خراٹوں کا باعث بننے والی عام وجوہات

کیا آپ نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں؟ ویسے تو یہ اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے تاہم ان کی شدت بڑھنے سے دماغی افعال پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے فالج، دل کے دورے اور ڈپریشن سمیت مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مگر یہ عادت گھر والوں کی نیند بھی متاثر کرتی ہے جن کے لیے کسی خراٹے لینے والے شخص کے قریب سونا آسان نہیں ہوتا۔

مگر سوال یہ ہے کہ لوگ خراٹے کیوں لیتے ہیں؟ تو اس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

ٹانسلز بڑھنا

دمام یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کسی شخص کے ٹانسلز کا حجم بڑھنا، دندانے دار زبان وغیرہ نیند کے دوران سانس رکنے یا خراٹوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

ناک میں سانس کی گزرگاہ سوجنا

برٹش لنگ فاﺅنڈیشن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناک کی اندرونی لائننگ سوجنے کے نتیجے میں یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے جس کی علامات ناک بند ہونا، منہ پر دباﺅ، سونگھنے یا چکھنے کی حس کم ہوجانا وغیرہ ہیں جسے آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب سانس کی گزرگاہ عارضی طور پر اس وقت بلاک ہوجاتی ہے جب کوئی شخص سو رہا ہے جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ عارضہ بہت عام ہے مگر چار میں سے ایک شخص میں ہی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔ اس عارضہ میں سانس کی نالی دس سیکنڈ یا کچھ دیر کے لیے بلاک ہوتی ہے جسے ہپوفونیا بھی کہا جاتا ہے اور لوگوں کو اس کا تجربہ اکثر ہوتا ہے۔

کمر کے بل لیٹنا

کراٹے لینے والے اکثر افراد کمر کے بل یا چت لیٹنے والے ہوتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق اس طرح سونے والے افراد میں جبڑے اور زبان حلق کی جانب پلٹ جاتے ہیں، جس سے سانس رکتی ہے اور خراٹوں کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے، اس سے بچنے کا طریقہ بھی آسان ہے یعنی پہلو کے بل لیٹنا۔

جسمانی وزن

جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ جانے کے نتیجے میں گلے اور حلق کے ارگرد مسلز کمزور ہوتے ہیں جبکہ ٹشوز کا حجم بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں خراٹوں کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے۔

تھائی رائیڈ کے مسائل

تھائی رائیڈ گلے میں ایسا گلینڈ ہے جو میٹابولزم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ہارمونز پیدا کرتا ہے، تاہم اگر ان میں آنے والی تبدیلیاں سانس کی گزرگاہ کو بھی بدلتی ہے جس سے نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے جو خراٹوں کی شکل نظر آتی ہے۔

عمر میں اضافہ

عمر بڑھنے یعنی بڑھاپے میں خراٹوں کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ جسمانی ٹشوز کا لٹکنا ہوتا ہے، تاہم ورزش کرنا عادت بناکر اس سے بچنا ممکن ہے۔

مرد

جی ہاں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں خراٹوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے، مثال کے طور پر مردوں میں سانس کی گزرگاہ تنگ ہوتی ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتی ہے، جبکہ تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال بھی اس کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *