کراچی کی صفائی ایف ڈبلیو او کے ذمے

علی حیدر زیدی کی کلین کراچی کیمپین: شہر اور نالوں کی صفائی ایف ڈبلیو او کے ذمے، عوام سے عطیات کی اپیل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اعلانیہ ’کلین کراچی کیمپین‘ میں کلیدی کردار پاکستان فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو سونپ دیا گیا ہے جبکہ دیگر ادارے اس سے معاونت کریں گے۔

پاکستان کے محکمہ بندرگاہ اور جہاز رانی کے وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے حال ہی میں ہونے والی بارشوں کے بعد کراچی میں صفائی مہم کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں عوام سے عطیات جمع کرانے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے ایف ڈبلیو او کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات دی تھیں۔

شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک سمیت تاجر، صنعت کار اور شوبز کی بعض شخصیتوں نے بھی اس مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں موجود ایف ڈبلیو او 494 انجینئر گروپ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صفائی کے عمل پر عملدرآمد اور نگرانی کی ذمہ داری ان کے محکمے کے پاس ہے۔

پہلے مرحلے میں نالوں کی صفائی کی جائے گی جس میں مشینری کا استعمال ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں ’سالڈ ویسٹ‘ کی صفائی ہوگی جس میں رضاکار اور شہری تنظیموں کا بھی کردار ہوگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جتنے عطیات ملیں گے ان کی روشنی میں اس مہم پر کام کیا جائے گا۔ اس وقت 80 سے 90 ہیوی مشینز اور اس کے علاوہ ڈمپرز وغیرہ مختلف منصوبوں سے منگوا لیے گئے ہیں۔

کراچی کچرا

وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے دعوی کیا تھا کہ ایک ہفتے میں شہر کو صاف کر دیں گے۔ لیکن میئر کے مطابق ایک ہفتے میں کراچی کی صفائی ممکن ہی نہیں

صفائی ہفتے میں نہیں 90 روز میں

اس منصوبے کے لیے وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے عطیات ایف ڈبلیو او کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائیں۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں کم از کم ایک ارب 75 کروڑ درکار ہیں اور یہ مرحلہ 90 دنوں پر مشتمل ہوگا۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے ایک ہفتے میں شہر کو صاف کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس وقت صرف بعض چوراہوں پر صرف بینر آویزاں کیے گئے ہیں اور صفائی کے معاملات جوں کے توں برقرار ہیں۔

کراچی کے میئر وسیم اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایک ہفتے میں شہر کی صفائی ممکن ہی نہیں۔

ان کے بقول آئندہ دنوں میں مزید بارش کی پیشگوئی ہے اور اس کے علاوہ عید قربان بھی ہے، اس لیے صفائی میں وقت تو لگے گا، تاہم یہ وقت کتنا ہوگا انھوں نے واضح نہیں کیا۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فنڈز ہیں اور نہ ہی مشینری بلکہ صرف میکنزم موجود ہے جبکہ ایف ڈبلیو او کے پاس مشینری بھی ہے۔

ضلعی میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین اور نائب چیئرمین شہر کے بڑے نالوں کے اُن مقامات کی نشاندہی کریں گے جہاں پر یہ بند ہیں اور وہاں سے ایف ڈبلیو او اور کے ایم سی کا عملہ کچرا نکال کر پہلے سے مختص جگہوں پر ڈمپ کریں گے۔

عمران خان کا کراچی سے وعدہ

تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران کراچی کے لیے 10 نکاتی روڈ میپ کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، پولیس، بجلی، نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان، ماحولیات، سرکلر ریلوے اور ملازمت کے مواقعوں کو اولیت دی گئی تھی۔

عمران خان نے یہ بھی کہا تھا وہ کہ کراچی کا نظام بدلیں گے اور ’تگڑا میئر‘ لائیں گے جس کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا۔

کراچی کچرا

واضح رہے کہ گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں کراچی میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 14 اور سندھ اسمبلی کی 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے حصے میں قومی اسمبلی کی چار اور سندھ اسمبلی کی 14 نشستیں آئیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کی تین اور سندھ اسمبلی کی چھ نشستوں پر فاتح قرار پائی۔

صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں تحریک لبیک پاکستان اور ایک نشست ایم ایم اے کے حصے میں آئی۔

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم وفاق میں اتحادی جماعتیں ہیں جن دونوں کے پاس اکثریتی نشستیں ہیں۔

کراچی پیکیج کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ ماضی میں وزیر اعظم عمران خان سے کراچی پیکیج کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔ اس سے قبل اسی نوعیت کا مطالبہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بھی کیا گیا تھا۔

شہر کے میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ وفاقی پیکیج کے منصوبوں پر عملدرآمد کے ایم سی کے ذریعے کیا جائے۔

میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ کراچی کو 20 سے 25 ارب کا پیکیج دیا جائے جس سے وزیر اعظم نے اتفاق بھی کیا تھا۔

کراچی میں وسیم اختر کے میئر بننے کے بعد بھی اسی طرح صفائی مہم کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ مخصوص علاقوں تک ہی محدود رہی تھی۔

وسیم اختر کا کہنا ہے کہ محدود وسائل میں وہ اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومت سے وسائل بھی مانگ رہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نظر انداز

دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن اس کچرے کو اٹھانے اور اسے ’ری سائیکل‘ کرنے کا کوئی مؤثر نظام دستیاب نہیں۔

حکومت سندھ نے کراچی سمیت بڑے شہروں سے کچرا اٹھانے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کیا تھا جس نے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری ایک چینی کمپنی کے حوالے کردی۔

ابتدائی طور پر چینی کمپنی نے ضلع جنوبی، شرقی اور ملیر سے اپنے کام کا آغاز کیا لیکن حکومت سندھ نے اعتراف کیا کہ چینی کمپنی کچرا اٹھانے میں ناکام ہوگئی ہے جس کے بعد اس کا ٹھیکہ منسوخ کردیا گیا۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ڈائریکٹر اے ڈی سنجرانی کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری صفائی مہم کے بارے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ویسے بھی وہ نالے صاف کر رہے ہیں جس سے ان کے محکمے کا کوئی تعلق نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چینی کمپنی کا ٹھیکہ منسوخی کے عمل میں ہے تاہم ضلع جنوبی، شرقی اور ملیر سے کچرا اٹھایا جارہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *