ہوائی کمپینوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا وہی پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کو بھی فضائی حدود کے باعث بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

اس کے ساتھ ساتھ بہت سے بین الاقوامی ائیر کپمینوں نے اسلام آباد سمیت دیگر ہوائی اڈوں پر اپنے فضائی آپریشن معطل کر دیے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *