نیا پاکستان یا ڈکٹیٹر شپ

عمران خان نے الیکشن مہم میں یہ وعدے کیے تھے کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گے۔ ملک ریاست مدینہ جیسا بن جائے  گا اور محمد ﷺ کے ذریعے قائم کردہ ایک فلاحی ریاست کی شکل اختیار کر لے گا۔ ان کے اقتدار میں آنے کے لگ بھگ ایک سال کے عرصہ میں جو نیا پاکستان انہوں نے بنایا ہے یہ ایک مشکلات میں گھری ڈکٹیٹرشپ کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ زیادہ تر اپوزیشن لیڈرز جیل میں ہیں اور بہت سے لیڈران کو میڈیا پر آنے نہیں دیا جاتا۔ پارلیمانی ممبران کو منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور ضمانت نہیں دی جاتی۔ نئے پاکستان میں معیشت تو حقیقت میں ہی آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے۔روٹی کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور  ایسے بازار جہاں غریب لوگ کاروبار کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں وہاں بلڈوزر چلا کر دکانیں منہدم کی جا رہی ہیں۔  سٹاک مارکیٹ حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ ایک موقع پرعمران خان نے ملکی وقار کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ جب ہم غیر ملک سے پیسہ ادھار لیتے ہیں تو ہماری عزت اور وقار میں کمی آ جاتی ہے۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد سب سے پہلا قدم انہیں نے کیا اٹھایا؟ انہوں نے  سافٹ لون کی خاطر سعودی شہزادے کی گاڑی ڈرائیو کرنے کو ترجیح دی۔ انہوںنے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے وہ خود کشی کر لیں گے۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی انہوں نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے ہاتھ ملا لیا  اور 6 ارب ڈال کا پیکج مانگ لیا۔  الیکشن مہم کے دوران  سیاستدان ایسے وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کی نیت میں شامل نہیں ہوتا۔ ایک وعدہ جو عمران خان  پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہے کرپٹ سیاستدانوں کو سزا دیان اور انہیں لوٹا پیسا واپس کرنے پر مجبور کرنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سیاستدانوں نے ملک کا اربوں روپیہ چوری کیا ہے  جو انہوں نے سوئس بینکوں میں چھپا رکھا ہے۔ لیکن اب تک یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ اگر غیر ملکی بینکوں میں لوٹا پیسا موجود بھی ہے تو اسے واپس لانے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ۔سابقہ صدر آصف علی زرداری جو منی لانڈرنگ کے الزامات میں جیل میں ہیں کو پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے تیار ہیں  تو انہوں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں چھ ڈالر بھی نہیں دوں گا۔

اب چونکہ کرپٹ سیاستدان تو پیسہ دینے سے انکاری ہیں تو خان کو اب وہی طریقہ اپنانا پڑ رہا ہے یعنی دوسروں سے قرضہ مانگنا اور عوام سے ٹیکس وصول کرنا۔ لیکن ان کی طرف سے عوام سے ٹیکس دینے کی اپیل پر بھی کوئی  توجہ نہیں دی جا رہی۔ ٹیکس حکام کے مطابق  گراس ڈومیسٹک پراجیکٹ ریشو  کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح پچھلے پانچ سال کی سب سے نیچے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام نے بہت سے لیڈران کو دیکھ لیا کہ وہ خود تو بلکل ٹیکس نہیں دیتے ۔ اگرچہ خان کے اپنے ڈیکلیر شدہ اثاثوں کی قیمت2017 میں  3.8 ارب روپے تھی لیکن  انہوںنے بہت سے عام صحافیوں کے مقابلے میں بھی کم ٹیکس دیا ہے۔

خان اکثر دعوی کرتے تھے کہ ان کے اندر ایک اچھی ٹیم کا ا نتخاب کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اب انہوں نے اپنے گرد وہی لوٹے جمع کر لیے ہیں جن کے خلاف وہ تقریریں کیا کرتے تھے۔ ان کی کابینہ کے نصف سے زیادہ وزرا پرویز مشرف کی کابینہ میں رہ چکے ہیں۔ جو شخص اس وقت وزیر ریلوے ہے اس کے بارے میں ایک بار خان نے کہا تھا کہ میں اسے ایک چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ ایک اور شخص جو اب عمران کو بہت بڑا اتحادی ہے اور پنجاب اسمبلی کا سپیکر ہے اسے عمران نے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا تھا۔  جب وہ معاشی معاملات پر لیکچر دیتے ہیں تو وہ انگلینڈ کی ملکہ جیسے نظر آنے لگتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے نہ کبھی کیش  اپنے پاس رکھی اور نہ کبھی ایک عام آدمی کی طرح مانانہ بجٹ ترتیب دیا ہے۔ بہت سے امیر زادوں کی طرح جنہیں معاشی طور پر تحفظ حاصل ہوتا ہے ، عمران خان آئین رینڈ جیسے لوگوں کے کلمات شئیر کرتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کیسے معیشت کو فکس کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے  ہیں اور وہ 99 فیصد عوام کا بوجھ اپنے ٹیکسز سے پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن 99 فیصد جو ریٹرن فل نہیں کرتے وہ پاکستانی امرا کی عیاشیوں کو بوجھ  گیس بجلی کے بلوں اور بلواسطہ ٹیکسز کے ذریعے اٹھا سکتے ہیں  ۔ اس کے باوجود ان  بیچاروں کو انہی کے دیے ٹیکسز سے بنے سکولوں اور ہسپتالوں تک رسائی تک نہیں ملتی۔ جب خان کے مخالفین ان کے بیانات اور قابلیت پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں اس سے بہت زیادہ چڑھ ہونے لگی ہے۔ جب خان کو  پارلیمنٹ میں سلیکٹڈ کہا گیا تو سپیکر نے فلور پر سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی۔ تب سے ایسا  لگتا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں نے یہ لفظ اتنا زندگی بھر استعمال نہیں کیا ہو گا جتنا اس پابندی کے بعد کیا ہے۔ پاکستان میں جب کسی حکمران کو مشکل پیش آتی ہے تو وہ آرمی کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اسی لیے خان نے نئے اکنامک کونسل میں آرمی چیف قمر جاوید باوجوہ کو بھی شامل کر رکھا ہے۔ (بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آرمی چیف نے خود کو خود ہی منتخب کیا ہے۔ ) ملٹری پہلے ہی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر کنٹرول رکھتی ہے اور اب یہ معاشی معاملات پر بھی اپنی دانشوری سے ملک کو فائدہ پہنچائے گی۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ اصل میں حکومت کون کر رہا ہے، ان دو پالیمانی ممبران کا کیس دیکھ لیجیے جہیں کچھ عرصہ قبل ہی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ علی وزیر اور محسن داوڑ پی ٹی ایم کے منتخب نمائندے ہیں۔ پی ٹی ایم پشتوںوں کو پیدائشی دہشت گرد سمجھے جانے والے ریاستی بیانیہ کی مخالفت میں آگے آگے ہیں۔ انہوں نے لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل اور قبائلی علاقہ جات میں بچھائے گئے لینڈ مائنز کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے اکثر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان آرمی جان بوجھ کر ان کے علاقے کو میدان جنگ بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ ۔ اسی طرح کی باتیں عمران خان بھی کیا کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے کراچی میں نیٹو سپلائی روکنے کے لیے روڈ پر راست بسر کی تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ یہ سپلائی پشتونوں کے خلاف جنگ کے لیے لے جائی جا رہی ہے۔

جب وزیر اور داوڑ منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچ گئے تو جو وہ پی ٹی ایم کی ریلیوں میں کہا کرتے تھے وہ پارلیمانی فلور پر کہنا شروع کر دیا۔ اور پھر اپریل میں اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ کچھ ہفتے بعد وزیر اور داوڑ  پر کھڑمار آرمی چیک پوسٹ پر حملے کا الزام لگا دیا گیا جس میں 13 سویلین جان بحق ہوئے تھے۔ لیکن ایسی بہت سے ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں وہ فوجی افسران کے ساتھ بحث کرتے ہوئے بارڈر کراس کرتے اور فائرنگ کا نشانہ بنتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

کوئی انکوائری ہوئی ہی نہیں۔ دونوں پارلیمانی نمائندے کسٹوڈی میں ہیں۔ دوسرے قید سیاستدانوں کے برعکس جنہیں قید کے دوران بھی قومی اسمبلی کے سیشن میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے ، وزیر اور داوڑ کے بارے میں ان کے قید ہونے کے دن سے آج تک کسی کو کوئی خبر نہیں ہے۔ پیغام بلکل صاف ہے۔ اگرچہ لوگوں نے آپ کو منتخب کیا ہے لیکن پھر بھی آپ فوج سے بھڑ نہیں سکتے۔ پاکستان کی نئی اسٹیبلشمنٹ کوئی نئی چالیں نہیں ایجاد کر رہی۔ یہ صرف پرانی چالوں پر ہی انحصار کر رہی ہے۔ رواں ماہ ایک پارلیمانی نمائندے کو جو عمران حکومت پر سخت تنقید کرتا تھا، منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس جو ایک حاضر سروس میجر جنرل کی سربراہی میں چل رہا ہے کا دعوی ہے کہ ملزم سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بلکل فوجی اقتدار کے دور کی طرف ملک کو لوٹا دیا گیا ہے جب مخالف سیاستدانوں کو بھینس چوری  یا گھر سے بم برآمد ہونے کے الزامات پر گرفتار کیا جاتا تھاجیسا کہ دامن نامی شاعر کے گھر سے بم برآمد ہونے کا کیس بنایا گیا تھا۔ شاعر نے اس پر نظم بھی لکھی ہے۔ پاکستانی فوج کا یہ خیال ہے کہ اسے ملک پر حکمرانی کے لیے چمچہ گیری کرنےو الے سیاستدان ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ عمران خان کی شکل میں جرنیلوں کو ایک نایاب سیاستدان ملا ہے جو ایک پاپولسٹ ہے اور ہر لحاظ سے تعاون پر آمادہ ہے کیونکہ اسے یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ سلیکٹڈ ہے یا الیکٹڈ۔ عمران خان سب سے پرانے پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن ان کے اندر ہر قیمت پر جیت کے لیے ایک سپورٹسمین کا جذبہ موجود ہے۔ لیکن میں نے آج تک ان جیسا ناراض اور قابل رحم کپتان آج تک نہیں دیکھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کی الیکشن میں جیت گیم کا خاتمہ نہیں تھی۔ الیکشن بعد اصل جنگ شروع ہوئی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *