میٹھی اشیا پر بھی سگریٹ جیسی وارننگ ہونی چاہیے؟

گذشتہ دہائی میں سگریٹ نوشی کو آہستہ آہستہ ایک ایسا فعل بنا دیا گیا جو کہ غیر اہم اور داغ دار نظر آئے۔

سنہ 2007 میں سگریٹ نوشی پر پابندی سے لے کر ایک دہائی کے بعد سادہ پیکیجنگ متعارف کیے جانے تک سب اس لیے کیا گیا تاکہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو اور لوگوں میں یہ عادت ترک کرائی جائے۔

اور ایسی علامات بھی ہیں کہ شوگر یعنی چینی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔

چینی والے مشروبات پر پہلے ہی ٹیکس لگا ہوا ہے اور اب ان اشیا کی اتنی زیادہ طلب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک سرکردہ تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ سویٹس، سنیکس، اور چینی والے مشروبات کی سادہ پیکیجنگ متعارف کرائی جائے تاکہ یہ اشیا پرکشش نظر نہ آئیں۔

یہ انسٹیٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (آئی پی پی آر) نامی تھنک ٹینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے۔

آئی پی پی آر کے ڈائریکٹر ٹام کیباسی کہتے ہیں کہ اس سے صحیح معنوں میں فرق پڑے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ سادہ پیکیجنگ اچھا انتخاب کرنے میں مدد دے گی اور مصروف والدین کو مجبور کر کے چیزیں خریدنے کی طاقت کو بھی کم کرے گی۔

وہ چاہتے ہیں اس اقدام کو دوسری اشیا مثلاً ’جنک فوڈ‘ کی تشہیر پر پابندی کے ساتھ ہی نافذ کیا جائے۔

برطانوی وزرا اس پر پہلے ہی غور کر چکے ہیں۔

لیکن کیا سادہ پیکیجنگ ایک اہم اقدام ہو گا؟

سگریٹ کا پیکٹ

ہر سگریٹ کے پیکٹ کو سادہ پیکیجنگ اور وارننگ کے ساتھ بیچا جاتا ہے

صنعت اس اقدام کے خلاف

ایسی اشیا فروخت کرنے والی صنعتوں نے فوراً ہی اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن نے کہا ہے کہ کسی بھی چیز کی برانڈنگ ایک بنیادی تجارتی آزادی ہے اور مقابلے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اسی طرح کے دلائل تمباکو کی صنعت نے بھی دیے تھے لیکن ہر آنے والی حکومت نے اس پر سخت رویہ جاری رکھا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے چینی والی اشیا کی سادہ پیکیجنگ کے خیال کو رد نہیں کیا۔

ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے شعبے کا کہنا ہے کہ وہ اس پر انگلینڈ کی چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر ڈیم سیلی ڈیویز کے بیان کا انتظار کر رہے ہیں۔

خیال ہے کہ اگر سال 2030 تک بچوں میں موٹاپے کی شرح کو آدھا کرنے کے ہدف کو حاصل کرنا ہے تو ایسے جرآت مندانہ اقدامات کرنے ہی پڑیں گے۔

ڈیم سیلی کو کہا گیا ہے کہ وہ کیے جانے والے اقدامات کا ازسرِ نو جائزہ لیں تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے۔

گذشتہ دہائی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو بات ہو نہیں سکتی تھی ایسا لگتا ہے کہ اب ہو جائے۔

شروع میں کچھ ایسا ہوتا تھا کہ صحت کی مہم چلانے والے سرگرم کارکن اور عالمی ادارے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کے لیے زور دیتے رہتے تھے۔ اور حکومت اسے نظر انداز کرتی تھی۔

لیکن پھر آہستہ آہستہ حکومت کی طرف سے سختی نطر آئی اور بالآخر انتہائی اہم اقدام بھی لیے گئے۔

ان اقدامات کا اب واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ صرف دس برسوں میں سگریٹ نوشی کی شرح میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

یہ بحث اب موٹاپے کی طرف جا رہی ہے اور چینی سے بنی اشیا کی تشہیر کے خلاف کوئی قدم غیر معمولی نہیں ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *