ہم دیکھیں گے

کچھ بنیادی سچائیاں پہلے۔ مشکل وقت ہے، چنانچہ سچ بولنا لازم۔ تقریر اور تنظیم سازی کا حق جمہوریت کی روح ہے۔ یہ حقوق انسانوں کے گروہ اور ضمیر کی اجتماعی آزادی کو طاقت ور نظام، اور دوسروں کو کنٹرول کرنے کی خواہش کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
تنظیم سازی کا حق مشترکہ مقصد رکھنے والے افراد کوسیاسی جماعتوں کی صورت جمع ہوکر اپنی آواز بلند کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ طے کرنا کہ کون بات کرسکتا ہے اور کو ن نہیں، شہریوں کے جمع ہونے اور اجتماعات منعقد کرنے کے حق کے برعکس ہے۔ انفرادی تقریر سماج کی اجتماعی آواز کا حصہ ہوتی ہے۔
آزادی ئ اظہاراور جمع ہونے کے حق کے بغیر آئین محض من مانی اور جبر کا آلہ کار بن کر رہ جاتا ہے۔ انسان کی زبان بند ی، اور اس کے عوامی مقامات پر جانے کی پابندی اُس کی شخصیت کے قتل کے مترادف ہے۔ سٹالن اس بات کو خوب سمجھتا تھا۔ چنانچہ نے اپنے حریفوں کی زبان بندی سے لے کر چہرہ غائب کرنے تک، ہر جبری ہتھکنڈا اختیار کیا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں تقریر اور اجتماع کے حق کو چیلنج کا سامناہے۔ ان حقوق کی یقین دہانی پر سوالیہ نشان لگ چکا۔ کیا پاکستان کا آئین دنیا کے دیگر آئینی ڈھانچوں کی نسبت ان حقوق کی فراہمی کی ضمانت نہیں دیتا؟ اس ضمن تحقیق کرنے، اور اسے ہماری تاریخ کے دیگر ادوار کے علاوہ عالمی روایات کے مقابل رکھ کر پرکھنے کا وقت آچکا ہے۔
پاکستان کا آئین آزادی ئ اظہار کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ یہ آرٹیکل 19 میں طے کئی مخصوص وجوہات کی بنیاد پرتقریر کا حق محدود کرنے کے لیے قانون سازی کرسکتا ہے۔ یہ پابندی کیسے نافذکی جاسکتی ہے؟ کیا بولنے کے خواہش مند شخص کو پہلے حکومت یا متعلقہ اتھارٹی سے کلیرئنس حاصل کرنی چاہیے؟ کیا بولنے سے پہلے الفاظ کو سرکاری منشا کے ترازومیں تول لیا جائے؟یا ممنوع قرار پانے والی تقریر پر سزا، ہرجانہ یا توہین، یا بغاوت کے قانون کے تحت جیل میں قید کی صورت ہو؟گویا زبان درازی پر فوری سبق سکھانے کا اہتمام ہو؟ پہلے سے طے شدہ پابندی اور بولنے کی اجازت ریاست کی سختی اور فرد کی آزادی کے درمیان فرق کا تعین کرتی ہے۔
گزشتہ ڈیرھ سال کے دوران، تقریر پر قبل ا ز وقت پابندی پاکستان میں ایک نیا معمول بن چکی ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز خود کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور پاتے ہیں کہ کب ”خاموشی“ کا بٹن دبا کر لائیو نشریات کو بلاک کرنا ہے۔ غالب بیانیے پر اٹھنے والے سوال اور کیے جانے والے چیلنج پر ”خاموشی“ کا بٹن دبانا لازم ہوچکا۔ بولے گئے الفاظ کے لائیو نشر ہونے تک دستیاب پندرہ سیکنڈز میں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے روکنا ہے اور کسے نشرہونے دینا ہے۔ ایسے فیصلے، جن میں پندرہ سیکنڈ ز کا دورانیہ اپیل کا کوئی حق نہیں دیتا، آج طے کرتے ہیں کہ کسے خاموش رکھنااو ر کسے نشرکرنا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کی کوریج پر قدغن یا زیر ِالتوا مقدمات یا سزاؤں کو جواز بنا کر سیاسی بیانات کی زبان بندی معمول بن چکی ہے۔ سیاسی تنقید کا گلا گھونٹا جاچکا ہے۔
دنیابھر کی آئینی جمہوریتوں میں سیاسی تقریر پر قبل از وقت پابندی کی شاید ہی کوئی مثال ملے۔ اس سے مزید سوالات اٹھ چکے ہیں۔ کیا مقدمے کا سامنا کرنے والے کسی شخص کو بولنے کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ پھر ایک سزا یافتہ شخص کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یاایسا شخص جسے انتخابات لڑنے اور پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہو؟ کیا ایسا شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار بن سکتا ہے، یاپارٹی میں کسی اور کی بات کرسکتا ہے؟
ان سوالوں کا جواب دینے والے اصول عالمی جمہوری روایات میں طے کردیے گئے ہیں۔ سپیکرکی شناخت، یا اُس کے موقف کی وجہ سے تقریر کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔ کسی سزا یافتہ شخص کے تقریرکے حق(بشرطیکہ توہین عدالت یا آئین سے بغاوت کے زمرے میں نہ آئے)پر کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر وہ شخص جسے کسی اپیلٹ کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران رہاکردیا ہو۔
جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے دور میں سپریم کورٹ سے ”Minister of Justice v Hofmeyer (1993)“ کیس میں قید شدہ مجرموں کے حقوق پر رولنگ دینے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے طے شدہ عالمی اصولوں کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: ”ہم اس غلط اور تنگ نظر تصور کی نفی کرتے ہیں کہ جیل میں آتے ہی کوئی شخص اپنے ذاتی حقوق سے محروم ہوجاتا ہے۔ وہ مخصو ص ریفرنس میں تعین کردہ حقوق کے علاوہ اپنے عام قانونی حقوق بھی رکھتا ہے۔“
آزادیئ اظہار اور تنظیم سازی کے حقوق، جنہیں تحریری آئین میں بنیادی حقوق قرار دیا گیا ہے، عام قانونی حقوق سے کہیں بلند درجہ رکھتے ہیں۔ ”Pell v Procunier (1974)“ میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ تصور مسترد کردیا کہ کسی جرم میں سزا یافتہ شخص پہلی ترمیم (تقریر کی آزادی) کا حق کھوبیٹھتا ہے۔ فیصلے کی ایک اہم لائن اس کی تصدیق کرتی ہے:
”امریکی آئین تنظیم سازی کے حق کو تقریر کے حق کی طرح مقدم سمجھتا ہے۔ جو شخص نمائندگی کرنے اور تنظیم سازی کرنے کا حق رکھتا ہے، وہ بولنے کا حق بھی رکھتاہے۔”Tashjian v Republican Party (1986)“ اور Secretary of State of California v San Francisco County Democratic Central Committee (1989)“ فیصلے میں امریکی سپریم کورٹ کہتی ہے کہ نہ تو قانون ساز اور نہ ہی عدالتیں مداخلت کا اختیار رکھتی ہیں کہ کسی سیاسی جماعت کے ارکان کس کو اپنا لیڈر چنتے ہیں۔انتخاب کی آزاد چوائس کی آئین ضمانت دیتا ہے۔“
کیا پاکستان کا آئین وہ حقوق دیتا ہے جونسل پرستی کا شکار ایک ملک کا آئین تک دینے کا وعدہ کرتا ہے؟ کیا تقریر اور اجتماع کا حق، جسے امریکی آئین تسلیم کرتا ہے، ہمارے آئین سے ماورا ہے؟ حالیہ برسوں میں پاکستان میں آئینی استثنیٰ کی تھیوری نے سراٹھایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم، یا ہمارے حالات، مختلف ہیں،اس لیے دوسروں کوحاصل آزادی ہم پاکستانیوں اور ہمارے سیاسی نمائندوں کو نہیں مل سکتی۔ یہ چیز عقل کو ماؤف کردیتی ہے۔
ٍ بنیادی آزادی پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے ”بے نظیر بھٹو بنام صدر ِ پاکستان، ضیا، 1988“کیس میں انتہائی چشم کشا فیصلہ دیا۔ ضیاکا مقصد سیاسی جماعتوں کی تنظیم سازی کو کنٹرول کرناتھا۔ اُنھوں نے الیکشن کمیشن کو مینڈیٹ دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون الیکشن لڑ سکتا ہے اور کون نہیں۔ اس کا مقصد بہت واضح تھا: بے نظیر بھٹو اور اُن کی پارٹی کو سیاسی عمل سے باہر کرنا۔ محترمہ نے آمر کو چیلنج کیا۔ ضیا کے اٹارنی جنرل نے اخلاقیات سے بوجھل آرٹیکلز 62 اور 63 کے مندرجات پڑھ کر سنائے۔یہ آرٹیکلز سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی آرٹیکل 17(2) میں دی گئی آزادی کو محدود کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بے نظیر بھٹو کی دلیل یہ کہتے ہوئے رد کردی کہ اُن کی تقاریر ”قابل ِ اعتراض“ ہیں۔
یہ فیصلہ تاریک دور کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ محترمہ کے دور کے بعد سے ہمارے بنیادی حقوق پر جو گرد پڑ چکی ہے، اُسے جھاڑنے کی کوشش کریں۔ یہ وہی دن ہے جس کا وعدہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *