انڈیا عالمی منڈی سے قرضے لینے کا منصوبہ بنا رہا ہے؟

لوک سبھا میں 5 جولائی کو اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے انڈیا کی پہلی خاتون وزیرِ خزانہ نرملا سیتھارامن نےاعلان کیا تھا کہ انڈیا عالمی منڈی سے قرضے لینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

قرضے لینے کی حمایت میں انھوں نے یہ دلیل دی تھی کہ انڈیا مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے سب سے کم قرضے لینے والے ممالک میں ہے۔ انڈیا کا قومی قرضہ اس کی اپنی مجموعی قومی پیداوار سے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔

کئی دوسرے ملکوں کی طرح انڈیا کے بجٹ میں خسارہ ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرتا ہے اور اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے انڈیا کو قرضہ لینا پڑتا ہے۔

سنہ 2019 کے وسط سے شروع ہونے والے اور سنہ 2020 کے وسط تک ختم ہونے والے مالیاتی سال میں انڈیا کا خسارہ 103 ارب ڈالرز ہوگا جو کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کا تین اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔

عموماً حکومت یہ خسارہ اندرونی ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف مرکزی حکومت ہی کو قرض نہیں لینا ہوتا ہے۔

انڈیا کی ریاستی حکومتیں (صوبائی حکومتیں) بھی اپنے بجٹوں کے خساروں کو پورا کرنے کے لیے گھریلو ذرائع سے قرضے حاصل کرتی ہیں۔ پھر ان کے علاوہ نیم سرکاری مقامی کمپنیاں بھی بہت زیادہ قرضے حاصل کرتی ہیں۔

اسی دوران عام گھریلو بچت جن میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم شامل ہوتی ہیں، انشورنس فنڈز، میوچول فنڈز، زرِ مبادلہ، جو کہ قرضوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان کے کُل حجم میں بھی کئی برسوں سے کمی آرہی ہے۔

اس سے ایک ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے جس میں افراطِ زر کی شرح اور انڈیا کے مرکزی بینک کی کمرشال بینکوں کو قرضے دینے کی شرح سود میں کمی آنے کے باوجود عام صارفین کے لیے قرضوں کی شرح سود زیادہ رہی ہے۔

انڈیا ڈالرز قرضہ

نرملا سیتھا رامن کہتی ہیں کہ انڈیا کے بیرونی قرضے اس کی مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے کم ترین قرضے ہیں۔

حکومت اور نیم سرکاری کمپنیوں کے بھاری قرضوں کی وجہ سے جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا 8.5 فیصد بنتا ہے، عام نجی صارفین کے لیے بہت ہی کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔

انڈیا کے سیکریٹری خزانہ سوبھاش چندرا گرگ نے اشارہ دیا ہے کہ انڈین حکومت اس برس بیرونی ذرائع سے دس ارب ڈالرز کا قرضہ حاصل کرے گی۔ اس کی منطق یہ ہے کہ بیرونی ذرائع سے قرضے حاصل کرنے سے انڈیا گھریلو بچت کو استعمال نہیں کرے جیسا کہ اب تک ہوتا چلا آرہا ہے۔

اور اس طرح مقامی کمپنیوں کے لیے قرضے حاصل کرنے کے لیے کھلا موقع ہوگا کیونکہ حکومت مقامی رقم یا بچت کو قرضوں کی صورت میں نہیں لے گی۔ اس کے نتیجے میں مقامی کمپنیوں کے لیے قرضوں کی شرحِ سود میں کمی بھی آسکے گی۔

یہ بہت اہم ہو گا کیونکہ انڈیا میں نجی سرمایہ کاری گزشتہ کئی برسوں سے بہت ہی کم چلی آرہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نجی کمپنیوں نے سنہ 2004 سے لے کر 2011 کے درمیان کے عرصے میں دھڑا دھڑ قرضے لیے اور انھیں واپس کرنے میں اب تک مشکل محسوس کر رہی ہیں، خاص کر ان قرضوں کو جو انھوں نے کمرشل بینکوں سے حاصل کیے تھے۔ بینک اب نجی کمپنیوں کو قرضے دینا ہی نہیں چاہتے ہیں۔

انڈیا ڈالرز قرضہ

انڈیا کی معیشت سُست روی کا شکار ہے۔

کئی ماہرینِ اقتصادیات اور سرکاری افسران کا خیال ہے کہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ رکا ہوا ہے۔

لیکن حکومت ایک اور طریقے سے قرضے بھی لے سکتی ہے اور شرحِ سود میں کمی بھی کرسکتی ہے۔

حکومت کو صرف بیرونی سرمایہ کاروں کی انڈیا کی قرضوں کی منڈی میں سرمایہ کاری کی مقررہ حد میں اضافہ کرنا ہوگا، مثال کے طور پر سرکاری یا کارپوریٹ بانڈز وغیرہ۔

انڈیا ڈالرز قرضہ

انڈیا کا روپیہ

بیرونی سرمایہ کمپنیوں کو مقامی مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ انڈیا کی مقامی بچتوں سے حاصل ہونے والے قرضوں کی رقم پر کم دباؤ ہو گا۔ اس سے بیرونی قرضے حاصل کیے بغیر بھی مقامی شرحِ سود میں کمی آئے گی۔

اور اس طرح بیرونی قرضوں کو، جو کہ کسی بیرونی کرنسی میں لیے جائیں گے، اپنی کرنسی میں واپس کیا جا سکے گا، جو کہ ہم ابھی دیکھتے ہیں کہ اس کی اہم منطق بھی بنتی ہے۔

کرنسی کا خطرہ

ڈالروں میں قرضوں کا حصول سستا ہو سکتا ہے، اور اس طرح حکومت کے لیے ان قرضوں میں شرح سود کم ہو سکتی ہے۔

لیکن اس فائدے سے جڑے کچھ مسائل بھی ہیں۔

فرض کریں کہ حکومت امریکی ڈالروں میں قرضے لیتی ہے، روپے کی قدر میں کمی آنا نظر آتا ہے کیونکہ انڈیا کا افراطِ زر امریکی افراطِ زر سے کافی زیادہ ہے۔ پھر ڈالروں کی صورت میں لیے گئے کم شرحِ سود پر بیرونی قرضوں کی واپسی مہنگی پڑے گی کیونکہ بعد میں حکومت کو مہنگے داموں پر امریکی ڈالر خرید کر قرضہ اور اس پر بننے والا سود واپس کرنا ہو گگ۔

اس لیے حکومت کے اس فیصلے سے ہر کوئی خوش نہیں ہے کہ بیرونی ذرائع سے قرضے حاصل کیے جائیں۔

انڈیا ڈالرز قرضہ

انڈیا پھر سے اندرونی مارکیٹ کو محفوظ کرنے کی پالیس کی طرف لوٹ گیا ہے۔

اس کے علاوہ بیرونی ذرائع سے قرضے لینے کے کئی دیگر مسائل وابستہ ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس سے روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہونا شروع ہو جائے گی، کم از کم ایسا شروع شروع میں تو ضرور ہو گا۔ جب پاؤنڈز فروخت کیے جاتے ہیں اور ڈالرز (یا کوئی بھی دوسری غیر ملکی کرنسی) کو واپس انڈیا لایا جاتا ہے تو ان کو روپوں میں بدلا جاتا ہے۔ اس سے روپے کی طلب میں اضافہ ہوگا اور بالآخر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح اس کچھ عرصے کے لیے انڈیا کی برآمدات متاثر ہوں گیں جو کہ پہلے ہی کم ہیں۔ اس سے درآمدات سستی ہو جائیں گی اور مقامی پراڈکٹس کو نقصان پہنچے گا۔

گذشتہ چند برسوں میں انڈیا پالیسی آف پروٹیکشنزم کی طرف لوٹ آیا ہے یعنی اندرونی پیداواریت کو محفوظ بنانے کے لیے کھلی منڈی کے اصول کو چھوڑ رہا ہے۔ اور اس طرح حکومتی سطح پر پالیسیوں میں ربط نہیں ہے۔

کئی ماہرینِ اقتصادیات نے بھی بیرونی ذرائع سے قرضوں کے حصول کے فیصلے پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔

The Bharatiya Janata Party's Nirmala Sitharaman signs papers after taking oath as a cabinet minister during the swearing-in ceremony on May 30, 2019 in Delhi, India

انڈیا کی پہلی خاتون وزیرِ خزانہ نرملا سیتھارامن

جب کوئی حکومت اپنی کرنسی میں قرضے لیتی ہے تو اس کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ یہ انھیں واپس کرنے کے لیے نوٹ چھاپ سکتی ہے۔ ماہرین اسے قرضوں کو افراط زر کی شکل دینا کہتے ہیں۔ لیکن یہ اختیار اس وقت نہیں ہوتا ہے جب بیرونی زرِ مبادلہ میں قرضہ لیا جاتا ہے۔ انڈیا کا مرکزی بینک ہوا میں سے ڈالرز نہیں پیدا کرستا ہے۔ یہ صرف روپے چھاپ سکتا ہے۔

جیسا کہ سابق وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے حکومت کے قرضوں کے بارے میں گذشتہ برس ایک سرکاری اخبار میں لکھا تھا کہ ’قومی قرضے زیادہ تر گھریلو ذرائع سے لیے جاتے ہیں، اور یہ مقامی کرنسی میں ہوتے ہیں، اس طرح قرضے کسی بھی خطرے سے محفوظ رہتے ہیں۔‘

کئی ممالک ماضی میں اپنے قرضوں کی واپسی میں بہت مشکلات میں رہے کیونکہ ان کے قرضے غیر ملکی زرِ مبادلہ میں لیے گئے تھے۔ ارجنٹائین، برازیل اور میکسیکو اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اور اسی طرح سنہ نوے کی دہائی میں انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کئی ماہرین کو اسی بات پر تشویش ہے کہ اس طرح کہیں انڈیا کے ساتھ بھی نہ ہو۔

انڈیا ڈالرز قرضہ

آسٹریلیا کے ڈالرز

لیکن کرنسی کے لیے خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیرونی قرضے ایک حد سے بڑھ جائیں۔

دس ارب ڈالرز کے قرضے سے کرنسی کی مارکیٹ میں خطرہ پیدا تو نہیں ہونا چاہئیے، خاص کر ایسی صورت میں جب انڈیا کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 428 ارب ڈالرز ہوں۔

یہ سب کچھ کہنے کے بعد بھی یہی کہا جائے گا کہ حکومت بیرونی ذرائع سے قرضے حاصل کرنے کی پالیسی سے گریز کرے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے بیرونی قرضوں کے حصول کا نشہ بہت تیزی سے لگتا ہے، کیونکہ یہ قلیل مدت کے لیے تو سستے محسوس ہوتے ہیں۔

اب جبکہ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں سرمایہ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، اور اگر حکومت قرضہ لینا چاہتی ہے تو، سرمایہ آسانی سے میسر ہوگا۔ اس سے کچھ مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

ایک تو اس سے کرنسی کے لیے خطرات پیدا ہوں گے اور دوسرے یہ کہ اب جب کہ انڈیا کے اعداد و شمار کے درست ہونے پر کئی سوالات اٹھے ہیں، کسی بھی قسم کے بین الاقوامی بحران سے انڈیا کو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے، چاہے بیرونی قرضوں کا حجم کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *