جسٹس عیسیٰ ریفرنس میں ترجیح کیوں؟ جوڈیشل کونسل سے پانچ سوال

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین قانون دان عابد حسن منٹو نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس سمیت دیگر زیر التوا مقدمات کی تفصیل فراہم کرنے کی استدعا   کرتے ہوئے پانچ سوالات اٹھا دیئے۔

عابد حسن منٹو نے سپریم جوڈیشل کونسل میں مذکورہ دونوں ججوں کے خلاف ریفرنس کی کارروائی کے طریقے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ ’وہ 60 سال تک اس ملک کی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی  کرتے رہے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کے ایسے فیصلے ضرور دیکھے ہیں، جن سے شاید اہل اقتدار یا اقتدار کے پیچھے موجود طاقتوں پر اثر پڑا ہے۔‘

عابد حسن منٹو نے خط میں لکھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی پریس ریلیز کے مطابق 398 ریفرنسز نمٹائے جاچکے ہیں جبکہ 28 زیرِ التوا ہیں۔لہذا سپریم جوڈیشل کونسل میں نمٹائے گئے اور زیر التوا ریفرنسز کی تفصیل منظر عام پر لائی جائیں۔

سینیئر قانون دان کے خط میں کہا گیا ہے کہ ’اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی ریفرنس کا فیصلہ منظرعام پر لایا جاسکتا ہے تو دیگر فیصلے بھی منظرعام پر لائے جائیں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس سننے کی وجوہات بھی بتائی جائیں۔‘

منٹو کے پانچ سوالات

عابد حسین منٹو نے اپنے خط میں یہ پانچ سوالات اٹھائے ہیں۔

1۔ ریفرنس کے حوالے سے آئینی طریقہ کار میں تبدیلی نہیں کی گئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ باقی ریفرنس چھوڑ کر جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس پر کارروائی شروع کر دی گئی؟

2۔ اب تک کیا کوئی ایسی مثال ہے کہ زیر التوا ریفرنس میں سے کوئی پہلے سنا گیا ہو؟

3۔ سپریم جوڈیشل کونسل جن ججوں پر مشتمل ہے ان میں کتنے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر ہیں؟ اگر ہیں تو کیا پہلے ان پر کارروائی ضروری نہیں؟

4۔ اگر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ مذکورہ دو ججوں کے خلاف کیس ترجیحی بنیاد پر سنا جائے تو موجودہ کونسل کی کارروائی جاری رکھنا تعصب اور حق چھیننے کے مترادف تو نہیں؟

5۔ اگر اس کارروائی میں تعصب کا شائبہ ہے تو کیا یہ مس کنڈکٹ نہیں؟کیا یہ بہتر نہیں کہ نئی کونسل ترتیب دے کر موجودہ ممبران کے خلاف ریفرنسز پر کارروائی کے بارے بھی سوچا جائے؟

منٹو خاندان کے سعادت حسن منٹو نے بھی ماضی میں کئی آئینی و قانونی مسائل کو جواہر لعل نہرو سمیت کئی اعلی حکام کو خطوط لکھ کر اجاگر کیا۔اسی روایت پر چلتے ہوئے عابد حسن منٹو نے اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھا۔

عابد حسن منٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر آئین وقانون کی آڑ میں دو جج صاحبان کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کے شبہ کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ میں نے خط کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ اگر وہ قانون کی مکمل پاسداری اور آئینی تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہوں گے تو پورے ادارے پر سوالات اٹھیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے، اس کو روکنا تمام بار کونسلوں کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس معاملے پر متحد ہو کر آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔‘

منٹو نے بتایا کہ ہفتے کے روز خط بھجوایا گیا ہے، اب اس کے جواب کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنسز پر دو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار سمیت چاروں صوبائی اور ضلعی بار ایسوسی ایشنز نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس اقدام کو جانبدارانہ قرار دے کر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ریفرنسز پر آئندہ سماعت سپریم جوڈیشل کونسل 28 جولائی کو کرے گا جبکہ وکلا تنظیموں نے ہڑتال اور احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔

وکلا برادری اس کارروائی کو مقتدر حلقوں کی جانب سےآزاد عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *