پاکستانی اپوزیشن میں پھوٹ: ہوا کیا تھا؟

رواں برس اٹھارہ مئی کو مریم نواز بلاول بھٹو کی اپوزیشن جماعتوں کے اعزاز میں دی جانے والی افطار پارٹی میں شرکت کی تیاریوں میں تھیں کہ انہیں مسلم لیگ ن کا ایک اہم رہنما اس تقریب میں عدم شرکت کا قائل کرنے کی کوشش میں تھا۔

تب مریم نواز کو بتایا جا رہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی پر کسی بھی صورت اعتبار نہ کریں۔ ساتھ ہی مریم نواز کو یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ یہ ان کی سیاسی رونمائی کا موقع تھا، جسے زرداری ہاؤس کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ مریم نواز نے البتہ سنی ان سنی کر دی تھی اور کچھ رکھ رکھاؤ سے اپنی پارٹی کے اس رہنما کو انکار کر دیا تھا۔ مریم نواز کو پیپلز پارٹی سے دور رہنے کا قائل کرنے کی کوشش کرنے والا مسلم لیگ ن کا یہ رہنما کوئی اور نہیں بلکہ خواجہ آصف تھے۔

دراصل خواجہ آصف  یہ سب کچھ میاں شہباز شریف کے کہنے پر کر رہے تھے۔ دونوں رہنما ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے نظریے پر کام کرتے ہیں، جو اپوزیشن کی تقسیم میں ہی زیادہ مؤثرہوتی ہے۔ اس روز تو خواجہ آصف کی ایک نہ چلی مگر پھر سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اپوزیشن کو اپنی وفاداریاں بدلنے والے کم و بیش چودہ سینیٹرز کی بے وفائی کے باعث شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو خواجہ آصف ایک بار پھر تلوار اٹھائے میدان میں آ گئے۔

خواجہ آصف کی طرف سے پیپلز پارٹی پر تنقید دراصل سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب سابق صدر آصف علی زرداری کی معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے نیب راولپنڈی میں ہونے والی اس مبینہ ملاقات کی خبروں کے منظرعام پر آنے کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہی وہ ملاقات تھی، جس نے پیپلز پارٹی کے کم و بیش پانچ سینیٹرزکی وفاداریاں عین موقع پر بدلوا دینے میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد کی۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ابھی تک اس پر کوئی باقاعدہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم بعض رہنما آف دی ریکارڈ اس مبینہ ملاقات کی خبروں کی تردید کرتے ہیں۔

اب پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف آ جائیں۔ میری اکیس جون کو سابق صدر آصف علی زرداری سے احتساب عدالت ملاقات ہوئی تو میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں یہ پوچھا کہ کیا سنجرانی اپنی کرسی بچا پائیں گے؟ اس پر آصف زرداری نے براہ راست جواب دینے کے بجائے بات ٹال دی اور الٹا مجھ سے کہا، ''تم سوال بہت کرتے ہو۔‘‘ مجھے اسی روز سے شک تھا کہ شاید آصف علی زرداری اس معاملے میں دو ٹوک موقف اپنانے سے گریزاں ہیں۔ شاید پس منظر میں کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہو گا۔

جس طرح مسلم لیگ ن کو سابق صدر آصف علی زرداری پر شک ہے، اسی طرح کچھ لوگوں کو یہ شبہ بھی ہے کہ میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف کو فون پر دھمکی دی گئی تھی کہ ان کی طرف سے تحریک عدم اعتماد میں عدم تعاون کی صورت میں نیب لاہور انہیں ایک بار پھر گرفتار کر لے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر شہباز شریف کی طرف سے مبینہ طور پر تین سینیٹرزکو اپنے ووٹ صادق سنجرانی کے حق میں دینے کی مبینہ ہدایت دینے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ لیکن اس واقعے سے ایک بات طے ہے کہ شک زرداری اور شہباز شریف پر ہی کیا جا رہا ہے۔

آصف علی زرداری ہوں یا میاں شہباز شریف، دونوں شروع دن سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ دونوں کی مشترکہ خاصیت یہ ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے، جس سے اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو۔ یہ صورت حال دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ ان کے قیادت میں بہت اوپر بیٹھے ہوئے اعلیٰ رہنما ہی شاید اندر سے کسی اور سے مل چکے ہیں۔

جس طرح مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ہی وفاداریاں بدلے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، بالکل اسی طرح پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہےکہ انہوں نے وفاداریاں بدل جانے اور ایوان میں اس بارے میں قرارداد کی ممکنہ ناکامی کے بارے میں صبح ہی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو آگاہ کر دیا تھا۔

میری ذاتی اطلاع یہ ہے کہ وفاداریاں بدلنے والے زیادہ تر سینیٹرز کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ یہ وہ ہیں جو انفرادی حیثیت میں حکومت کے ہاتھ کھلونا بنے۔ تاہم پیپلز پارٹی،جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں کے سینیٹرز بھی وفاداریاں بدلنے والوں میں شامل تھے۔

اگر اپوزیشن کو وفاداریاں بدلنے والوں کو تلاش کرنا ہے، تو پوچھ گچھ کا آغازآصف علی زرداری اور شہباز شریف سے کیا جانا چاہیے۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟ اور کیا کبھی وفاداریاں بدلنے والوں کی شناخت ہو سکے گی؟ فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ لیکن جو بات نظر آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان رخنہ پیدا ہو چکا ہے۔ دونوں کے اتحاد کو لگنے والی اس آگ کو ایسی شخصیات اور رہنما ہی ہوا دے رہے ہیں، جو بظاہرکسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

اس سارے کھیل میں حکومت کو دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ سب سے پہلے تو اس نے اپوزیشن کے ووٹ چھینے اور دوسرے مرحلے میں اپوزیشن کا داخلی اعتماد۔ اگر اپوزیشن میں بداعتمادی بڑھتی چلی گئی، تو اپوزیشن خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔ لیکن اس سارے منظر نامے میں یہ بات خوش آئند ہے کہ بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف نے اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کو اس معاملے پر بیان بازی سے روک دیا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *