75 ناٹ آوٹ

اپنی امیدوں کے بر عکس جب میں نے یہ دیکھا کہ میں 75 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہوں تو اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اب میرا تنزلی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ لیکن اب تک زندگی کا سفر اطمینان بخش رہا ہے  اگرچہ کچھ مشکل حالات کا بھی کئی بار سامنا رہا ہے۔ مجھے ایک بہترین خاندان اور اعلی قسم کے دوست نصیب ہوئے۔ دنیا کے مختلف حصوں کی سیر کا موقع ملنے کی وجہ سے میں اس ابل ہوا کہ مختلف کلچرز میں رہنے کا تجربہ حاصل کر پاوں  اور اپنی رائے سے مخالف نظریات رکھنے والوں کی آراء کو برداشت اور عزت کی نگاہ سے دیکھوں۔  سب سے اہم یہ کہ میری زندگی ایسے دور میں گزری جب سائنس ترقیات  کی اعلی ترین حدوں کو چھو رہی ہے۔

جب میں 1980 کی دہائی کے وسط میں جب میں ایک سرکاری دفتر میں تھا کچھ کمپیوٹرز کا آرڈر دیا تو مجھے امریکی سفارتخانے سے سرٹیفیکیٹ لینا پڑا  تا کہ میں آئی بی ایم کو یقین دلا سکوں کہ کمپیوٹر نیوکلیر ریسرچ کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔ ان کمپیوٹر مشینوں پر کلاک سپیڈ 7.4 میگا ہرٹز تھی جو ان دنوں بہت تیز سمجھی جاتی تھی  لیکن اب چھوٹے نوکیا موبائل میں بھی اس سے زیادہ سپیڈ کے پروسیسر ہوتے ہیں۔  دوسری کئی ٹیکنالوجی ڈیوائسز نے بھی دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ زندگی کے تقریبا ہر شعبہ میں  ترقی اور انقلاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سب سے اہم تبدیلی معلومات پہنچانے اور حاصل کرنے کے طریقہ کار میں آئی ہے ۔ انٹرنیٹ نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ  دنیا کے دوسرے کونے میں موجود رشتہ داروں اور دوستوں سے بغیر کوئی رقم خرچ کیے براہ راست بات چیت کر سکیں۔

جب میں کیلیفورنیا میں موجود اپنے بیٹے کو وٹس ایپ پر کال کرتا ہوں تو مجھے 1960 میں انقرہ میں اپنا دور طالب علمی یاد آ جاتا ہے جب میں وہاں سے کراچی فون کیا کرتا تھا۔ تب مجھے سینٹرل پوسٹ آفس جا کر ایک ٹوکن لے کر انتظار کرنا پڑتا اور پھر ایک بوتھ میں داخل ہو کر صرف تین منٹ کی کال کرتا جس پر مجھے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے شیطان صفت اور چالاک لوگ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بے رحمی سے ٹرالنگ کا شکار بنایا جاتا ہے اور ان پر دھونس جمائی جاتی ہے۔ فیک نیوز پھیلائی جاتی ہے اور  مشکوک  صحت کی غذائیں غریب اور سادہ لوح لوگوں کو بیچی جاتی ہیں۔

میں نے ہمیشہ یہ سمجھا ہے کہ پرتجسس ہونا  کانسپریسی تھیوریز کے لیے تریاق کا درجہ رکھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لو گ اسی بات کو مانتے ہیں جو ان کےذاتی عقائد اور تعصبات کے عین مطابق ہو۔ اس لیے اگر آپ نائن الیون کانسپریسیز کے نام سے انٹرنیٹ پر سیرچ کریں تو آپ کو ہزاروں ایسے لنک مل جائیں گے  جو ان لوگوں کی سوچ کے عین مطابق ہوں گے جو یہ سننا چاہتے ہیں کہ کہ یہ واقعہ سی آئی اے اور موساد کی چال کا شاخسانہ تھا۔ چال چلنے والوں کی ایک لمبی فہرست سامنے آتی ہے  اور ڈیپ سٹیٹ کی طرف سےقتل و غارت کے  خفیہ اقدامات کی کوئی حد نہیں ہے۔   جب مجھے کوئی نئی کانسپریسی تھیوری کا سامنا ہوتا ہے تو میرا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو گا ۔

ایک اور ٹیسٹ جو میں اپلائی کرتا ہوں وہ اوکام ریزر ہے جو ایک فلاسفیکل ڈیوائس ہے ایک انگریز ولیم آف اوخم نے 14ویں صدی میں متعارف کروائی تھی۔ ان کے مطابق جب دو متضاد  خیالات سامنے ہوں تو  درست وہ ہوتا ہے جس میں کم مفروضے موجود ہوں۔ اس لیے نائن الیون کانسپریسیز میں  ہزاروں امریکی ملازمین کی شمولیت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس لیے اس پر یقین بہت مشکل کام ہے۔ لیکن جب تعلیم  عقل کی بجائے عقیدہ پر مبنی ہو تو  ہم اس کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا شکار اس وقت دنیا کی زیادہ تر آبادی ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں جہاں سیکولرازم اور لاجک کو صدیوں سے غلبہ حاصل رہا ہے، وہاں ہم بریگزٹ اور ٹرمپ  کو غیر عقلی رویوں کی مثال کے طور پردیکھ سکتے ہیں۔

اللہ کا کرم ہے کہ ہم بھی خالص سائنسی تحقیق میں بہتری دیکھ پا رہے ہیں۔ بڑا ہیڈرن کولیڈور 27 کلومیٹر کی گولائ یسے روشنی کی سپیڈ سے ایٹم کو توڑ کر چھوٹے اور محرک سب آٹومک پارٹیکلز بناتا ہے۔ اس شاندار انجینئرنگ کو اس سے بھی 4 گنا بہتر سپیڈ کے ساتھ بدل دیا جائے گا۔ اس پراجیکٹ کے اخراجات اور پیچیدگی دماغ کو حیران کر دینے والی ہے  جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ہم  اپنے دماغ اور ذرائع استعمال کر سکیں تو ہم کس قدر ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انسان ایک مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے تعاون میں کوتاہی برتتا ہے۔ لیکن زیادہ تر ہم دیکھتے ہیں کہ مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر آپ مختلف ممالک کی اچاند اور پھر مریخ پر اترنے کے لیے کوششوں کو ہی دیکھ لیں۔

اس ریس میں تازہ ترین داخلہ بھارت کا ہے جس کا چندرایان 2 راکٹ زمین کے گرد گھومنے کا سفر کامیابی سے شروع کر چکا ہے۔ ستمبر میں یہ راکٹ چاند کے گرد گھوم رہا ہو گا اور پھر اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو کسی شخص کو چاند پر اتارا بھی جائے گا۔ میری دعا ہے کہ یہ مشن کامیاب رہے جس کا مقصد پانی کے ذرائع حاصل کرنا ہے جس کے ذریعے  مون بیس قائم کیا جا سکے گا۔

حال ہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تصویر حاصل کر لی ہے۔ کبھی کبھار یہ ناممکن سمجھا جاتا تھا  کیونکہ  جو طریقہ کار تھا وہ یہاں کی کشش ثقل سے کسی چیز کو بھی گزرنے نہیں دیتا یہاں تک کہ روشنی کو بھی۔ ٹیم نے ریڈیو ٹیلی سکوپ نیٹ ورک استعمال کیا اور سپر ہیٹ والی گیسز کا ایک ڈرامیٹک امیج  بلیک ہول کے کنارے سے حاصل کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل ریسرچ پر کام جاری ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بہتر اور طویل زندگی گزار پر رہے ہیں۔ لیکن اس میں بھی  ویب کا گھناونا پہلو  بھی صاف ظاہر نظر آتا ہے۔ بہت سی خوفناک بیماریوں کے علاج کے لیے بھی سانپ کا تیل بیچنے والے لوگ معجزانہ قسم کے علاج کی پیشکش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی اچھی خبر سننے کے لیے بے چین لوگ اس طرح کی چالوں کا بآسانی شکار ہو جاتے ہیں اور آزمودہ اور ٹیسٹ شدہ علاج کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اب یہاں ایک بہت دلچسپ تضاد ملاحظہ کیجئے۔ ایک طرف تو ہم سائنسی انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن دوسری طرف ہم  فیک نیوز اور چالوں کو پبلک ڈسکورس پر اثر انداز ہونے اور غلبہ حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *