سنکیانگ کیمپوں سے لوگوں کو واپس بھیجنے کا دعویٰ، ایغور کا شواہد کا مطالبہ

چین کا سنکیانگ کے حراستی کیمپوں سے زیادہ تر افراد کو گھر بھیجنے کے دعوے پر ایغور افراد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیجنگ سے اس کے شواہد کے مطالبے کی مہم کا آغاز کردیا۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ سے زائد مسلمان اقلیت برادری کو شمال مغربی خطے میں حراستی کیمپوں میں قید کیا گیا ہے۔

2 روز قبل سنکیانگ کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ کیمپوں میں موجود ’زیادہ تر‘ افراد گھر جاچکے ہیں تاہم انہوں نےکوئی اعداد و شمار نہیں پیش کیے۔

کینیڈا مین مقیم ایغور شخص گلی محسوت کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت نہیں ہے‘۔

37 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ ’میرا ایک کزن، ایک دوست اور میری دوست کے شوہر اب بھی کیمپ میں ہیں‘۔

گلی محسوت کا کہنا تھا کہ ایغور افراد نے چین کے دعوے پر رد عمل دیتے ہوئے ’90 فیصد کے شواہد پیش کرو‘، #Provethe90% کے ٹرینڈ کا آغاز کیا، اس ٹرینڈ میں لاپتہ احباب اور اہلخانہ کی اسٹوریز اور تصاویر شیئر کی جارہی ہے جن سے سنکیانگ میں ان کا رابطہ نہیں ہوا۔

ٹویٹر پر یہ ہیش ٹیگ سنکیانگ کے چیئرمین شہرت زاکر کے ریمارکس پر سامنے آیا جنہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’90 فیصد سے زائد افراد اپنے گھروں کو جاچکے ہیں اور ان کے پاس ان کی پسند اور ان کی مناسبت کا کام بھی موجود ہے‘۔

گلی محسوت کا کہنا تھا کہ ’ضرورت صرف اتنی ہے کہ صحافیوں کو بناوٹی کیمپ کے بجائے اصل کیمپوں تک عام رسائی دیا جائے اور حکام ایغور افراد کو بیرون ملک میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے بھی رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے‘۔

بہرام سنتاش جنہوں نے سنکیانگ اور اس کے گرد و نواح میں مساجد شہید کرنے کی معلومات بتائی تھیں، نے بھی اپنے 69 سالہ والد کی گمشدگی کے بارے میں ٹویٹر پر لکھا۔

خیال رہے کہ ایغور افراد کے حراستی کیمپوں میں قید کیے جانے کے حوالے سے حکام نے آزادانہ تحقیقات کرنے والے افراد کے لیے رسائی محدود کی ہوئی ہے۔

تاہم محققین حکومت کی دستاویزات اور حراستی مراکز کی سیٹلائٹ تصاویر سے ان حراستی کیمپوں میں موجود افراد کی تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔

ایک طرف مغربی ممالک چین میں حراستی کیمپوں پر سخت تنقید کرتے ہیں تو دوسری طرف چین اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے انہیں تشدد کا شکار علاقے میں 'تربیتی مراکز' قرار دیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *