جسٹس فائز عیسٰی نے اپنے خلاف ریفرنس چیلنج کر دیا

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کردیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف دائر ہونے والا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف بیرون ممالک اثاثے ظاہر نہ کرنے سے متعلق صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل ان ریفرنسوں پر کارروائی کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو اظہارِ وجوہ کے دو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

‏پہلا شوکازنوٹس اہلخانہ کےنام بیرون ملک جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا جبکہ دوسرا شو کاز نوٹس صدر کوخط لکھنے پر جاری کیا گیا ہے۔

جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کو بھی ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے دائر کی گئی تین سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدلیہ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قواعد وضوابط سے ہٹ کر کسی کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہو۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک لمحے کے لیے یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اُنھوں نے اثاثے چھپائے ہیں تو اس سلسلے میں انکم ٹیکس اور ایف بی آر نے نہ تو اُنھیں کوئی نوٹس جاری کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف دائر کیا جانے والا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ ان کی اس درخواست کو کھلی عدالت میں سنا جائے اور جب تک اس درخواست پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اس وقت تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل کی جائے۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکنے کے لیے ایک آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر رہی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اعلی عدلیہ کے ان دو ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی اس درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ کے وہ جج صاحبان بینچ کا حصہ نہ بنیں جو سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی رکن ہیں۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کی بار ایسوسی ایشن ان ریفرنسوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔ جبکہ غیر منتخب نمائندوں کا ایک دھڑا ان کے حق میں ہے اور ان کا موقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *