ہم تو ہیں پردیس میں

مجھے گزشتہ پندرہ سالوں میں بہت بار بیرون ملک سفر کا موقع ملا اور پی ایچڈی کے دوران چار سال سے زائد عرصہ میں نے امریکہ میں گزارا۔ میں جب بھی اپنے وطن سے دور ہوتی ہوں تو میرا دل اس قدر اداس ہوتا ہے کہ مجھے جاننے والے لوگ حیران و پریشان ہو جاتے ہیں۔ میں بہت عرصہ تک سمجھتی رہی کہ یہ جو وطن سے محبت ہے یہ شاید صرف اس لیے ہے کہ میرے والدین وطن میں رہنا چاہتے ہیں اور میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ لیکن گزشتہ تین برس کے دوران میرے والدین اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ بیشتر عزیز و اقارب نے والدین کی وفات  کے بعد  مجھے یہی مشورہ  دیا کہ پاکستان میں رہنے سے بہتر ہو گا کہ تم بیرون ملک سکونت اختیار کرو۔ میں ان تمام لوگوں کی مشکور ہوں کہ وہ میرے لیے اتنے سچے جذبات رکھتے ہیں۔ دو ماہ قبل میں نے خود کو ایک ٹرائل دینے کے لیے کینیڈا کا سفر اختیار کیا اور یہاں تین ماہ قیام کرنے کا بندوبست بھی کیا۔ یہاں آنے کے بعد مجھے خود اپنے بارے میں بہت سے انکشافاتہوئے جن میں سے ایک تو یقینا" یہ ہے کہ اپنے والدین کی طرح میں بھی اپنی ہی مٹی میں رہنا اور دفن ہونا پسند کروں گی۔

وطن سے باہر سفر کرنے اور رہنے کے دوران میں بہت سے پاکستانیوں سے ملتی رہتی ہوں اور مجھے ایک بات کا اندازہ شدت سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی ہوں ان کے دل پاکستان سے کسی نہ کسی حوالے سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کا اندازہ کرکٹ میچ کے دوران بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی رگرگ میں پاکستان کی ترقی اور سماجی بہتری کی خواہشات دوڑتی ہیں۔ جب یہ پاکستان کے لوگوں کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ان کو کس قدر رنج ہے۔ انہوں نے اپنا وطن چھوڑا ہے لیکن اس کا قطعا" یہ مطلب نہیں کہ ان کو اپنے وطن سے لگائو نہیں رہا۔ اکثر لوگ اپنے گھر محلے شہر اور عزیز و اقارب کو یاد کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔

انگلینڈ، امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک کے برعکس کینیڈا ایک اور طرح کا ملک ہے۔ ٹورانٹو اور اس کے ارد گرد ایک دنیا آباد ہے۔ یہاں اتنے ممالک سے آئےہوئے افراد بستے ہیں کہ آپ کو لگتا ہے آپ سچ میں ایک گلوبلولیج میں رہ رہے ہیں۔ یہاں کیعمارات اور سڑکیں تو امریکہ جیسا منظر پیش کرتے ہیں لیکن یہاں کا ماحول ایک سماجی و ثقافتی مرکب یا ملغوبہ ہے۔ انگلش اور فرینچ کلچر میں جانے کیا کیا شامل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کچھ الگ ہی طرح کی کیفیت ہے۔  جن دو اداروں میں میں پڑھ رہی ہوں یہاں تو کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ ان کی اصل آبادی چینی ہے اور باقی سب افراد کہیں اور سے آئے ہیں۔

میں چونکہ یہاں ایک ڈاکیومینٹری فلم سازی کا کورس کر رہی ہوں تو اس کے لیے مجھے ایک ایسے شخص کی کہانی درکار تھی جس کے زریعے میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کا ابتدائیہ بنا سکوں۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستانی اداروں میں سماجی تفریق کی بنا پر نفرت اور فساد مزید پروان چڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد بھی کوئی بہتری نہیں لا پاتے۔ سماجی تفریق بہت قسم کی ہو سکتی ہے اور اس کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان تنائو اور فساد بڑھتا ہے۔ اسی سوچ کے برعکس امریکہ اور کینیڈا کی وہ یونیورسٹیاں جہاں سو سے زائد ممالک کے لوگ پرھتے ہیں اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے بہترین ماحول مہیا کرتی ہیں۔ اسی ماحول میں پڑھنے والے طلبہ کے ایک گروہ سے یہاں میری ملاقات ہوئی۔ اس گروہ میں پاکستان سے آنے والے بچے اور بچیاں، یہاں پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد بچے، اوروسطی ایشیا سے آنے والے پاکستانی نژاد بچے تو شامل ہیں ہی لیکن ان کے ساتھ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے آنے والے بچے بھی اس گروہ کا حصہ ہیں۔ ان بچوں نے ایک تنظیم مرتب کی ہے جس کا نام پاکستان ڈیویلپمنٹفائونڈیشن رکھا ہے۔ یہ تمام بچے اپنی اپنی جگہ خاص سوچ رکھتے ہیں اور ان سے دو بار ملاقات کے دوران مجھے نہ صرف میری ڈاکیومینٹری کی کہانی مل گئی بلکہ ایک بہت پیاری امید کی کرن بھی نظر آئی۔

پاکستان ڈیویلپمنٹفائونڈیشن سے منسلک ہر بچہ پاکستان کے لیے ایک مثبت سوچ ہی نہیں بلکہ کچھ کر گزرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ نوجوان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اپنے دیس واپس جائیں یا یہاں رہیں، ہر صورت اپنے وطن اور اس کے لوگوں کی بہتری کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔ گزشتہ جمعرات میں نے ان بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا جس میں میں نے انہیں ایک مسئلہ کی نشاندہی اور اس کے ھل کے لیے تجاویز پر بحث کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں یہ دیکھ اور سن کر حیران تھی کہ یہ تمام بچے جو ابھی بمشکل بیس بائیس برس کی عمر میں ہوں گے، بہت سے منجھےہوئے افراد سے بہتر سوچ رکھتے اور مثبت لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں۔ میں نے اپنی دو ملاقاتوں میں ان بچوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ایک خاص بات یہ کہ ان سب کا رویہ تمام تفرقات سے بالا تر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر کام کرنا ہے۔ میرے خیال میں دنیا کی ان بڑی یونیورسٹیوں سے ہم اور بہت کچھ حاصل کرنے کے ساتھ جو بہترین سبق حاصل کر سکتے ہیں وہ یہ بھی ہے کہ سماجی تفریق کو کیسے ختم کیا جائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *