پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن مکمل طور پر پاکستان میں کرانے پر اتفاق

 

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور فرنچائز مالکان کے درمیان مل کرکام کرنے پر اتفاق ہوگیا۔

پاکستان سپر لیگ کے گزشتہ تین ایڈیشن کے میچز کے بتدریج ملک میں کامیابی سے انعقاد کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ لیگ کا پانچواں ایڈیشن مکمل طور پر پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔

پی ایس ایل 2017 کے فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد کے بعد اس سے اگلے ایڈیشن کے کوالیفائرز کا لاہور اور فائنل کا کراچی میں پرامن اور شاندار طریقے سے انعقاد کیا گیا تھا۔

اس کے بعد 2019 کے ایڈیشن کے مجموعی 8 میچز لاہور اور کراچی میں منعقد کرانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن سرحد پر کشیدہ صورتحال کے پیش نظر تمام 8 میچز کراچی میں منعقد کیے گئے جس پر غیرملکی شائقین نے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

لیگ کے تمام میچز کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے آج فرنچائز کے مالکان نے چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کی۔

پیر کو پی ایس ایل کے فرنچائز مالکان سے ملاقات کے بعد چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فرنچائز مالکان کو ظہرانہ دیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران فرنچائز مالکان نے لیگ کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے اپنے تحفظات سے چیئرمین پی سی بی کو آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران بورڈ اور فرنچائز مالکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لیگ کے تمام میچز پاکستان میں منعقد کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں بورڈ اور فرنچائز کے درمیان مل کر کام کر نے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

بورڈ حکام اور فرنچائز نمائندے مل کر غیر ملکی کھلاڑیوں کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں کریں گے اور بورڈ کے حکام غیرملکی کھلاڑیوں کے ایجنٹس کو سیکیورٹی انتظامات سمیت تمام چیزوں پر بریفنگ دیں گے تاکہ ان کی مدد سے کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ فرنچائز کے نمائندے بھی کھلاڑیوں کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائیں گے اور انہی کھلاڑیوں سے معاہدہ کیا جائے گا جو پاکستان آ کر میچ کھیلنے پر تیار ہوں گے۔

پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کے اجلاس کی تاریخ کا اعلان جلد کرنے پر اتفاق ہوگیا اور اسی اجلاس میں لیگ کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ملاقات کے دوران پی ایس ایل کے فنانشل ماڈل پر بھی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں فرنچائز مالکان کی رائے بھی لی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *