ریکوڈک کیس پر گھات

انٹرنیشنل ٹریبیونل فار سیٹلمنٹ   نے ٹی سی سی کو 5.9 ارب ڈالر کا ہرجانہ دینے کا  حکم جاری کیا ہے۔ یہ رقم اس رقم کے برابر ہے جو پاکستان نے اگلے تین سال کے لیے آئی ایم ایف سے ادھار لی ہے  اور اس مقصد کےلیے اسے مہینوں مذاکرات کرنے پڑے اور بہت سی شرائط کے ساتھ   حاصل کیے گئے۔ پرائم منسٹر عمران خان نے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جو اس بڑے نقصان کے ذمہ داروں کو تعین کرے گا۔  دوسری طرف ٹی سی سی نے اس رقم پر  بات چیت کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اپنا کیس جیت لینے کے بعد  جس میں پاکستان نے کئی سال تک قانونی کاروائی جاری رکھی اور 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی،  ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ ہمیں فرم کو پھر بھی ادا کرنا ہو گا۔

البتہ مجھے ڈر ہے کہ عمران خان کا کمیشن اپنا وقت ضائع کرے گا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اس نقصان کا اصلی ذمہ دار کون ہے۔افتخار محمد چوہدری جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے  تو وہ اپنے مزے میں   از خود نوٹس لینے کے عادی ہو چکے تھے ۔ وہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس  کو بے عزت کرتے  اور منتخب وزیر اعظم کو بھی نہیں بخشتے۔ انہوں نے بہت سے مالی معاملات کے متعلق فیصلے سنا کر پاکستانی ٹیکس دہندگان کو اربوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے فیصلوں میں ایک ریکوڈک کیس  بھی تھا جس کے متعلق انہوں نے احمقانہ فیصلے دیے  جس کی وجہ سے ہمیں ان کی ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد بھی خمیازہ بھگتنا  پڑ رہا ہے۔ اس اخبار میں اس کیس پر تفصیلی ایڈیٹوریل  بھی شائع ہو چکے ہیں۔

اگر افتخار چوہدری نے پاکستان سٹیل ملز کی پرائیویٹائزیشن کی اجازت دی ہوتی تو ٹیکس  ادا کرنے والے عوام پر اربوں روپے کے ٹیکسز کا بوجھ ہر سال دگنا ہوتا نظر نہ آتا۔ دونوں معاملات میں چوہدری صاحب نے اپنی مداخلت کی وجہ کرپشن کو قرار دیا  لیکن کسی بھی سطح پر کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو اسے نظر انداز کرنا چاہیے تھا   تا کہ اربوں کی پنلٹی اور نقصانات سے ملک کا نقصان نہ ہو تا۔

ایک اور چیز جو اعلی عدلیہ نے نظر انداز کی وہ  غیر ملکی سرمایہ کاری  تھی۔ ہمیں اپنے ملک کو دنیا کے سامنےایسا بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے جہاں انویسٹرز کے لیے برابر مواقع ہوں  ۔ دوسروں کے معاملے میں حکومت کی مداخلت   دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے لیے ڈیل کرنا اور منافع کمانا مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ چیز ایک ملک کی بری شہرت کا باعث بن جاتی ہے۔  خاص طور پر مائننگ سیکٹر میں غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے لحاظ سےیہ چیز اور بھی زیادہ اہمیت کی  حامل بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹی سی سی کمپنی نے پانچ سال میں ریکوڈک  میں کوئلے اور سونے کی ذخائر کی موجودگی کے چانسز اور اس معاملے میں ٹیکنیکل اور فنانشل سٹڈیز پر 220 ملین ڈالر خرچ کیے۔ جب کمپنی کو بتایا گیا کہ اسے مائننگ لائسنس نہیں دیا جائے گا تو مالکان کو بہت دکھ ہوا۔ اگرچہ بلوچستان ہائی کورٹ نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا لیکن افتخار چوہدری کی سپریم کورٹ نے  ھائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا  اور پراجیکٹ روکنے کا حکم جاری کر دیا۔

یہ چیز ہمیں ایک اہم نکتہ کی طرف لے جاتی ہے۔ کیا ایسے کیسز لینے چاہیے جن میں ہمارے پاس ٹیکنیکل مہارت کی کمی ہو اور گلوبل فنانس  کو مکمل طور پر سمجھا نہ گیا ہو؟  انویسٹمنٹ کی حوصلہ شکنی کے لیے ریکوڈک کیس سب سے بد ترین مثال ہے۔ اگر وزیر اعظم کے قائم کردہ کمیشن  کو معلوم ہو جائے کہ اس نقصان کا باعث بننے والے فیصلے کا اصل ذمہ دار کون تھا  تو حکومت ا سکے خلاف کیا کاروائی کرے گی؟ کیا وہ اس شخص سے 5.9 ڈالر قومی خزانے میں جمع کرنے کا کہے گی؟ لگتا ہے زیادہ سے زیادہ کچھ ڈانٹ ڈپٹ دینے سے زیادہ کچھ نہیں کر پائے گی۔  ایسا لگتا ہے کہ احتساب صرف سیاستدان اور  سول سرونٹس کے لیے ہی ہے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ اس کا اندرونی نظام ہے جس میں ایک خاص مکینزم کے تحت ذمہ داران کا احتساب کیا جاتا ہے۔ یہ بات درست مان لیتے ہیں  کہ سپریم جوڈیشل کونسل آپریشنل ہے لیکن ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ آج تک کتنی بار ججز کو کسی مس کنڈکٹ پر سزا سنائی گئی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھر میں تمام عدالتوں میں زیر التوا کیسز کو پلندہ اکٹھا کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بات کسی حد تک حیران کن ہے کہ  لوگ پاکستان کے زیادہ تر مسائل کے حل کی عدلیہ سے امید رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس قدر  توجہ حاصل کر لی تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل   جن میں صاف پانی اور سکول فیس اور ڈیم کی فنانسنگ اور تعمیر  جیسے مسائل شامل تھے پر بھی فیصلے سنانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ انہوں نے انتظامیہ کی جو کچھ آہستہ آہستہ جاری کارکردگی کی علامت منصوبے تھے وہ تقریبا مکمل طور پر رک گئے۔ بہت سے ذرائع کے مطابق انہوں نے نواز شریف کو باہر کرنے کا عمل خفیہ طاقتوں کی مدد سے مکمل کیا۔ ایک ایسے چیف جسٹس کو دیکھ کر جو روزنہ اخبار کی خبروں میں نظر نہ آتا ہو بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ دوسرے ممالک کے زیادہ تر لوگ  اپنے سینئر ترین ججز کا نام تک نہیں بتا پاتے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب  ججز سوشل ایونٹس میں شرکت کی درخواست  مفاد کے ٹکراو کو سامنے رکھتے ہوئے مسترد کر دیا کرتے تھے۔ اب احتساب عدالت کے جج بھی مشکوک کرداروں سے ملنے کا اعتراف کرتے ہیں  اور ان کرداروں کو بتاتے ہیں کہ وہ نواز شریف کے خلاف  فیصلہ  دینے پر مجبور کیے گئے تھے۔  وقت کتنا بدل چکا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *