ابن صفی کی ہر لحاظ سے مکمل دنیا

" حماد انور "

میرے بچپن کی ایک سب سے اہم یاد  میرا جنم دن ہوتا ہے کیونکہ اس دن مجھے تحفہ میں کتابیں ملا کرتی تھیں۔ میری ماں اور ماموں  اردو ادب سے بہت شغف رکھتے تھے۔ میں اپنے آپ کو اس خوش نصیب گرو پ  کا حصہ سمجھتا ہوں جس نے فیروز سنز کی بچوں کی کہانیوں کی پوری سیریز پڑھی ہو۔ اس میں بہت سی سیریز شامل تھیں  جن میں قصہ ہزار راتوں کا، تسلیم ہوش ربا اور داستان امیر حمزہ شامل تھے  اور داستان امیر حمزہ  میری سب سے پسندیدہ کتاب تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ میں نےد وسری کتابیں پڑھنا شروع کیا  اور شفیق رحمان اور پطرس بخاری کی کتابیں پڑھنے لگا ۔ اپنی پڑھائی کا اختتام میں نے قر ت العین حیدر کی کتابوں سے کیا۔ اپنے سکول کے دنوں میں میں اشتیاق احمد کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتا تھا۔ ان کی 'انسپکٹر جمشید سیریز' جو ایک جاسوسی کہانی پر مبنی تھی ایک نشہ کی حد تک پسند کی جاتی تھی۔ مجھے یہ سیریز بہت پسند تھی لیکن میری والدہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ تم اس سیریز کو چھوڑو یہ بے کار ہے اس کی بجائے تم یہ پڑھو۔ مجھے ہمیشہ لگتا کہ ماں مبالغہ آرائی کر رہی ہیں لیکن ایک دن میں اپنے والد کی لائبریر ی میں تھا تو  مجھے اس سیریز کی ایک کہانی ملی جس کا ذکر ماں کیا کرتی تھیں۔

میں نے سوچا ایک بار پڑھ کر دیکھ لیتا ہوں۔ مجھے فوری طور پر اس کتاب سے پیار سا ہو گیا۔ میں نے پھر سے تلاش شروع کی اور سیریز کی مزید کئی کتابیں مجھے مل گئیں جو میں نے ایک ہی بار میں پڑھ ڈالیں۔ میں مصنف کے ویژن اور ٹیکنیک سے بہت متاثر ہوا  کیونکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کتا ب موجودہ زمانے کی ہو۔ میں نے اس مصنف پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ مصنف سب سے کامیاب لکھاری تھے اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے تھے۔ ان کی کتابیں ایک سیریز پر مبنی تھی جس کا نام 'عمران سیریز' تھا۔ اور اس کا مصنف کوئی اور نہیں بلکہ مشہور ابن صافی تھے۔ اسرار احمد جو اب ابن صافی کے نام سے مشہور ہیں ، 26 جولائی 1928 کو بھارت کے ایک گاوں نارا میں پیدا ہوئے۔ ایک واقعہ ان کی زندگی میں پیش آیا جس نے انہیں یہ سیریز لکھنے پر مجبور کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک ادبی محفل میں ایک سینیئر ادبی شخصیت نے ایک تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دور میں اردو میں صرف رومانوی کہانیاں ہی  زیادہ فروخت ہو سکتی ہیں۔ ورنہ اردو کی عام کہانیاں اب کوئی نہیں پڑھتا۔ ابن صافی کو یہ تبصرہ سے اختلاف تھا انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ  کسی شخص نے اس فحش لٹریچر کے راستے میں بند باندھنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک اور شخص نے فرمایا کہ  اس ٹرینڈ کو تبھی روکا جا سکتا ہے جب اس کا متبادل لٹریچر قارئین کو دستیاب ہو ۔ ابن صافی کافی دیر تک سوچتے رہے کہ ایسا کون سا لٹریچر ہو سکتا ہے جو مارکیٹ میں عوام کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ انہوں نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ متبادل پیش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے 'جاسوسی دنیا' کے عنوان سے ایک سیریز شروع کی ۔ انہوں نے اپنے دو اصل کردار کرنل فریدی اور سرجینٹ حمید  کے نام سے اپنے پہلے ناول 'دلیر مجرم' کے ذریعے متعارف کروائے۔ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے 1952میں علی عمران نامی کردار متعارف کروایا  اور عمران سیریز کی طباعت کا آغاز کیا۔ علی عمران جو عمومی طور پر عمران کے نام سے مشہور ہیں ایک آکسفورڈ گریجویٹ ہیں اور کیمسٹری میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔  مزاحیہ اور بے وقوفانہ حرکتوں کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو لوگوں سے چھپائے رکھتے ہیں ۔ وہ ایک ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو کے  اکلوتے بیٹے ہیں جنہوں نے انہیں  غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ ایک سپورٹس کار کے مالک ہیں اور اپنے باڈی گارڈ اور کک کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتے ہیں ۔ ظاہری طور پر اس غیر سنجیدہ اور بے احمقانہ رویہ رکھنے والا شخص اس میں  دو ستاروں والا  سیکرٹ سروس کا چیف ہے جس کا تعلق دفتر خارجہ سے ہے۔

ان کی شخصیت کے اس پہلو کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔ وہ 8 لوگوں کی ٹیم کے رہنما ہیں جس میں ایک سوئس لڑکی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہ مل کر مختلف کیسز کا حل نکالتے ہیں اور ملک کے خلاف سازش کرنے والے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ ابن صفی، ایک ہیرا ہیں جو پاکستان  میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے دوسرے کئی معروف کردار تخلیق کیے جن میں کرنل فریدی اور حمید شامل ہیں۔ ساوتھ ایشیا کے تمام ممالک کے لوگ ان کی کتابیں ترجمہ کروا کر پڑھتے تھے۔ وہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے انڈر ٹریننگ افسران کو لیکچر بھی دیتے تھے۔ 1960 کی دہائی کے اواخر میں انہیں بھولنے کی بیماری لگ گئی اور تین سال تک وہ کچھ نہ لکھ سکے۔ لیکن پھر وہ تندرست ہو گئے اور ان کی تحاریر کا ایک دفعہ پھر اجرا ملک بھر کے لیے سب سے بڑی خوش خبری بن گیا۔

1947 میں حسین تالپر جو مولانا ہپی کے نام سے مشہور تھے  نے ڈھاکا فلم کا تجربہ کیا  جس کے کردار عمران سیریز کے کرداروں پر مبنی تھے۔ جاوید شیخ نے ظفر الملوک کے نام سے اپنا ڈیبیو کیا اور حسین اس فلم میں جیمسن بنے۔ شبنم کو صاحبہ کا کردار نبھانے کو ملا۔ ان کی کتابیں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔  جب کہ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف قارئین کی تفریح کے لیے لکھتے ہیں ۔ وہ اخلاقیات کی بہتری پر فوکس نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر لوگ قران اور سنت سے اخلاقیات نہیں سیکھ سکتے تو ان کی کتابوں سے کیسے سیکھ پائیں گے؟

وہ ایک خالص انٹرٹینر تھے۔ ابن صفی ایک ایسی مختلف دنیا تخلیق کرتے تھے جو 1947 کے خون چکاں واقعہ کے بعد وجود میں آئی ، یا کولڈ وار کے بیچ میں وجود میں آئی تھی۔ یہ ایسی دنیا تھی جس میں وہ سر عام  فرانس ، امریکہ، روس اور چین کا نام لے سکتے تھے لیکن پاکستان اور بھارت کا کہیں نام نہیں تھا۔ کہانی صرف ایک دلچسپ کیس سے تعلق نہیں رکھتی تھی  بلکہ کہانی میں چھوٹی چھوٹی بہت سی ایسی چیزیں شامل تھیں جو کہانی کو بہت دلچسپ بنا دیتی تھیں۔

اپنے ایک ناول میں انہوں نے اپنے فیورٹ ایکٹر وحید مراد کا نام اپنے ایک کردار کے منہ سے  ذکر کیا ہے۔ اس منظر میں جو شہر نظر آتا ہے وہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کراچی ہے لیکن انہوں نے کراچی کا نام نہیں لیا۔ وہ ہمیں اس   دور میں لے جاتے ہیں جب اس شہر میں بار اور نائٹ کلب ہوا کرتے تھے جو کہ آج کل نہیں ہیں ۔ وہ ایسا دور تھا جب لوگ اپنی مارضی کی زندگی جینے کی آزادی رکھتے تھے۔ اس ناول کا مین کردار ایک سپورٹس کار کا مالک ہوتا ہے اور کئی طرح کی پارٹیوں میں شرکت کرتا ہے۔ اس دور میں مذہبی پابندیاں زبردستی عائد نہیں کی جاتی تھیں۔ عمران کی ٹیم میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں  لیکن یہ بات ان کے اپنی ٹیم یا ملک سے محبت پر سوال اٹھانے کا باعث نہیں بنتی۔

میرے لیے وہ ایک ایسے مصنف تھے جو وقت سے آگے چلتے تھے ۔ وہ نیوکلیر ٹیکنالوجی کی طاقت اور اس کے پر امن مقاصد  کے لیے استعمال میں یقین رکھتے تھے ۔ وہ ایک ایسی دنیا کے خواب دیکھتے تھے جہاں کمپیوٹرز کے ذریعے ٹریفک سگنل کو کنٹرول کیا جاتا ہو۔ وہ سپیشل فریکوئنسی والی آڈیو ڈیوائسز استعمال کرتے تھے اور سب سے اہم یہ کہ وہ نسل انسانی کی برابری اور مساوات پر یقین رکھتے تھے۔ 26 جولائی 1980 کو ان کا انتقال ہو گیا  لیکن مجھے ان کی آخری لائن یاد ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں لکھی تھی۔ انہوں نے لکھا: میں اب تھک چکا ہوں اور مجھے کچھ نیند کی ضرورت ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *