’رونالڈو کو ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پرتگال کے فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کو مبینہ ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ 34 سالہ کیتھرین مےیورگا نامی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ رونالڈو نے سنہ 2009 میں امریکی شہر لاس ویگاس کے ایک ہوٹل میں ان کا ریپ کیا۔

اطلاعات کے مطابق کیتھرین مےیورگا نے رونالڈو کے ساتھ سنہ 2010 میں عدالت سے باہر ایک معاہدہ کیا جس کے تحت رونالڈو نے خاتون کو 375000 ڈالرز ادا کیے جس کے عوض یہ طے ہوا کہ وہ اپنے الزامات کبھی منظر عام پر نہیں لائیں گی تاہم ان نے گذشتہ برس اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔

رونالڈو نے امریکی خاتون کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

دی کلارک کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے ایک بیان میں کہا کہ متاثرہ خاتون نے سنہ 2009 میں جنسی حملے کی اطلاع دی تاہم اس واقعے سے انکار کر دیا کہ یہ کہاں ہوا یا حملہ آور کون تھا جس کے نتیجے میں پولیس معقول تحقیقات کرنے سے ’قابل‘ نہیں تھی۔

لاس ویگاس کی پولیس نے اگست سنہ 2018 میں متاثرہ خاتون کی درخواست پر ایک بار پھر مبینہ جرم کی تحقیقات کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ’اس وقت کی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد کرسچیانو رونالڈو کے خلاف جنسی حملے کے الزامات کو مناسب شک سے باہر ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے ’لہذا رونالڈ کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ جرمنی کے جریدے ڈر سپیگیل نے گذشتہ سال رونالڈ کے خلاف الزام لگانے والی خاتون کا انٹرویو شائع کیا تھا۔

میگزین کے مطابق مذکورہ خاتون نے رونالڈ کے ساتھ سنہ 2010 میں عدالت سے باہر ایک معاہدہ کیا جس کے تحت رونالڈو نے خاتون کو 375000 ڈالرز ادا کیے جس کے عوض یہ طے ہوا کہ وہ اپنے الزامات کبھی منظر عام پر نہیں لائیں گی۔

رونالڈو کو فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک گنا جاتا ہے۔ وہ سنہ 2008، 2013، 2014، 2016 اور 2017 میں بیلن ڈی اور ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *