ہوٹل کا سامان چوری کرنے کی وائرل ویڈیو: ’چوری پکڑے جانے پر سوری کہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک انڈین خاندان کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انڈونیشیا کے علاقے بالی کے ایک ہوٹل سے چرایا گیا سامان ان کے سوٹ کیسوں اور بیگز سے برآمد ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس وائرل ویڈیو پر تقریباً ایک ہی قسم کے تبصرے نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارف ہیمنتھ ان کئی لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اس ویڈیو کو شیئر کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’یہ فیملی ہوٹل کے سامان چراتی ہوئی پکڑی گئی۔ انڈیا کے لیے یہ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ ہم سب انڈین پاسپورٹ رکھنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے سفیر ہیں اور ہمیں ویسا ہی رویہ رکھنا چائیے۔ انڈیا کو اس طرح کے لوگوں کے پاسپورٹ کو منسوخ کر دینا چاہیے جو ہمارے اعتبار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’میرے خیال سے یہ واقعہ بالی میں ہوا۔ میں انڈونیشیا میں رہ چکا ہوں اور ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ انڈونیشیا کے لوگ نرم مزاج ہوتے ہیں۔ جن سے میں ملا وہ بہت باعزت تھے۔ وہ انڈیا اور انڈیا والوں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اس طرح کی صورت حال پریشان کر دیتی ہے۔‘

اس ویڈیو میں مہمانوں کے بیگز سے ہوٹل کا سامان برآمد ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے تو فیملی اس سے انکار کرتی ہے لیکن پھر وہ ان اشیا کی قیمت ادا کرنے کا کہتی ہے۔ اس فیملی کا سربراہ ہوٹل کے ایک اہلکار کو ’سوری سوری‘ کہتا ہوا دوسری جانب لے جاتا بھی دکھائی دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے لوگ ’انڈیا کا نام بدنام کرتے ہیں۔‘

ایک صارف نے لکھا ’چوری پکڑے جانے پر سوری کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا ’قیمت ادا کرنے کی بات چوری کے پکڑے جانے کے باوجود پیسے کے زعم کا اظہار ہے‘۔

چھری کانٹے

ایک انڈین بزنس مین ہرش گوئنکا نے حال ہی میں سوئٹزر لینڈ کے ایک ہوٹل کا نوٹس پوسٹ کیا۔

اس نوٹس میں صرف انڈیا سے آنے والے مہمانوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ’ناشتے میں پیش کی جانے والی کوئی چيز باہر نہ لے جائیں۔ اگر آپ لنچ پیک چاہتے ہیں تو قیمت دے کر حاصل کریں۔‘

’چوری کی عادت آپ کے ساتھیوں اور اہل خانہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن آئے دن اس قسم کی خبریں آتی رہتی ہیں۔‘

ہرش گوئنکا نے لکھا: ’جب میں نے یہ نوٹس دیکھا تو مجھے غصہ آیا اور بے عزتی محسوس کرتے ہوئے میں نے اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہا۔ لیکن پھر یہ احساس ہوا کہ سیاح کے طور پر ہم شیخی باز، غیر مہذب اور تہذیب کی حساسیت سے نابلد ہیں۔ انڈیا جب بین الاقوامی قوت بن رہا ہے تو ایسے میں سیاح کے طور پر ہم اپنے ملک کے سفیر ہیں۔ ہمیں اپنا امیج بدلنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔‘

Presentational grey line

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی انڈین پر ہوٹل سے چوری کا الزام لگا ہو۔

دو سال قبل جنوبی انڈیا سے خبر آئی تھی کہ ایک شخص نے سستے ہوٹلوں سے چار ماہ کے دوران 120 ٹی وی سیٹ چرائے۔ وہ شخص بڑے سوٹ کیس کے ساتھ کسی ہوٹل میں آتا اور انتہائی مہذب طرز عمل کا مظاہرہ کرتا لیکن درحقیقت وہ پیشہ ور چور تھا۔

گذشتہ سال انڈیا کے اخباروں میں ایک ہوٹل میں چوری کی ایک اور خبر آئی جو بالی سے کسی حد تک مشابہ تھی۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی کے ساتھ سکاٹ لینڈ جانے والے وفد میں شامل ایک صحافی کو ایڈنبرا ہوٹل سے کٹلری چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ واقع 17 نومبر سنہ 2018 کو پیش آیا تھا اور ابتدا میں 60 سالہ صحافی نے چوری سے انکار کیا اور انھوں نے سامان کو ایک دوسرے ساتھی کے بیگ میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ہال میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کو دکھائے جانے کے بعد ان کے پاس چوری کے اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے انھیں پولیس کے حوالے کرنے کی بات کہی لیکن پھر 50 پاؤنڈ کا جرمانہ کرکے انھیں چھوڑ دیا گیا۔

حالیہ واقعے پر ٹکٹ اور ہوٹلوں کی بکنگ کرنے والی ایک کمپنی اکزیگو نے ٹوئٹر پر ویڈیو جاری کی ہے جس کا عنوان انھوں نے ’مفاد عامہ میں جاری‘ رکھا ہے۔

اس میں دکھایا گیا ہے کہ آپ ہوٹل سے کون سی چیز لے کر جا سکتے ہیں اور کون سی نہیں۔

حلوہ ہند نامی ایک صارف نے لکھا: ’شاید اسی لیے انڈین ریلویز کے ٹوائلٹس میں مگ کو زنجیر سے باندھا ہوتا ہے لیکن پھر بھی کمبل اور تکیے کی چوریاں ہوتی ہیں۔‘

چوری کرنا ایک لت ہے لیکن بعض لوگ ٹرین اور ہوٹل کی چادروں اور تولیے کو لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان چیزوں کی انھوں نے قیمت ادا کررکھی ہے تو وہ ان کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *