آبنائے ہرمز: ایران نے ایک برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیریمی ہنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے خلیجِ فارس میں روکے جانے والے برطانوی آئل ٹینکر کو نہ چھوڑا تو اس کے ’سنگین نتائج’ ہوں گے۔

دی سٹینا امپیرو نامی اس آئل ٹینکر کے مالکان کا کہنا ہے کہ اس آئل ٹینکر پر عملے کے 23 افراد سوار ہیں اور ان کا رابطہ جہاز کے عملے سے نہیں ہو پا رہا۔

وزیرِ خارجہ جریمی ہنٹ نے بتایا کہ بحری جہاز کو چار کشتیوں اور ایک ہیلی کاپٹر نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور برطانوی ملکیت والا آئل ٹینکر جس پر لائیبیریا کا جھنڈا ہے، پر مسلح افراد چڑھے تھے تاہم اسے اپنے راستے پر جانے دیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کی اعلیٰ سطحی ایمرجنسی کمیٹی کوبرا کے اس حوالے سے جمعے کے روز دو مرتبہ اجلاس ہو چکے ہیں۔

ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دی سٹینا امپیرو نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے بندرگاہوں اور میری ٹائیم آرگنائزیشن آف ایران کے حوالے سے بتایا کہ ’ہمیں کچھ اطلاعات ملیں کہ ایک برطانوی ٹینکر مسائل پیدا کر رہا ہے۔ ہم نے فوج سے کہا کہ اس ٹینکر کو بندرگاہ بندر عباس پر لے جا کر تفتیش کی جائے۔‘

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر کو تین وجوہات پر روکا گیا ہے، پہلی یہ کہ اس نے اپنا جی پی ایس سسٹم بند کر دیا، دوسری یہ کہ یہ آبنائے ہرمز میں درست راستے کے بجائے باہر جانے کے راستے سے داخل ہوا، اور تیسری یہ کہ اس نے تمام تر تنبیہی پیغامات کو نظر انداز کیا۔

US IRAN

’متعدد بار امریکہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی لیکن پھر جہاز اور اس کے عملے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈرون کو مار گرایا‘

ایران نے یہ اقدام ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے تاہم ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ یو ایس ایس باکسر نامی امریکی جنگی بحری جہاز نے جمعرات کو اس وقت ’دفاعی کارروائی‘ کی جب یہ ڈرون بحری جہاز کے 1000 گز تک قریب آیا۔

ادھر ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ملکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیخراچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر کے مبالغہ آمیز دعوے کے برعکس خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود تمام ایرانی ڈرون نگرانی کے مشن مکمل کرنے کے بعد بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آئے ہیں اور یو ایس ایس باکسر سے مڈ بھیڑ کی کوئی رپورٹ نہیں دی گئی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے بے بنیاد اعلانات کا مقصد اشتعال انگیزی اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے کچھ روز قبل فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ 'ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔'

ادھر تہران نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ اس نے ایک ’غیر ملکی ٹینکر‘ کو 12 افراد کے عملے سمیت پکڑا ہے جو خلیج میں ایندھن سمگل کر رہا تھا۔

امریکہ رواں برس مئی کے بعد سے اب تک متعدد بار ایران پر یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے بحری علاقوں میں بین الاقوامی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

حالیہ واقعات کے بعد خطے میں مسلح تنازعے کے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے کیا کہا؟

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ’میں سب کو آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتا چلوں جس میں امریکی یو ایس ایس باکسر جنگی جہاز نے شرکت کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایرانی ڈرون نے دفاعی کارروائی کی ہے جو کہ جہاز سے تقریباً ایک ہزار گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔ متعدد بار امریکہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی لیکن پھر جہاز اور اس کے عملے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈرون کو مار گرایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں جاری اشتعال انگیزی کارروائیوں کی حالیہ مثال ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور لوگوں کا دفاع کرے۔

اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ ایران تیل بردار جہاز کو فوری طور پر چھوڑ دے۔

ایرانی میڈیا پر پاسدران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تپا کہ ایران نے جہاز کو سمگل ہونے سے روکا جس میں دس لاکھ لیٹر ایندھن موجود تھا۔

ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون کو ’دفاعی کارروائی‘ میں گرایا گیا ہے‘

ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں رائے نامی ٹینکر وہاں چکر لگا رہا ہے۔

ایران نے کہا کہ ملک کے جنوبی علاقے میں اب بھی ٹینکر موجود ہے۔

ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے جب امریکہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا۔

امریکہ کا الزام ہے کہ مئی اور جون میں دو مختلف حملوں میں خلیج اور عمان میں اس کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

علاقائی کشیدگی

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یک طرفہ طور پر علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے پر سنہ 2015 میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔

معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف تین فیصد یورینیم افزودہ کر سکے گا۔

آبنائے ہرمز

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ یورینیم جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ گذشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو پہچنے والے نقصان کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایران نے کچھ روز قبل فضائی حدود کی حلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا۔ جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ 'ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔'

برطانیہ کے اس بیان کے بعد کہ جون میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ دار یقینی طور پر ایرانی حکومت ہے، ایران اور برطانیہ کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

برطانیہ ایران پر دوہری شہریت رکھنے والی نازنین زغاری ریٹکلف کی رہائی کے لیے بھی دباؤ ڈال رہا ہے جن کو سنہ 2016 میں جاسوسی کے الزامات میں پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی تاہم وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *