بڑے بھائی کی ایڑی

میڈیا رائٹس ایک دائرہ مکمل کر کے اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا کی آزادی کی تین دہائیوں کا عرصہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب ہم ایک بار پھر بیڑیوں میں جکڑے جا چکے ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیجیے۔ یوم آزادی سے اگلے 4 دہائیوں تک ضمیر نیازی کے الفاظ میں ہمارا میڈیا بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ جنرل ایوب اور ضیا کی ڈکٹیٹر شپ اور ذوالفقار علی بھٹو کی آٹو کریٹ گورنمنٹ میں پاکستانیوں کو بی بی سی ریڈیو کا سہارا لینا پڑتا تھا  یہ جاننے کے لیے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ لیکن 1987 میں ضیا کی موت کے بعد جمہوری طرز پر الیکشن کا فیصلہ کیا گیا اور نگران حکومت نے 1962 کے پرنٹ اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس میں تبدیلی کر دی اور پرنٹ میڈیا کو آزادی بخش دی۔ بے نظیر بھٹو کو اپنے پہلے دور حکومت  میں سخت تنقید دیکھنے کو ملی لیکن انہوں نے اسے جمہوری قدر سمجھ کر برداشت کیا اور جیو اور جینے دو کا رویہ اپنائے رکھا۔ اپنے پہلے دور حکومت میں نواز شریف کو میڈیا کی آزادی زیادہ پسند نہیں تھی لیکن انہوں نے میڈیا سے محاذ آرائی سے اجتناب کیے رکھا۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں بھی بے نظیر بھٹو نے جمہوری اقدار کا دامن تھامے رکھا لیکن نواز شریف کو 1997 میں جب بھاری مینڈیٹ سے کامیابی ملی تو انہوں نے میڈیا میں مخالفین کے خلاف سخت رویہ اپنا لیا۔ البتہ  دونوں سیاسی رہنما پرنٹ میڈیا کے الیکٹرانک میڈیا میں ڈھلنے کے معاملے میں پریشان دکھائی دیے۔ پھر 2000ء کے آغاز میں پرویز مشرف میڈیا کے ڈارلنگ بن گئے جب انہوں نے بہت سے ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کیے  تا کہ خود کو ایک جمہوری لیڈر کے طور پر پیش کر سکیں اور امیر المومنین بننے کے خوابوں سے علیحدگی کا اعلان کریں۔ اس دور میں ٹی وی چینلز کی تعداد تقریبا 100 کے قریب پہنچ گئی۔ میڈیا نے اچھے جرنیل کی حکومت کو بہت پروموٹ کیا  اور سب کچھ ٹھیک چلتا رہا لیکن پھر مشرف نے ایک سپریم کورٹ جج سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی سنگین غلطی کر لی۔ اب وہی آزاد میڈیا حکومت کے پیچھے پڑ گیا اور انہیں اقتدار سے محروم کر دیا۔

آصف زرداری کے دور حکومت میں میڈیا بہت شارپ تھا پھر بھی اسے حکومت کی طرف سے نرم رویہ دیکھنے کو ملتا رہا۔ یہی حال نواز شریف کے دور حکومت میں بھی رہا اگرچہ انہیں اسی میڈیا کے ذریعے برپا کیے گئے پانامہ سکینڈل پر اپنے عہدہ سے بھی رخصت ہونا پڑا۔ لیکن میڈیا میں ایک بڑی ڈویلپمنٹ جو پچھلے دس سال کے عرصہ مین آہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہو چکی تھی وہ کارپوریٹائزیشن تھی۔ تیزی سے ایک ایسا ٹریںڈ دیکھنے کو ملا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تنظیموں نے بڑے بڑے کاروباروں پر قبضہ کر لیا اور صحافتی اقدار کو فراموش کیا گیا۔ کارپورریٹ اکنامک اور سیاسی مفادات کو سامنے رکھتے ہوے معیار اور خود مختاری کو بلی چڑھا دیا گیا۔ اس خاص ڈویلپمنٹ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ ملی ٹیبلشمنٹ کو میڈیا میں زیادہ سپیس ملنے لگا اور وہ ایڈیٹوریل پالیسیوں پر حب الوطنی اور قومی مفاد کے نام سے اپنا کنٹرول مضبوط کرتے چلے گئے۔ جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومتوں پر اب ملی ٹیبلشمنٹ کا پریشر بڑھنے لگا تھا اور پاپولر میڈیا نے عوامی نمائندوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ زرداری دور میں شروع ہوا اور پچھلے نواز شریف کے دور حکومت میں بہت زیادہ قوت پکڑ گیا۔

پچھلے چند سالوں میں ملی ٹیبلشمنٹ بدل چکی ہے۔ اس میں شامل لوگ زیادہ جارحیت پسند اور خود پسندی کی خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہ چیز نیشنلسٹک اینٹی لبرل سٹیٹس کو کی اس لہر کا حصہ ہے جو اس ملینئیل دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کی حدود ہمیشہ سے زیادہ وسیع تر ہو چکی ہیں۔ مشرف کی رخصتی کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈی جی کو سرونگ بریگیڈئیر کے عہدے سے ترقی دے کر میجر جنرل کا عہدہ دیا گیا۔ اس کے ہیڈ کوارٹرز کو از سر نو تعمیر کر کے ماڈرن طرز میں ڈھال دیے گئے۔ اس ادارے پر فنڈز کی بارش کر دی گئی۔۔ اس کے سکوپ اور مشن سٹیٹمنٹ کو توسیع دی گئی۔ ڈی جی کے پریس بیانات، کانفرنسیں اور ٹویٹس نیوز سائیکل میں اہم ترین حیثیت کے حامل بنا دیے گئے۔ ملینئیل رپورٹرز اور ٹی وی اینکرز اپنی حب الوطنی کی دھاک بٹھانے کے لیے اور اپنی نوکری پکی کرنے اور اپنے بزنس مالکان سے قربت اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے پر ٹوٹتے پڑے ڈی جی کو کوریج دینے لگے۔

ملک کے منتخب حکومتی نمائندوں کو میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی نا اہلیت اور کرپشن کی کہانیاں جو ملی ٹیبلشمنٹ کی طرف سے پروموٹ کی گئیں نئے میڈیا پر سب سے زیادہ سننے کو ملنے لگیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ عمران خان اورملینیل کی حمایت رکھنے والی پی ٹی آئی جماعت نئی ملینئیل ملی ٹیبلشمنٹ کی ٹیکٹیکل اور سٹریٹیجک پالیسیوں کی مدد سے مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔ اب ہم اس غیر مقدس سیاسی اتحاد کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ پیمرا کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ اب یہ ملی ٹیبلشمنٹ اور حکومت کے ہاتھوں میں میڈیا کے خلاف استعمال ہونے والا ایک کھلونا بن چکا ہے۔ توقع کی جاتی تھی کہ پرائیویٹ سیکٹر میں موجود کیبل آپریٹرز غیر جانبدار بزنسمین کا کردار ادا کریں گے۔ اب وہ ایک نا معلوم کال پر ہی چینل بند کرنے کے لیے تیار بیٹھے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا خیال تھا کہ یہ ورلڈ وائیڈ ویب پر آزادی سے آپریٹ کر سکتا ہے۔ لیکن ٹویٹر، فیس بک اور انسٹا گرام کو حکومت کی طرف سے مخالف آوازوں کو دبانے کی پٹیشنز آئے روز وصول کرتے ہیں۔ کئی بار سوشل میڈیا پر محرک لوگوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے تا کہ باقی لوگوں کو سبق سکھایا جا سکے۔ اب سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار صحافیوں کے پاس جاتے ہیں اور انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کرتے اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں دھمکی دیتے ہیں۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ شہرت یافہ صحافیوں کے خلاف حب الوطنی کے خلاف اور غداری کی شکایات ملک بھر کے پولیس سٹیشنوں میں درج کروائی جاتی ہیں۔ میڈیا مالکان مشکلات پیش کرنے والے صحافیوں اور اینکرز کو نوکری سے فارغ کر رہے ہیں  اور کچھ صحافیوں کو تو اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاونٹس سے بھی اپنی آراء کا اظہار کرنے سے روک رہےہیں۔ صحافیوں کے احتجاج کو بھی میڈیا خود دکھانے سے قاصر ہے۔

عدلیہ کسی طرح کا بھی ریلیف نہیں دے پا رہی۔ یہاں تک کے بی بی سی کو بھی نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی جمہوریت اب مکمل طور پر جارج اورویلستان میں پہنچ چکی ہے۔ ہم بڑے بھائی کی ایڑی کے نیچے پھنس چکے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *