والدین کی محبت

خوش قسمت ہیں آپ اگر آپ نے والدین کو زندہ دیکھا، اگر اپ نے ان کی شفقت اور محبت کے سائے میں اپنی زندگی کے ماہ و سال گزارے، اگر انہوں نے آپ کو جوان سالی تک اپنی حفاظت میں پہنچایا۔ اگر انہوں نے اپ کے کھانے پینے، رہنے سہنے، تعلیم۔ صحت اور تربیت کا تمام تر بندو بست کیا اوعر آپ کو پتہ تک نہ چلنے دیا کہ وہ کیسے یہ تمام سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا نازک ترین وقت، جب آپ چلنا بولنا کھانا پینا رہنا سہنا ملنا جلنا پڑھنا لکھنا اور یہاں تک کہ سوچنا سمجھنا سیکھ رہے تھے، ان ہی کی مہربانی اور شفقت تلے گزارا۔ ذرا سوچئے اگر وہ نہ ہوتے۔ سوچ سےباہر ہو جاتا ہے یہ سب۔ میں بھی ان تمام خوش قسمت افراد میں سے ہوں جنہیں رب نے والدین جیسی نعمت دی۔ ہمارے والدین نے ہمیں کیسے اس مقام تک پہنچا دیا اور کہاں سے زندگی شروع کر کے کہاں تک لے آئے۔
میں عمر کے جس حصہ میں ہوں میرے ارد گرد وہ تمام دوس احباب ہیں جن کے بچے بچیاں کالج اور یوینیررسٹیز میں پڑھ رہے ہیں۔ میں گزشتہ پندرہ سالوں میں بیرون ملک سفر کے دوران اور واپسی پر بھی اپنی حلقہ احباب کو تمام معلومات اور احوال بیان کرتی رہتی ہوں۔ ان کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات عموما" ویزا، ہوائی سفر، ان ممالک میں رہائش اور دیگر سہولیات کے بارے میں ہوتے تھے، کچھ کھانے پینے کے شوقین وہاں کے ہوٹل اور ریسٹورانٹس کا احوال جاننا چاہتے تھے، کچھ دلکش مناظر کی تصاویر دیکھتے اور اکثر لوگ ان ممالک کے کلچر پر سوال کرتے۔ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ میرے کزنز اور دوستوں نے ذیادہ تر سوالات یہاں کے کالجز اور یونیورسسٹیز کے بارے میں کیے۔ میں واضح طور پر دیکھ سکتی ہوں کہ میرے دوست احباب اپنا آپ بھلا کر اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ ایک عجیب امرہے۔ والدین کسی بھی دور اور خطہ سے ہوں انہیں اپنی اولاد کے مستقبل کو سنوارنے کی فکر لاحق ہق جاتی ہے۔ وہ اپنے لیے سوچنا کم کرتے چلے جاتے ہیں اور اولاد کے لیے سوچنا اور فکر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ فکر ان کے دل و دماغ ہر جنون کی طرح سوار رہتی ہے۔ جوانی کے عالم میں جس جوش و جزبہ سے انہوں نے اپنے لیے کاوش کی اب وہ اس سے دوگنی کاوش اپنے بچوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر طور یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ایک اچھی زندگی گزاریں۔ ان کے بچوں کی خوشی ان کی اپنی خوشی کے آڑے بھی آجاتی ہے۔ لیکن وہ اپنے دلوں ہر پتھر رکھ کر بچوں کو اپنی نظروں سے دور کرنے تک کو تیار ہو جاتے ہیں۔
اولاد کبھی بھی نہیں سمجھ پاتی کہ والدین یہ سب کیوں کرتے ہیں۔ ان کی محبت اور شفقت، ان کی دعائوں اور ان کی بے لوث کاوشوں کے زریعے آگے بڑھنے والے بچوں میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو حقیقی طور پر ان کے مشکور ہوں اور اس تمام عمل میں والدین کو پہنچنے والے درد اور تکلیف کو جان سکیں۔ والدین اپنے اوپر کیا کیا جبر کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنی اولاد کو کیا کیا سہولت نہیں پہنچاتے۔ ان کی ایک ایک سانس میں اولاد کے لیے نیک خواہشات بسی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب وہ اولاد کی طرف سے ناکامی کی خبر سنتے ہیں تو ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں، جب اولاد کی لا پرواہی اور بے رخی دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں کے خواب مندمل ہونے لگتے ہیں۔ اولاد جب ان کے سامنے کھڑے پو کر کہتی ہے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے تو وہ ایک ٹک دیکھتے رہتے ہیں اور بول نہیں پاتے کہ جائو جا کر آئینہ دیکھو۔
میں نے پاکستان میں اکثر اور پاکستان سے باہر بھی بہت سے بزرگ والدین کو پریشان حال پایا ہے۔ میں نے انہیں بہت عالیشان محلوں میں اکیلے اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں کسی کونے میں تنہا دیکھا ہے۔ میں نے انہیں سڑکوں پر بھیک مانگتے اور ضعیف عمر میں چھابہ لگاتے دیکھا ہے۔ جب بھی رک کر ان سے سوال کرتی ہوں تو پتہ چلتا ہے جوان اولاد نے مجبور کر رکھا ہے۔ زندگی تو گزارنی ہے نا، جیسے تیسے زندگی کے دن پورے کر لیں گے۔ میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ میں گھنٹوں یہ سوچتی ہوں انہوں نے اولاد کی پیدائش پر کس قدر خوشیاں منائی ہوں گی۔ ان کے لیے کیا کیانا کیا ہو گا۔ کیسے کیسے سپنے دیکھے ہوں گے۔ لیکن کہاں چلی جاتی ہے وہ اولاد۔ کیوں نہیں سمجھ پاتی کہ ان کے بوڑھے والدین کو اب کچھ بھی نہیں چاہئےسوائے ان کے ساتھ کے۔
اگر آپ کے والدین حیات ہیں اور بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں تو خدارا ان کا ساتھ دیجئے گا، ان کو سہارا بنیے گا، انہوں نے زندگی میں آپ پر سختی بھی کی ہو گی، دوسرے بہین بھائیوں کی نسبت آپ پر کبھی شفقت کم بھی برتی ہو گی، کبھی نالاں بھی ہوئے ہوں گے، لیکن ایک بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود پر نظر ڈالیے گا، اپنا تمام تر وجود ان کی وجہ اسے قائم دکھے گا۔ ان کا شکریہ ادا کیجئے۔ ان کے ساتھ رہئے۔ ان کا درد کم ہو جائے گا۔ ان کو گلے لگائیے اور ان کا ماتھا چوما کیجئے۔ کیونکہ جب وہ نہ رہیں تو زندگی کی تپش بڑی شدید ہو جاتی ہے۔ اللہ سب والدین کو اجر عظیم دے اور ہر اولاد کو ان کے لیے باٰعث راحت بناَئے آمین۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *