کلاسرہ صاحب کی تحقیقاتی رپورٹنگ

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

کلاسرہ صاحب کی تحقیقاتی رپورٹنگ

خامہ بدست کے قلم سے
”کرپشن کا نٹریکٹ“ کے نام سے ”دنیا“ میں جناب رؤف کلاسرہ کا تازہ کالم زیر نظرہے، موصوف خود کو عصر حاضر کا سب سے بڑا انویسٹی گیٹورپورٹر سمجھتے ہیں، اور وقتاً فوقتاً اپنی حق گوئی کی یاددہانی بھی کراتے رہتے ہیں۔ وہ ایک ٹی وی چینل پر عامرم متین کے ساتھ ایک پروگرام بھی کرتے ہیں جو ان کے کالموں کی طرح زیادہ تر مالیاتی بدعنوانیوں کے سکینڈلزپرمشتمل ہوتا ہے۔ ان کے مستقل ناظرین اور قارئین سمجھتے ہیں کہ ایک ارب روپے کے کسی کانٹریکٹ میں ڈیڑھ ارب کی کرپشن ڈھونڈ نکالنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
زیر نظر کالم جناب شاہد خاقان عباسی کی کرپشن کے الزام میں گرفتاری پر ہے جس کا بیشتر حصہ میاں نوازشریف اور محترمہ بینظیر بھٹو کی باہم متصادم سیاست اور ان کے ادوار میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر ہے، وہ کہانیاں جنہیں ہم سب برسوں سے سنتے آ رہے ہیں۔
میاں صاحب اور بی بی میں ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی پرطنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لندن میں ہونیوالے اس کانٹریکٹ میں بھی کئی کہانیاں سنائی گئیں اور لمبے لمبے دعوے کئے گئے۔ اس دوران بے نظیر بھٹو نے Truth and Reconcilation Commissionجنوبی افریقہ کی طرز پر بنانے کی تجویز دی، مطلب وہی تھا کہ جو کچھ ہم سیاستدان کھاپی چکے ہیں، وہ بھول جائیں۔آئندہ وہ سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے؟
چارٹر آف ڈیمو کریسی، جمہوریت سے بیزار اکثر دانشور وں اور کچھ دیگر حلقوں اور اداروں کو بطور خاص بہت کھٹکتا ہے، اور وہ اسے ”چارٹر آف ڈکیٹی“ بھی کہتے ہیں، حالانکہ یہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بہتر تعلقات کار،ایک دوسرے کے سیاسی وجمہوری حقوق کے احترام اور سول وملٹری کے درمیان آئین میں طے کی گئی ورکنگ ریلیشن شپ پر عملدرآمد کا پیمان ہے۔ اور یہی بات بعض عناصر کے لیے تکلیف دہ ہے۔
جب یہ چارٹر طے کیا جارہاتھا(مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اسحاق ڈار اور احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کی طرف سے رضا ربانی اور صفدر عباسی کو اس کے بنیادی خدوخال وضع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی) تو محترمہ کی طرف سے ماضی میں قائم کئے گئے کرپشن مقدمات کے خاتمے کی تجویز پیش کی گئی، جس پر میاں صاحب کا موقف تھا کہ اس سے مخالفین کو یہ پراپیگنڈے کرنے کا موقع ملے گا کہ یہ چارٹر دراصل اپنے مقدمات کے خاتمے کے لیے ہے۔انہوں نے جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلیئشن کے قیام کی تجویز پیش کی (یہ کمشن جدید جنوبی افریقہ کے بانی نیلسن مینڈیلا نے قائم کیا تھا جس کا مطب تھا کہ کرپشن کے ملزمان کمیشن کے سامنے آکر سچ بات کریں (اپنے گزشتہ گناہوں کا اعتراف کریں) آئندہ کے لیے نیک چلنی کا وعدہ کریں اور یوں مصالحت اور مفاہمت کے نئے دور کا آغاز ہو)مزید فرماتے ہیں: ابھی شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر ہونے والا واویلا سن رہا ہوں۔ اب ایک نیا ٹرینڈ آگیا ہے کہ جو بھی کرپشن میں پکڑا جاتا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ صفا ئیاں صحافی دینے لگتے ہیں۔ان صحافیوں میں سے اکثر کو اب سیاسی پارٹیاں جوائن کرلینی چائیں۔ معاف کیجئے! ایسے”ناہنجار“صحافی کرپشن کی صفائیاں نہیں دیتے، عدل وانصاف کے تقاضوں پر عمل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ احتساب کی نہیں، سیاسی انتقام کی مخالفت کرتے ہیں، جانبدارانہ احتساب کی تازہ مثال بابر اعوان ہیں کہ نندی پور کیس میں، انہیں بے گناہ قرا ردے دیا گیا جبکہ راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری ہے (بابر اعوان کو بے گناہ اُسی”ویڈیو فیم“ جج ارشد ملک نے قرار دیا ہے) جہاں تک ایسے صحافیوں کو سیاسی پارٹیاں جوائن کرلینے کے مشورے کا تعلق ہے، تو جواباً عرض ہے کہ آپ جیسوں کو نیب اور دیگر تفتیشی اداروں کا پبلک ریلیشننگ ڈیپارٹمنٹ باقاعدہ جوائن کر لینا چاہیے کہ ان کی طرف سے کسی سیاستدان کے خلاف جو چار ج شیٹ جاری کی جاتی ہے، آپ اس پر ایمان لاکر،اس کا پراپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں۔ جہاں تک آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ ان دانشوروں اور صحافیوں کے نزدیک کرپشن اور کرپٹ اس جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہیں، تونہیں،میرے محترم دانشورنہیں! ان دانشوروں اور صحافیوں کے نزدیک سیاسی مخالفین کے خلاف کرپشن کے جھوٹے الزامات سے گریز جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے۔
مزید فرماتے ہیں: میں شرطیہ کہتا ہوں کہ ان سیاستدانوں کے دانشورحامیوں نے شریف خاندان پر بننے والی جے آئی ٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کا ایک صفحہ ایک صفحہ بھی شاید نہ پڑھا ہو، پورے دس والیومز پڑھنا تو دور کی بات ہے۔تو جناب عرض ہے کہ یہ جے آ ئی ٹی جس طرح بھی بنی، ااس سے قطع نظر، اس کی رپورٹ کے حوالے سے خود سپریم کورٹ کے بنچ کے ریمارکس ضرور پڑھے تھے۔ جنہیں اخبارات نے لیڈ اور سپر لیڈ بنایا تھا(20جولائی 2017کے اخبارات)۔صرف دو حوالے پیش خدمت ہیں: ”دنیا“ کی شہ سرخی تھی: ”جے آ ئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم پر عہدے کے غلط استعمال اور کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ اس کا بھی ثبوت نہیں کہ وزیر اعظم کسی پراپرٹی کے مالک ہیں۔“
انگریزی اخبارDAWNکی ہیڈ لائن تھی۔
"No Corruption, misuse of authorits Charge on PM"
جہاں تک شاہد خاقان عباسی کے خلاف کیس کا تعلق ہے، اس کے سارے تاروپود”جنگ“ 20جولائی2019 میں انصار عباسی نے اپنی طویل تجزیاتی خبر میں بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔ اس کی سرخیاں ملاحظہ ہوں:”شاہد عباسی کی ذہانت نے نیب کے سورماؤں کو چت کردیا۔ ایل این جی ٹرمینل کیس میں ایک بھی سوال کرپشن، کک بیکس یا کمشن کے متعلق نہیں۔۔۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *