جنت کے سینما گھر

( مذہبی دوستوں سے گزارش ہے کہ فتوے کی بندوق کا استعمال تحریر پڑھنے سے پہلے نہ کریں )

یہ جنت میں بہت ہی ابتدائی دنوں کی بات ہے ۔

"اگر جنت میں وہ بھی ملنا ہے جو ہم چاہیں

 گے تو بھئ میں تو فلموں کا بہت شوقین ہوں۔ میں چاہوں گا کہ آرٹ آف سٹیٹ سینما گھر ہوں اور وہاں فلم دیکھوں "

" لیکن میری خواہش ہو گی کہ جرایم کی فل ایکشن فلمیں دیکھوں"
" مگر مجھے تو تجسس آمیز یعنی فل سسپنس فلمیں پسند ہیں".
" ہاں لیکن مجھے ہارر فلموں کا سب سے زیادہ شوق  ہے "
ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ قوس قزح یعنی رینبو کی طرح دور افق پر کچھ لکھا ہوا نظر آیا۔انھوں نے پڑھنے کی کوشش کی تو ایک ایک لفظ اچھلتا کودتا بڑا ہونے لگا۔ وہ سب پڑھ رہے تھے:
: باغ عدن میں سینما گھر تعمیر ۔ شوقین حضرات اپنی پسندیدہ فلم دیکھنے وہاں جا سکتے ہیں ۔ "
اور اگلے دن جب بہت سارے جنتی سینما گھر جارہے تھے تو حیران ہو رہے تھے کہ ان کی خواہش اتنی جلدی کیسے پوری ہو گئی۔ اس سوال کا جواب ان کے ذہن میں اسی وقت فلیش ہو گیا۔ اصل میں ان کے ذہن میں شعوری سطح پر جب بھی کوئی سوال آتا تو انھیں جواب بھی اسی طریقے سے منتقل کر دیا جاتا جس طریقے سے سوال پڑھا گیا تھا۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ شعوری سطح پر ذہن میں بننے والے خیالات جتنے عرصے میں میچور ہو کر باقاعدہ خواہش بنتے ہیں،  اس وقت تک ان کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا چکا ہوتا ہے۔
  ان میں یہ بحث بھی جاری تھی کہ کیا یہ فلم فکشن ہوگی یا دستاویزی، فیچر ہو گی یا کوئی نئی قسم کی ، کیا یہاں بھی پوری فلم انڈسٹری ہوگی؟بہت سے سوالوں کے ساتھ  جب وہ  سینما پہنچے تو حیران رہ گئے۔
وہاں تو ہر موضوع پر فلم دیکھنے کی آپشن تھی۔ لوگ اپنے اپنے پسند کے موضوعات  زمانے، جگہ اور زبان کے لحاظ سے منتخب کر سکتے تھے۔
ایک صاحب  ، جو جرائم کی موویز کے شوقین تھے، انھوں نے جب اپنی پسند کا اندراج ایک بٹن دبا کر کیا تو انھیں سکرین چار سو چون پر پہنچا دیا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ فلم دوگھنٹے بیس منٹ کی  ہے۔ انھوں نے دیکھا تو ایک جم غفیر تھا جو اس فلم  کو دیکھنا چاھتا تھا۔ فلم دیکھی تو لوگ ششدر بھی ہوئے ، شرمندہ بھی ،  اور شدید غم زدہ بھی اور مطمئن بھی ۔ فلم میکر نے کمال کیا تھا۔ اس نے فلم ان حقیقی واقعات سے شروع کی تھی جو کربلا کے واقعے پر منتج ہوئی تھی۔ اور آخر میں ذمہ داروں کا انجام بھی دکھایا گیا تھا۔
کوئی اداکار  نہیں تھا ، سارے کردار حقیقی تھے۔ بس  غیر متعلق واقعات کو ایڈٹ کر کے نکال دیا گیا تھا۔ فلم کی کوالٹی کمال کی تھی۔ فلم بینوں کو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ کوئی فلم دیکھ رہے ہیں ۔ انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ حالات واقعات کے اندر چل پھر رہے ہیں لیکن وہ کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کر سکتے تھے۔ یہ احساس کسی بھی تھری یا فور ڈی  ایفیکٹ سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یوں فلم بینوں کو آنکھ جھپکنے کا موقع نہ ملا تھا۔ اس فلم کے ذریعہ جنتیوں کو حقیقت سے بھی  خوب واقف کرایا گیا تھا۔ان کے ان گنت  تشنہ جواب سوالات اب آسودہ ہو گئے تھے۔ ان کی نفرتیں اور محبتیں اتھل پتھل ہو گئی تھیں۔ وہ عجیب احساسات و جذبات سے گزر رہے تھے۔ ایسا تجربہ انہیں پہلی دفعہ ہوا تھا ۔
 کچھ لوگوں نے کامیڈی فلم دیکھنے کی فرمائش کی اور یہ شرط رکھی کہ یہ دنیا کے آزمایشی دور کے بجائے جنتی کرداروں پر مشتمل ہو۔ متعلقہ جنتیوں کا خیال تھا کہ پتا نہیں یہ  کیسی فلم ہو گی۔ لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک جنتی نے کردار کو پہچان لیا اور بولا:
"یہ تو ہمارے محلے دار ہیں ، وہ جو یہاں بھی تبلیغ سے باز نہیں آتے! "
" ہاں ، ہاں ، واقعی وہی ہیں جنھیں ان گنت ایسے واقعات بھی یاد ہیں جو ہوئے بھی نہیں  ہوتے ۔"
 منظر کا آغاز ہوا تو وہ کسی فرشتے سے پوچھ رہے تھے کہ وہ جو ہمیں چالیس فٹ حور کا لالچ دیا گیا تھا ، وہ کہاں ہیں ؟ "
" فرشتے نے اپنی ناگواری چھپاتے ہوئے کہا کہ یہاں جنت میں سب  انسان کے بچے ہیں کوئی ڈاءینو سار کے نہیں ، آپ کو اگر چالیس فٹ کی حور چاہیے تو آپ اپنی خواہش اپنے دستخط کے ساتھ نوٹ کرا دیں ۔ کیونکہ اس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا ". لیکن وہ مصر رہے ۔ پھر خاص ان کے شوق کو دیکھتے  ہوئے خصوصی طور پرچالیس فٹی حور بنا کر ان کے حوالے کی گئی۔ اب وہ حور کسی کمرے میں تو جا نہیں سکتی تھی۔ ان کے لیے خصوصی  میدان بنایا گیا۔ دیوار چین کی طرح چار دیواری بنائی گئی تھی۔  یہ سارے مراحل مضحکہ خیز مناظر سے بھرپور تھے اور اس وقت تو سب ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے جب وہ سیڑھی لگا کر ان کے چہرے کے قریب پہنچے مگر وہ بہت بے رخی سے بولیں : " میں کسی چیونٹے سے محبت نہیں کر سکتی اور مزید یہ کہ مجھے ان سے عجیب سی بو آتی ہے "۔ یہ کہتے ہوئے اس نے انھیں تھکا دے دیا ۔ اور یوں جنت میں پہلا حادثہ پیش آیا۔بے چارے نیچے گر کر بے ہوش ہو گئے۔ ایک دوسرے منظر میں ایک ایسا شخص دکھایا گیا تھا جس نے فرمایش کی تھی کہ اس کے گھر کے باہر دودھ کی نہر جاری کی جائے۔ اب اس کے لیے دوسروں کی اجازت بھی درکار تھی۔ مگر ایک جنتی  بڑا ضدی تھا وہ مان تو گیا لیکن چند دن بعد ہی اس کی قوت برداشت ختم ہو گئی اور اس نے رات کو نہر میں دہی ملا کر اسے جما دیا۔ یہ جنت کا پہلا جھگڑا تھا۔ اور مقدمہ عدالت میں ہے۔
تیسرا منظر سب سے زیادہ مزاحیہ تھا ۔
 ایک جنتی نے کہا کہ وہ ستر حوریں رکھنا چاہتا ہے ۔ اسے کہا گیا کہ ٹھیک ہے لیکن یہ مشینی حوریں ہوں گی لیکن انھی پتا نہیں  چلے گا کہ یہ مشینی ہیں ۔ مگر انھوں نے اس وقت کمال کر دیا جب انھوں نے فرشتوں کو ایک لسٹ  فراہم کر دی کہ یہ سب عورتیں مہیا کی جائیں۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ سب عورتیں دنیا میں بد چلن  اور بے وفا تھیں اس  لیے جہنم میں ہیں ۔ ہو سکتا کہ کسی وقت باہر آ جائیں مگر وہ مصر ر ہے۔ اب ان کی فرمائش پوری کرنی پڑی۔تب انھوں نے ایک اور ضد کی۔ وہ یہ کہ انھیں ان سب سے ایک ہی دفعہ " ملاقات " کرنی ہے۔ فرشتوں نے اس شرط پر ان کی خواہش پوری کرنے کا اہتمام کر دیا کہ وہ خود اس کے نتائج کے ذمے دار ہوں گے۔  وہ  بضد رہے  تو یہ مرحلہ بھی پورا ہوا اور وہ ایک بڑی حال کمرے میں بڑی شان سے چلتے ان خواتین  کے پاس پہنچے۔ مگر وہ کچھ ہو گیا جس  کی نہ انھیں اور نہ فرشتوں کو خبر تھی ۔ سب عورتوں نے پہلے ہی کچھ طے کر رکھ تھا۔ سب ان پر ٹوٹ پڑیں۔ بہت ٹھکائی کی۔ بڑی مشکل سے ان کی جان بچی۔ یہ جنت میں تشدد کا پہلا واقعہ تھا۔
ایسے ہی متعدد واقعات پر مبنی  کامیڈی فلم دیکھ کر  جب یہ جنتی فارغ ہوئے تو رہ  رہ کر ہنس رہے تھے۔ وہ یہ بھی جان چکے تھے یہ فلم دکھا کر ان کی تربیت بھی کی گئی ہے کہ وہ احمقانہ خواہشات سے باز رہیں ورنہ جنت بھی ان کو بد مزہ کر سکتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *