بورس جانسن مجھے عمران خان کی یاد دلاتے ہیں ۔ ریحام خان

" ریحام خان "

دو طلاقیں، ایک ناجائز بچا اور بے وفائی۔

میں اپنے سابقہ خاوند عمران خان کی بات نہیں کر رہی  جو ایک پلے بوائے، انٹرنیشنل کرکٹر اور پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کر رہی ہوں جو امریکی صدر ہیں۔ مجھے یہ معلومات تب ملیں جب میں برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بورس جانسن کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے مطالعہ کر رہی تھی۔ کچھ ہفتہ قبل میرے ایک سابقہ ہم پیشہ ساتھی نے تجویز دی تھی کہ میں عمران خان اور بورس جانسن کی مماثلت رکھنے والی خوبیوں کے بارے میں ایک آرٹیکل لکھوں۔ میں نے یہ تجویز  ہنس کر ٹال دی تھی   اور کہا تھا کہ عمران جانسن سے زیادہ ٹرمپ سے ملتے جلتے ہیں۔ لیکن جب  یہ خبر آئی کہ جانسن کے محلہ دار لوگوں نے ایک گھریلو  جھگڑے کے بعد پولس بلا لی تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔ اسی شام میں نے بورس جانسن کے بارے میں ریسرچ شروع کر دی۔ اخبارات چیخ چیخ کر خبر دے رہے تھے: عشق لڑانے کےشوقین ممبر پارلیمنٹ نے 5 ناجائز افئیرز چلائے اور 2 خواتین کو حاملہ کر دیا۔  میں اس وقت دم بخو د رہ گئی جب میں نے اور بہت سی ایسی باتیں دیکھیں جن کی وجہ سے وہ عمران خان سے بہت مماثلت رکھتے تھے۔

ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ

جب سے بورس جانسن سیکرٹری خارجہ بنے تب سے مجھے ان کی سفارتی ناکامی کا کچھ کچھ علم تھا لیکن ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔  عوام میں بورس جانسن مزاحیہ اور خوشگوار طبیعت کے مالک تھے۔

یہی معاملہ عمران خان کا ہے۔ جس طرح انہیں عوام دیکھتے ہیں اور جیسے ان کے قریبی لوگ انہیں جانتے ہیں ان دونوں میں بہت فر ق ہے۔ بورس اور ان کی نوجوان گرل فرینڈ کے بیچ لڑائی  کے بعد ایک تصویر لیک ہوئی جس میں  عاشق جوڑا ایک گارڈن کے فرنیچر پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا۔ تب مجھے وہ لمحہ یاد آیا جب ہماری طلاق کی خبر کو دبانے کے لیے عمران خان نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں میں اور عمران بنی گالہ کے ایک گارڈن میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔

یہ بات حیران کن نہیں کہ عمران اور بورس دونوں نے آکسفورڈ سےتعلیم حاصل کی اور ایک مخصوص ایلیٹ گروپ کا حصہ بنے جو ایک ہی گراونڈ  میں کھیلے اور بعد میں بڑے ہو کر ایک ہی شعبہ سے تعلق جوڑا۔ لیکن  ایک آکسفورڈ جیسے بڑے تعلیمی ادارے سے تعلق بھی دونوں کی جغرافیہ کی سمجھ پر کوئی مثبت  اثر نہ ڈال سکا کیونکہ دونوں لوگوں نے افریقہ کو ایک ملک قرار دے رکھا ہے۔ پاکستان میں میم اور ٹی وی ٹالک شو میں اکثر عمران خان کے کوکین استعمال کرنے کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔ یہ پاکستان میں سب سے بدترین قسم کا راز ہے  میں نے اپنی سوانح حیات میں جس کی تصدیق کی ہے ۔ ہمارے نئے برطانوی وزیر اعظم بھی لائیو ٹی وی پر اہم معلومات شئیر کر دیتے ہیں اور پھر سوال کے جواب میں اپنے موڈ کے مطابق مختلف موقف اپنا لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے روم 101 میں ایک پال میرٹن کے ساتھ بورس کے انٹرویو کا کلپ دیکھا جس میں ڈرگز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بورس پوچھتے ہیں: تمہارے خیال میں مجھے کیا کہنا چاہیے؟

لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ  وہ کوکین سے بہت زیادہ عرصہ قبل واقف ہوئے تھے۔ اور بہت معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تب انہیں ایسا لگا تھا جیسے انہیں کوکین نہیں بلکہ آئیس شوگر پیش کی جا رہی ہے۔

مہاجرین کے نسل پرست بیٹے

ٹرمپ، عمران اور بورس جانسن تینوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سے مختلف نسل اور کلچر کی خواتین سے شادی کی  اور اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ مہاجرین اور امیگرینٹس پر سخت حملے کیے ہیں۔ شاید زیادہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ جانسن کی دوسری بیوی کا تعلق پاکستان کے شہر سرگودھا سے ہے  اور وہ سکھ مذہب سے ہیں۔ ان کے چار ڈیکلئیرڈ بچے  اسی شادی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود بورس جانسن نے ہمیشہ اپنے آپ کو نسل پرست ثابت کیا ہے اور امیگرینٹس سے ہمیشہ مخاصمانہ رویہ اپنائے رکھا ہے۔   مزید یہ کہ تینوں رہنما خود بھی مہاجر خاندان میں پیدا ہوئے ہیں  لیکن خود ان کا مہاجرین کے ساتھ رویہ بہت دشمنانہ ہے۔  عمران خان کے خاندان نے تقسیم ہند کے بعد بھارت سے پاکستان ہجرت کی تھی۔

سب سے زیادہ مکس نسلی  وراثت بورس جانسن کی ہے۔ ان کے پردادا علی کمال ایک ترکش مسلمان تھے جن کو ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔ کمال اپنے لبرل اور جمہوری نظریات کی وجہ سے بہت عزت  دار شخصیت بن چکے تھے  اور انہوں نے زیادہ تر زندگی  جلاوطنی میں گزاری تھی۔ بورس کے دادا عثمان کمال نے برطانیہ منتقل ہونے کے بعد اپنا نام  بدل لیا۔ اسی وجہ سے بورس اپنے کنیت میں جانسن کا لفظ استعمال کرتے  ہیں۔بورس کی ماں یہودی بیک گراونڈ سے ہے۔ انہوں نے خود بھی  دوہری شہریت اپنائے رکھی۔ یہ بات ذہن میں رکھیں تو ان کا بریگزٹ پر نظریہ بہت  عجیب اور غیر حقیقی معلوم ہوتاہے۔

ٹرمپ ایک جرمن مہاجر کے پوتے ہیں ان اور کی اپنی ماں بھی سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتی ہیں جو امریکہ میں مزدوری کے لیے آئی تھیں۔ آج کل انہیں امیگرینٹس اور مہاجرین کے خلاف ٹرمپ  ہر وقت بولتے نظر آتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل انہوں نے سکواڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ وہاں واپس لوٹ جائیں جہاں سے وہ آئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران، بورس اور ٹرمپ تینوں لوگوں  کو سلیبرٹی سٹیٹس ان کے ضدی ہٹ دھرمی، خود پسندی اور سیکسٹ رویہ کی وجہ سے ملا ہوا ہے۔

عمران کی شہرت ایسے  کرکٹ کپتان کی تھی جو اپنے ڈریسنگ روم میں بڑی عمر کے کھلاڑیوں کو بھی رولا دیتے تھے۔ وہ اتنے سخت مزاج کپتان تھے جن سے لوگ اتنا زیادہ خوف کھاتے تھے کہ وہ کسی بھی پلئیر کو ٹیم سے نکال سکتے تھے اور کوئی انہیں ذاتی طور پر سوال جواب کے لیے طلب تک نہیں کرتا تھا۔ اب جب ان دونوں رہنماوں کو ٹرمپ نے کندھا تھپتھپا کر حوصلہ دیا ہے  اور انہیں ٹف اور مختلف قرار دے دیا ہے  تو اس سے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تعریف میں اتنا آگے نکل گئے کہ بورس کو برطانوی ٹرمپ قرار دے دیا۔

جعلی خبروں سے عشق

عوام کے سامنے یہ تینوں رہنما ہر مخالف خبر کو  جعلی خبر قرار دے  دیتے ہیں لیکن خود بھی یہ  ہر طرح کی جعلی خبر بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جانسن کو ایک بار اپنے کیریر کے آغاز میں دی ٹائمز اخبار سے نکالا گیا تھا  جب انہوں نے خود سے  ہی ایک کہاوت بنا کر ایک مشہور مورخ کولن لاکاز سے منسوب کر دی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں  جعلی صحافت کا  ایک اہم کردار کا خطاب کرس پیٹن نے دیا تھا جو کنزرویٹو پارٹی ، اور بی بی سی ٹرسٹ کے سابقہ چئیرمین رہ چکے ہیں۔ عمران خان بھی جعلی اعداد و شمار خود سے گھڑنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اگر انہیں سابقہ بیانات پر چیلنج کیا جاتا ہے تو وہ ہنس کر اسے ایک سیاسی بیان قرار دے  کر  نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے فیک نیوز سے تعلق کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

پیٹر پین سنڈروم

بورس اور عمران دونوں  کا بچپن بہت خوشگوار نہیں گذرا ہے۔ان کی والدہ ڈپریشن کا شکار تھیں اور والد یا تو ان کو نظر انداز کیے رکھتے یا کبھی موجود ہی نہیں رہتے۔  مجھے یہ چیز حیرت انگیز لگی کہ عمران اور بورس دونوں کا لائف سٹائل تنہائی پسند تھا۔ سلیبرٹی بننے کے بعد ان کی تنہائی میں مزید اضافہ ہوا۔ دونوں رہنما  اندر سے بہت ہی عدم  تحفظ  کا احساس رکھتے ہیں۔جب بچے تھے تو وہ دنیا کے بادشاہ بننا چاہتے تھے۔  عمران خان کے لیے بھی دنیا کی سب سے بڑی ٹرافی  اپنی فیملی میں عزت کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔ ان کے فیملی ممبران اور بہن بھائی ان کی کم عقلی پر  مذاق اڑایا کرتے تھے۔

جس طوفان بد تمیزی کا یہ لوگ مظاہرہ کرتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی تک خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔ جو شخص خود کو محفوظ سمجھتا ہے وہ اندر سے پر اعتماد ہوتا ہے۔امریکی صدر ہونے کی وجہ سے صدر ٹرمپ دوسرے دونوں افراد سے زیادہ اونچی آواز میں بولتے ہیں۔  یہ چیز پیٹر پین سنڈروم کی علامت ہے۔ یہ ایسے بچوں کی طرح ہیں جو کبھی بڑا ہونا نہیں چاہتے ۔ وہ اپنے بالوں کے سٹائل کی طرح  اپنے بچپنے  میں ضدی بچے کی طرح کھڑے رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔

عمران خان کو ہر حال میں جیت کا جنون سوار رہتا ہے۔ وہ ذاتی فتوحات کے لیے پاگل پن تک جاتے ہیں۔ وہ صر ف وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔ یہی ان کا ٹارگٹ تھا۔ اس سے آگے انہیں کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہوں نے جو بھی قدم اٹھایا اس کا مقصد یہی تھا۔ وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت پینترا بدل سکتا ہے۔ بورس کی بھی اپنی  ظاہری شخصیت کے پیچھے اس طرح کی چالاک ذہنیت کے حامل معلوم ہوتے ہیں۔

ضدی اور ہٹ دھرم شخصیات کے حامل سیاستدان

ان لیڈران کی شخصیت کا سب سے اہم عنصر  یہ ہے کہ انہیں کسی بات پر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی  اور یہ ہر غلطی اور ہر نئے انکشاف کے بعد بھی اپنے رویے میں شرم و حیا کا احساس نہیں لا سکتے۔وہ آگے ہی چلتے جاتے ہین اور ایسی ہی ناکامیوں پر ان کر سفر عبارت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عورت پرستی، نسل پرستی اور سیکسٹ رویہ ان کی کشش کی وجوہات میں شامل ہیں۔ ہم ان لوگوں کے جر  م میں برابر کے شریک ہیں   کیونکہ ہم خود ان کے بارے میں چھپی خوفناک خبروں کو ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ اور انہیں مزید اس طرح کی بُری حرکات جاری رکھنے کے لیے شہہ دیتے ہیں۔

میرے کان میں عمران خان کے وہی الفاظ بار بار سنائی دیتے ہیں: ہمارے پاس خراب امیدوار ہیں کیونکہ صاف کردار والے لوگ  جیسا کہ ریحام آپ، سیاست میں آ کر اپنی پہچان خراب کرنا نہیں چاہتے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *