ماں کا دودھ: ’کاش مجھے بریسٹ فیڈنگ کے بارے میں یہ چار باتیں معلوم ہوتیں‘

میں والدین کے لیے مخصوص کلاسوں میں گئی، میں نے بچوں کو دودھ پلانے میں مددگار زیرجامے خریدے- میں ایک ایسی ماں بننے کے لیے تیار تھی جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانا چاہتی تھی۔

لیکن میرے بچے کی پیدائش کے دو دن بعد میری چھاتیوں میں دودھ نہیں اتر رہا تھا۔

میں نے مالش کی، چکنائی والی خوراک کھائی، ڈھیر سارا دودھ پیا بھی لیکن تیسرے دن تک مجھے مڈوائف کے کہنے پر واپس ہسپتال جانا پڑا۔ میرا بچہ بھوک سے بلک رہا تھا۔

یہ مشکل ہے

بریسٹ فیڈنگ: خیال اور حقیقت کا فرق

جب انھوں نے ہسپتال میں میری چھاتی پر میکینیکل بریسٹ پمپ لگایا تو اس سے دودھ کی جگہ خون نکلا۔

میں نے سوچا، مجھ میں کیا خرابی ہے؟ کیا میرا جسم ماں بننے کے خیال کو ٹھکرا رہا ہے؟ اور پھر معلوم ہوا کہ میرا بچہ دودھ کی تلاش میں میرے نپل اتنی سختی سے چوس رہا تھا کہ وہ زخمی ہو گئے تھے۔

کاش مجھے علم ہوتا کہ ماں کا بچے کو دودھ پلانے کا عمل قدرتی طور پر شروع نہیں ہو جاتا۔ یہ غلطی کرنے اور اس سے سیکھنے کا عمل ہے۔ آپ تجربے کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں تراکیب کی کمی نہیں لیکن یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا اور اکثر بہت تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے۔

تنہائی

A tired mother feeding a baby with a milk bottle

جب میرے جسم کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا اور میرے بچے نے میرا دودھ پینا شروع کر دیا تو بھی زندگی آسان نہیں ہوئی۔ اپنی مرضی سے نہانے یا شیشے کے سامنے وقت گزارنا تو بہت دور کی بات مجھے بمشکل سونے کا وقت ملتا تھا۔

کبھی کبھار ہی میں گھر سے نکل پاتی تھی اور سوچتی رہتی تھی ہمسائے کیا سوچتے ہوں گے، دوست کیا سوچتے ہوں گے؟

میرے پسندیدہ مقامات نو گو ایریا بن گئے کیونکہ میں عوامی مقامات پر بچے کو دودھ پلانے سے جھجھکتی تھی۔ میں آدھی رات کو اٹھتی اور اکیلی بیٹھی بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی۔

ایسا لگتا کہ میں دنیا میں اکیلی رہ گئی ہوں۔ میں بعد از پیدائش ڈپریشن کے کنارے پر تھی اور میری مدد کو کوئی موجود نہ تھا۔

کاش مجھے علم ہوتا کہ اس صورتحال میں اپنا خیال رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بچے کا خیال رکھنا۔ ایک پرسکون اور صحت مند ماں ایک پریشان اور مایوس ماں سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔

غلطی کا احساس باقی رہتا ہے

A newborn being held in its mother's arms looking contented

جب پہلی مرتبہ میرے بچے کو ہسپتال میں ڈبے کا دودھ دیا گیا تو وہ کئی گھنٹے سوتا رہا۔ میرے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ اگر خود مجھے کبھی نیند کی ضرورت ہو تو میں اسے اپنا دودھ پلانے کی بجائے ڈبے کا دودھ دے سکتی ہوں۔

لیکن پھر پشیمانی کے احساس کو مجھ پر غلبہ پاتے زیادہ دیر نہیں لگی۔ ڈبے کے دودھ سے میرے بچے کی زبان سفید ہو گئی۔ یہ کچھ غیر فطری سا لگا۔ مجھے لگا کہ میں اپنے بچے کو لذیذ اور قدرتی ماں کے دودھ کی جگہ کوئی ’جنک فوڈ‘ دے رہی ہوں۔

جب بھی کبھی میں اسے اپنی آسانی کے لیے ڈبے کا دودھ دیتی مجھے یہ احساس گھیر لیتا۔ سوچتی رہتی کہ ’میں کچھ زیادہ کر سکتی تھی۔ مجھے ایک گھنٹہ زیادہ سونے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

کاش مجھے علم ہوتا کہ احساسِ پشیمانی نہیں جاتا لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر ماں اپنے لحاظ سے شیڈول ترتیب دیتی ہے اور جان لیتی ہے کہ کیا اس کے بچے کے لیے بہترین ہے- ماں کا دودھ یا کچھ اور۔

آپ پشیمان ہوئے بنا نہیں رہ سکتے لیکن یہ بری ماں کی نشانی نہیں ایک ذمہ دار ماں کی نشانی ہے۔

مدد کے حصول میں نہ جھجھکیں

Mother shopping with a baby

بریسٹ فیڈنگ ایک کروڑوں ڈالر کی صنعت ہے۔ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کے لیے کوئی نہ کوئی حل موجود ہے بس آپ کو جیب ڈھیلی کرنی پڑتی ہے۔

مجھے اپنی قریبی مارکیٹ میں چھاتی گرم کرنے والے کپڑوں سے لے کر نپل کی کریم تک چیزوں کا ایک پورا شعبہ ایسا ملا جو مجھ جیسی ماؤں کے لیے تھا۔

لیکن میرے لیے سب سے اہم علاج بریسٹ فیڈنگ ورکشاپس میں شرکت اور ایسے افراد کے مشورے اور رہنمائی رہا جو اس دور سے گزر چکے تھے۔

کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں اپنے بچے کو دودھ پلانے کے عمل میں مشکلات کا شکار واحد ماں نہیں اور یہ کہ مجھ جیسی ماؤں کے لیے مدد موجود ہے اور اگر مشکل میں پھنس جائیں تو مدد کے لیے پکارنا سب سے بہترین عمل ہے۔

بریسٹ فیڈنگ کوئی لازمی چیز نہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک ڈیفالٹ آپشن ہونا چاہیے لیکن اس میں ناکام ہونا اور بچے کو دودھ نہ پلانا بھی آپ کو بری ماں نہیں بناتا۔

Baby drinking milk from a bottle.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *