قلم کو ہتھکڑی

بارگاہِ عدل میں

صرف تھانے کی حراست گاہ میں وقت چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا۔ دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ کمرے کے کھلے دروازے کے باہر پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت بڑھ رہی تھی۔ میں اس سوچ میں غلطاں تھا کہ عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں دکھائی جا رہی؟ کیا اس میں قانون کرایہ داری کے علاوہ کوئی اور سنگین جرم بھی ڈالا جا رہا ہے، میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ایک اہلکار نے چلنے کا حکم دیا۔ کمرے کے عین باہر ایک پریزن وین لگ چکی تھی۔ ہم اطاعت گزار ملزموں کی طرح اپنے کپڑوں اور ادویات کے تھیلے اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھے۔ یہ چیزیں صبح ہی گھر سے آئی تھیں، گاڑی کے آس پاس متعدد سینئر اور جونیئر اہلکار جمع تھے۔ ایک جوان دو منہ والی ہتھکڑیوں والی زنجیر تھامے کھڑا تھا۔ اسے حکم ملا ’’ہتھکڑی ڈال دو‘‘ میں نے ایک لفظ بھی نہ کہا اور دونوں بازو آگے کر دیئے۔ اس نے ہتھکڑی کا ایک حلقہ میری دائیں کلائی میں ڈال دیا اور چابی سے کسنے لگا۔ یہاں تک کہ فولادی کڑی میری ہڈیوں پر دبائو ڈالنے لگی۔ منسلک ہتھکڑی کا دوسرا حلقہ جاوید کی بائیں کلائی میں ڈال کر چابی کس دی گئی۔ ہم دونوں کے ہاتھ اور کلائیاں ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ نقل و حرکت کے لئے صرف میرا بایاں ہاتھ رہ گیا تھا اس کیفیت میں خاصی اونچی پریزن وین میں سوار ہونا کافی مشکل لگا۔ ہتھکڑی میں جکڑا ایک نوجوان پہلے ہی وین کے کونے میں سکڑا سمٹا بیٹھا تھا۔ فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھتے سینئر پولیس افسر نے آواز لگائی ’’چھ بندے سوار ہو جائو‘‘ چھ بندوق بردار اہلکار اچھل کر گاڑی میں سوار ہوتے ہیں۔ میرے بائیں ہاتھ، دروازے کے قریب اور تین ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ ہماری ہتھکڑیوں کی لمبی زنجیر تھامے ایک سپاہی عین ہم دونوں کے مد مقابل بیٹھ گیا۔ پھر ایک اور آواز لگی ’’ٹاٹ نیچے گرا دو‘‘ وین کے عقبی حصے کا ٹاٹ نیچے گرا دیا گیا۔ گاڑی روانہ ہو گئی۔

میں برسوں سے اسلام آباد میں مقیم ہوں لیکن مجھے کچھ اندازہ نہ ہو پایا کہ ہماری منزل کیا ہے۔ میں نے پتا چلانے کی کوشش بھی نہ کی تھی۔ نہ کسی سے پوچھا نہ وین کی سلاخوں سے تاک جھانک کی کوشش کی۔ منزل نامعلوم ہو تو راستوں سے کیا لینا دینا۔ خاصی دیر بعد یکے بعد دیگرے دو پھاٹک کھلے۔ وین رکی مسلح اہلکار پہلے اتر کر مستعدی سے کھڑے ہو گئے۔ پھر ہمارا زنجیر بردار اور اس کے ساتھ ہی ہم اترے۔ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہم دونوں آگے آگے تھے اور زنجیر بردار، لوہے کا لمبا سنگل لئے ہمارے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ یہاں میرے کچھ عزیز، دوست اور درجن بھر وکلا پہنچے ہوئے تھے۔ ان میں میرا چھوٹا بیٹا، جواں سال پوتا اور داماد بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ صبح سے پولیس ہمیں صحیح جگہ نہیں بتا رہی کہ کہاں پیش کرنا ہے۔ اس وقت بھی میڈیا دو مختلف جگہوں پر کھڑا ہے، اسی لمحے خاتون اسسٹنٹ کمشنر اور ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی اپنے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ذرا دیر بعد ہمیں ہتھکڑیوں سمیت مجسٹریٹ صاحبہ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ وکلا بھی اندر آگئے۔ ہماری زنجیر بھی اب اہلکار نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی جو عین ہماری پشت پہ کھڑا تھا۔

مقدمہ پیش ہوا، وکلا نے قانونی دلائل شروع کئے۔ اہم نکتہ یہ تھا کہ مذکورہ مکان تو میرا ہے ہی نہیں۔ مجسٹریٹ صاحبہ نے پوچھا ’’ملکیت کا کوئی ثبوت‘‘ مکان کی رجسٹری، پلاٹ کی الاٹمنٹ اور سی ڈی اے کا ریکارڈ پیش کر دیا گیا۔ وکلا کی ایک دلیل یہ تھی کہ قانون کے تحت سیکشن 144کے حوالے سے کوئی پولیس اہلکار ایف آئی آر دینے کا مجاز ہی نہیں۔ انہوں نے اعلیٰ عدالتوں کے نظائر بھی پیش کئے۔ وکلا کا اصرار تھا کہ اس جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہوئے کیس ڈسچارج کر دیا جائے۔ اسی دوران میں نے جج صاحبہ سے کچھ کہنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے مرحمت فرما دی۔

میں نے کہا’’میڈم! مجھے نہیں معلوم کہ پولیس والوں نےشعوری طور پر میرے دائیں ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالی ہے یا ایسا نادانستہ طور پر ہو گیا ہے۔ میری عمر اس وقت 76سال ہے۔ (ہتھکڑی والا ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے میں نے کہا) جب سے ہوش سنبھالا ہے، میرے دائیں ہاتھ کا رشتہ قلم، کاغذ، کتاب اور تختہ سیاہ پر لکھنے والے چاک کی ڈلی سے رہا ہے۔ مجھے اپنی ذات کی نہیں، اس ہاتھ کی تذلیل کا بہت دکھ ہے۔ آپ کے سامنے سارے کاغذات پڑے ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ جس گھر کا کرایہ نامہ داخل نہ کرنے کا الزام مجھ پر لگایا گیا ہے، اس سے میرا کیا تعلق واسطہ ہے۔ یہ گھر میرے پچاس سالہ بیٹے کا ہے جو بیس سال سے بیرون ملک روزی کما رہا ہے۔ معاہدہ میرے بیٹے اور کرایہ دار کے درمیان ہوا ہے۔ اس میں میرا نام صرف میرے بیٹے کی ولدیت کے طور پر آیا ہے۔ میں نے 26سال درس و تدریس کے شعبے میں گزار دیئے۔ کم و بیش تین نسلوں کو علم سے آراستہ کیا۔ اتنا ہی عرصہ صحافت سے وابستہ رہا...‘‘

مجسٹریٹ صاحبہ بولیں: جی ہاں۔ میں آپ کو جانتی ہوں، اچھی طرح‘‘ میں نے اپنی بات جاری رکھی ’’میڈیم ! آپ کو اس دفتر میں بیٹھے کچھ عرصہ ضرور ہوا ہو گا۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ اس نوع کے مقدمے میں، کسی کو اس طرح آدھی رات کے وقت توہین آمیز انداز میں گھر سے اٹھایا اور پھر آپ کے سامنے ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا ہو؟ کوئی ایک کیس؟ اگر آپ کو یاد نہیں تو ان پولیس والوں سے پوچھئے کہ انہوں نےاس جرم میں اب تک کتنے افراد کو دہشت گردوں کے سے انداز میں گرفتار کیا، انہیں ہتھکڑیاں ڈال کر عدالتوں میں پیش کیا ہو ؟‘‘

جج صاحبہ نے میری معروضات نہایت توجہ سے سنیں۔ پولیس سے کہا مجھے بغلی کمرے میں بٹھا دیں۔ انہوں نے ہتھکڑی اتارنے کا حکم نہ دیا اور فیصلے کے لئے کمرہ بند ہو گئیں۔ آدھ گھنٹے بعد انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے ہمیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات صادر کر دیئے۔

وکلا ہکا بکا رہ گئے، انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نوعیت کی ایف آئی آر پر چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ یہ کہنہ مشق وکلا کی طویل پیشہ ورانہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ اسی دوران وکلا میں سے کسی نے زنجیر بستہ ہاتھ میں قلم والی تصویر بنائی۔ نیٹ پر ڈالی اور پھر ملک کے طول و عرض میں ایک نگار خانہ کھلتا چلا گیا، وکلا نے فوری طور پر ضمانت نامے داخل کئے۔ پولیس نے حکم صادر کیا۔ زنجیر بردار نے زنجیر کھینچی۔ پریزن وین اسٹارٹ ہو گئی۔ میں بمشکل سوار ہوا۔ وکلا نے نعرہ زنی کی۔ گاڑی نے تیزی سے جست لگائی اور روانہ ہو گئی۔ (جاری ہے)

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *