ایاز امیر کا کالم اور کرپشن کا ٹھپہ

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

ایاز امیر کا کالم اور کرپشن کا ٹھپہ

خامہ بدست کے قلم سے
جناب ایاز امیر ”دنیا“ میں اپنے تازہ کالم ”دوگندے ہوچکے،ایک ناکام“ میں فرماتے ہیں: سابقہ جمہوری ادوار کے دونوں بڑوں پر تو کرپشن کا ٹھپہ لگ چکا۔ کارروائی یا سزائیں ہوتی ہیں یا نہیں، لیکن ملک کے طول وعرض میں یہ تاثر پکا ہوچکا ہے کہ لیگی اور پیپلی دونوں قیادتوں نے لوٹ مار کے ایسے ریکارڈ قائم کئے جس کی مثال پاکستان کی زخم خوردہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اقبال نے شاعر کو ”دیدہئ بینائے قوم“ کہاتھا، ہمارے بعض دانشوروں نے بھی خود کو اس مقام پر فائز کرلیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس طرح چیزوں کو دیکھتے ہیں (اور اپنی مخصوص عینک کے ساتھ جس طرح حالات کا جائزہ لیتے اور پھر تجزیہ کرتے ہیں) عوام بھی چیزوں کو اسی طرح دیکھتے ہیں۔ جناب ایاز امیر کا زیر نظر کالم اسی کی ایک اور مثال ہے۔ یہ بات بجا کہ سابقہ جمہوری ادوار کے دونوں بڑوں پر کرپشن کا ٹھپہ لگ چکا۔ وہ تو جب بھی کسی پر کوئی جھوٹا سچا الزام لگتا ہے، اسے ”ٹھپہ“ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ہمارے دانشوریہ دعوےٰ کس بنیاد پر کررہے ہیں کہ ملک کے طول وعرض میں یہ تاثر پکا ہوچکا ہے کہ دونوں قیادتوں نے لوٹ مار کے ایسے ریکارڈ قائم کئے جس کی مثال پاکستان کی زخم خوردہ تاریخ میں نہیں ملتی؟ میاں نوازشریف پر پاناما کا ”ٹھپہ“ اپریل2016 میں لگا۔ (یہ الگ بات کہ ان کی نااہلی ”پاناما“ پر نہیں، اقامہ پر ہوئی، جس کا پاناما میں کوئی ذکر نہیں تھا) پانامہ کے ٹھپے کے ساتھ ہی پراپیگنڈے کا ایک طوفان اٹھادیا گیا۔ ایک کارروائی عدالت کے اندر ہوتی جس کے بعد رات گئے تک ٹی وی چینلز اپنی اپنی عدالتیں لگاکر بیٹھ جاتے۔ عمران خان سمیت سیاسی مخالفین کی پراپیگنڈہ مہم الگ تھی،یہاں تک کہ 28جولائی 2017کو وہ سپریم کورٹ سے نااہل قرار پاگئے۔ اس کے بعد یہ”نااہل“ کرپشن کے ٹھپے کے ساتھ جی ٹی روڈ پر نکلا۔ پانچ، چھ گھنٹے کا سفر چار روزہ میں طے ہوا، سارے راستے لاکھوں لوگ اگست کی گرمی کے باوجود، اس سے اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھے۔ پھر نیب عدالت سے باپ کو دس سال، بیٹی کو سات سال اور داماد کو ایک سال کی سزا ہوگئی۔ فیض نے کہاتھا،
”یہی داغ تھے جو سجاکے ہم سرِ بزم ِیار چلے گئے“‘
باپ بیٹی، سزا کے داغ سجائے لندن سے لاہور پہنچے تو طلعت حسین جیسے معتبر اور محتاط میڈیا پرسن کے بقول، صرف لوہاری اور بھاٹی کے علاقے میں پچاس ہزار افراد اس کے خیر مقدم کے لیے ایئر پورٹ جانے کے لیے موجود تھے۔ دوہفتے بعد(25جولائی کو)عام انتخابات ہوئے، تو تمام تر رکاوٹوں، جنوبی پنجاب میں (بطور خاص)ن لیگ کے امید واروں کے کاغذات نامزدگی واپس کروانے کے باوجود، کرپشن کے ٹھپے والے لیڈر کی مسلم لیگ نے ایک کروڑ28لاکھ ووٹ حاصل کرلئے۔ اور وفاق میں دوسری بڑی اورپنجاب اسمبلی میں دوسروں سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔
جناب ایاز ”زیر عتاب“ سیاسی جماعتوں (ن لیگ اور پی پی پی)پر پھبتی کستے ہیں کہ ان سے عمران خان کی حکومت کو کسی تحریک کا خطرہ نہیں کہ ”یہ جماعتیں اقتدار میں ہوں تبھی ان کے ورکر پہلوان نظر آتے ہیں۔اقتدار سے محروم ہوجائیں تو انہیں ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا ہے“، ایسا ہے تو مریم نواز نامی ایک خاتون کی ریلیوں کو روکنے کے لیے یہ حربے اور ہتھکنڈے کیوں اختیار کئے جاتے ہیں (فیصل آباد ریلی کی تو ایک جھلک بھی ٹی وی چینلز پر نشر نہ ہونے دی گئی اور اگلے دن کے اخبارات بھی یہ خبر ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہی تھی)البتہ مولانا فضل الرحمن کی کسی تحریک کو ہمارا دانشور سنجیدگی سے لے رہا ہے کہ اس کے لیے مولانا کو دینی مدارس کی کک حاصل ہوگی۔ لیکن یہاں وہ ایک اور بات کہتے ہیں: ماضی میں کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جب تک کہ سایوں کے پیچھے سے تھپکی نہ آئی ہو۔ یعنی جب تک اسے انٹلی جینس ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ یہاں وہ ”واقفانِ حال“ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ (مولانا کی تحریک کو)اندھیروں کے پیچھے سے تھپکی آرہی ہے۔ یعنی ممکنہ گڑبڑ کو روکنے کی کوشش نہیں کی جارہی اور اس کا سبب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سایوں میں لپٹے رہنے والے،(عمران خان کی) حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں۔ یہاں فاضل کالم نگار کو سمجھ نہیں آتی کہ”موجودہ حالات میں عمران خان کا متبادل کیا ہے؟ کیا دانشورکو واقعی متبادل کی سمجھ نہیں آرہی؟۔ جناب عالی! اس کے لیے دور جانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آئین پاکستان میں متبادل موجود ہے، آزادانہ وغیر جانبدارانہ انتخابات۔ عوام کا جینوئن فریش میندیٹ۔۔۔لیکن یہاں وہی مسئلہ ہے، کرپشن کے ٹھپے والے نوازشریف کی مسلم لیگ کی واپسی۔

کہا میں اونٹ پر بیٹھوں؟

کہا تم اونٹ پر بیٹھو

کہا کوہان کا ڈر ہے،

کہا کوہان تو ہوگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *