’’ضمیر والوں‘‘ پر مشتمل ایوان میں ’’نیا پاکستان‘‘ کی جھلک

جمعرات کی صبح اُٹھنے کے بعد یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ سینٹ کا اجلاس دوپہر دو بجے ہونا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے میڈیا میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے رونق لگی ہوئی ہے کہ اپوزیشن اس ایوان کے چیئرمین صادق سنجرانی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گی یا نہیں۔

شدتِ جذبات سے اُکھڑے سانسوں کے ساتھ سینٹ چیئرمین کے مستقبل کو زیر بحث لاتے ہوئے ہم لوگوں کو یاد ہی نہیں رہا کہ ٹھوس حقائق کے تناظر میں ہم درحقیقت فروعات فروشی میں مصروف ہیں۔

صادق سنجرانی کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے کم از کم 53اراکین کی حمایت درکار ہے۔ ان کے پاس یہ حمایت موجود نہیں۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو نظر بظاہر مجموعی طورپر 63اراکین کی حمایت میسر ہے۔ اگر اس تعداد کو نظرمیں رکھا جائے تو صادق سنجرانی کو اسی روز اپنے منصب سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا جس دن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سینٹ کے قواعد وضوابط کے عین مطابق جمع کروادی گئی تھی۔ہماری دونمبری جمہوریت مگر اپنی ’’ترکیب‘‘ میں ’’خاص‘‘ ہے۔ صادق سنجرانی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔یوسف رضا گیلانی کو ایک زمانے میں ’’مشورے‘‘ دینے کے بعد وہ کچھ عرصہ نواز شریف کی جماعت سے بھی ’’دوستانہ‘‘ رہے۔2017میں لیکن ’’آزاد‘‘ ہوگئے۔ اس حیثیت میں سینٹ کا رکن منتخب ہونا چاہا۔ بلوچستان میں نواز شریف کی مسلم لیگ سے وابستگی کے دعوے دار اراکین صوبائی اسمبلی نے بھی ’’آزاد‘‘ ہوکر انہیں منتخب کرلیا۔ بعدازاں بلوچستان کے مسائل پر ’’بھرپور توجہ‘‘ دینے کے لئے یہ سب لوگ بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوگئے۔یہ جماعت ’’باپ‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور کئی حوالوں سے اسم بامسمی ثابت ہورہی ہے۔بلوچستان کی ’’محبت‘‘ ہی میں تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام تر باہمی اختلافات کو وقتی طورپر بالائے طاق رکھتے ہوئے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ منتخب کروالیا تھا۔ ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پارلیمان کا ایوانِ بالا حقیقی معنوں میں وفاق کی علامت ہے۔ ہمارے تمام صوبوں کو یہاں مساوی نمائندگی حاصل ہے۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی بھی یہاں اتنی ہی نشستیں ہیں جو آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹے صوبے بلوچستان کے لئے مختص ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے علاوہ قومی اسمبلی سے منظورہوکر کوئی قانون اس وقت تک لاگو ہی نہیں ہوسکتا جب تک اسے سینٹ سے بھی منظوری نہ ملے۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وسیع تر تناظر میں پارلیمان کا ایوانِ بالا قومی اسمبلی سے بھی زیادہ معتبروباوقار ہے۔اس ’’معزز وباوقار‘‘ ایوان کے چیئرمین کے خلاف جب سینٹ میں اکثریت کی حامل جماعتیں متحد ہوکر تحریکِ عدم اعتماد جمع کروادیں تو صادق سنجرانی کو پیغام مل جانا چاہیے تھے۔ اقتدار کا کھیل مگر آپ کو حقائق سے اندھا اور بہرہ بنادیتا ہے۔ آپ کی جلد انگریزی محاورے والے Thickیعنی موٹی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔اُردو میں شاید ’’ڈھٹائی‘‘ اس رویے کے لئے مناسب لفظ ہے۔ اس لفظ کو لیکن ’’غیر پارلیمانی‘‘ تصور کیا جاسکتا ہے۔ دوٹکے کے رپورٹر کے لئے احتیاط لہٰذا لازمی ہے۔صادق سنجرانی صاحب کی ’’موٹی جلد‘‘ کی وجوہات سمجھنے میں اگرچہ وقت ضائع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حقیقی حیرت اس وقت ہوئی جب مجھ جیسے لوگوں کے مرتے دم تک آئیڈیل رہے شاعر احمد فراز صاحب کے فرزند شبلی فراز صاحب جو تحریک انصاف کے بنیادی اراکین میں شامل ہیں صادق سنجرانی کو بچانے کے لئے متحرک ہوگئے۔ان کے چند حامی سینیٹروں کو لے کر وزیراعظم کے پاس چلے گئے۔ عمران خان صاحب سے ’’تحریکِ تحفظِ سنجرانی‘‘ کی تائید حاصل کرلی۔نہایت دیانت داری سے دست بستہ عرض کرنے کو مجبور ہوں کہ عمران خان صاحب کو ’’تحریک ِ تحفظِ سنجرانی‘‘ کی برسرعام حمایت نہیں کر نا چاہیے تھی۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے وہ بسااوقات برطانیہ کے پارلیمانی نظام کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔پاکستان کو ’’مدینہ کی ریاست‘‘ بنانے کے لئے عزم کااظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ انہیں یہ حقیقت دریافت کرنے کے لئے مجھ جیسے ’’دیسی‘‘ سیاست کو رپورٹ کرنے کے عادی دوٹکے کے صحافی کی رہ نمائی کی ضرورت نہیں تھی کہ صادق سنجرانی صرف اسی صورت اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں اگر پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے کم از کم 18اراکین سینٹ خفیہ رائے شماری کے دوران اپنی جماعتوں کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے ’’ضمیر‘‘ کے مطابق ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیں۔ہمارے اراکین پارلیمان کا ’’ضمیر‘‘ بھی اپنی ترکیب میں خاص ہوتا ہے۔ اسے جگانے کے لئے یا تو نوٹ دکھانے پڑتے ہیں یا احتساب کے دفتر میں جمع ہوئی فائلوں کی گردجھاڑکر متعلقہ رکن پارلیمان کو دکھانا ہوتا ہے۔ انگریزی میں اس عمل کو Buy or Bullyکہتے ہیں۔لاہورکی گلیوں میں اسے لوٹا سازی کہتے ہیں اور یاد رہے کہ ’’لوٹا‘‘ کی ترکیب قیامِ پاکستان سے قبل متعارف ہوئی تھی۔ لاہور کے ایک ڈاکٹر عالم ہوا کرتے تھے۔ ان سے منسوب ہوئی ۔ تفصیلی کہانی کسی اور کالم میں بیان کردوں گا۔’’نیا پاکستان‘‘ کو ’’جس کا وعدہ‘‘ تھا اور جس کے بارے میں ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ والی فضا کئی برسوں سے پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے لوٹا سازی کے عمل سے پاک رکھنا بھی مقصود تھا۔ بہتر یہی تھا کہ اگر صادق سنجرانی صاحب کی بدولت پاکستان مسلم لیگ (نون) اورپیپلز پارٹی کے چند اراکین کے ’’ضمیر‘‘ جاگ ہی گئے تھے تو وہ برسرِ عام اس کا اعلان کرتے۔ اعتراف کرتے کہ شریف خاندان کے خلاف ہوئے احتساب اور آصف علی زرداری کے حوالے سے مشہور ہوئے ’’فالودے والے‘‘ کے اکائونٹس نے ان کا ’’ضمیر‘‘ جگادیا ہے۔ ان کے لئے اخلاقی اعتبار سے اب ’’خائن‘‘ قیادت کا اتباع ممکن نہیں رہا۔ وہ صادق سنجرانی کے حوالے سے اپنے ’’ضمیر‘‘ کی آواز پر لبیک کہنے کو مجبور ہیں۔ خفیہ رائے شماری کے دوران ’’ضمیر‘‘ کا جاگنا موقعہ پرستی کے سوا کچھ نہیں۔چوری چھپے جاگے ’’ضمیر‘‘ والوں پر مشتمل ایوان کو ’’معزز وباوقار‘‘ پکارتے ہوئے سوبار سوچنا ہوگا۔یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے گماں ہے کہ صادق سنجرانی ہٹانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے میر حاصل بزنجو کو سینٹ کا چیئرمین منتخب کروابھی لیا تو کوئی ’’انقلاب‘‘ برپا نہیں ہوجائے گا۔محض کچھ دنوں کو رونق لگ جائے گی۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پانچ روپے اضافے کا اعلان ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ سے جولائی کے آخری دس دنوں میں چند گھنٹوں کو میں نے اپنے کمرے کا اے سی بھی چلایا تھا۔ اب دل تھامے بجلی کے بل کا انتظار کررہا ہوں۔میر حاصل بزنجو کے والد غوث بخش بزنجو مرحوم سے 1970کی دہائی میں کئی ملاقاتیں رہیں۔ ان کا دل سے احترا م کرتا ہوں۔ ان کی بدولت حاصل سے بھی دوست نہیں بھائیوں والا تعلق رہا۔ اس کا چیئرمین سینٹ منتخب ہونا بھی مگر مجھ جیسے لاکھوں تنخواہ دار پاکستانیوں کے دلوںمیں معاشی اعتبار سے ہر لمحہ پھیلتے خوف کا مداوا نہیں ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *