قلم کو ہتھکڑی

’’بخشی خانہ‘‘!!

عدالت سے چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ کا پروانہ لئے پریزن وین نے انگڑائی سی لی۔ وکلا کے نعرے پیچھے رہ گئے اور چشم زدن میں گاڑی بڑے پھاٹک تک جا پہنچی۔ میں نے سامنے والے ٹاٹ کے چھوٹے سے روشن دان سے دیکھا۔ ہوا کی وجہ سے روشن دان کا غلاف پھڑپھڑا رہا تھا۔ میں اتنا ہی دیکھ پایا کہ درجنوں ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ صحافیوں اور پولیس میں توتکار ہو رہی ہے۔ میں کھڑا ہوا۔ روشن دان سے ہاتھ باہر نکال کر سخت کوش صحافیوں کو سلام کیا۔ چہرہ باہر نکالنا چاہتا تھا کہ زنجیر بردار نے زنجیر کھینچ لی اور مجھے اپنی نشست پر بیٹھنا پڑا۔ کسی نے باہر سے عقبی ٹاٹ کا پردہ اٹھانے کی ناکام کوشش کی۔ پھر ایک آواز آئی۔ ’’عرفان صاحب کیسا لگ رہا ہے یہ تجربہ؟‘‘ میں کوئی جواب نہ دے پایا۔ پریزن وین کا ہارن چنگھاڑا۔ صحافیوں نے کیمرے ایک طرف کئے۔ وین تیزی سے نکلی میں نے ایک دو کیمرہ اسٹینڈز میں بوس ہوتے دیکھے۔ خطرناک قیدی، اپنے رفقاء سے بات کر پایا نہ ان کا شکریہ ادا کر سکا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ہم اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8میں آ گئے ہیں جو میرے گھر سے کوئی دو کلو میٹر دور ہو گا۔ میری نظر ’’دارالسلام‘‘ کی بڑی بک شاپ پر پڑی۔ میں اکثر یہاں آتا جاتا رہتا ہوں۔ ذرا دور جا کر گاڑی رُکنے کو آئی۔ یہ ایف 8مرکز کا کمرشل علاقہ تھا۔ ایک طرح کا بھرا پُرا بازار۔ ’’بازار‘‘ کے تصور سے مجھے فیض احمد فیض یاد آ گیا۔

آج بازار میں پابہ جولاں چلو

حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی

تیرِ الزام بھی سنگِ دشنام بھی

راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

آج بازار میں پابہ جولاں چلو

میں کہاں اور فیض کہاں۔ غداری کا فضیلت مآب جرم کہاں اور قانون کرایہ داری کا حقیر و بے مایہ الزام کہاں؟ مجھے خود سے ندامت ہونے لگی۔ میں پابہ جولاں بھی نہ تھا۔ بس ہاتھ میں ہتھکڑی تھی یا عمر رسیدگی کی کہولت۔ چند لوگوں نے ہمیں گاڑی سے اترتے ضرور دیکھا لیکن لوہے کا ایک چھوٹا سا دروازہ بس دو چار قدم ہی دور تھا۔ دستک دینے پہ آہنی دروازہ کھل گیا۔ اندر ایک جہان نو آباد تھا۔ ہمارے جیسے زنجیر بستہ قیدیوں کی بھیڑ لگی تھی۔ چار سو پولیس ہی پولیس تھی۔ ایک شیڈ کے نیچے پلاسٹک کی نیم جاں سی کرسیاں پڑی تھیں۔ میں اور جاوید دو کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ایک سب انسپکٹر نے ہمارے کوائف کا اندراج کیا۔ ہماری ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ میں نے ایک اہلکار سے پوچھا ’’یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘ اس نے بے رخی سے جواب دیا ’’بخشی خانہ‘‘۔ میں کچھ نہ سمجھا۔ بعد میں کھلا کہ یہ ایک طرح کا ٹرانزٹ کیمپ (TRANSIT CAMP)ہے۔ اڈیالہ جیل سے جن قیدیوں یا حوالاتیوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کے لئے اسلام آباد لایا جاتا ہے وہ پہلے اسی سرائے میں اترتے ہیں۔ اسی طرح مختلف عدالتوں سے جن لوگوں کو جیل سدھارنے کا حکم ملتا ہے وہ بھی پہلے اسی ’’حجرہ خاص‘‘ میں لائے جاتے ہیں۔ میں سوچتا رہا کہ اسے ’’بخشی خانہ‘‘ کیوں کہتے ہیں لیکن کچھ سجھائی نہ دیا۔

بخشی خانے میں گشت کرتے ایک نوجوان پولیس اہلکار نے مجھے پہچان لیا۔ محبت سے ملا۔ پانی کی ایک بوتل پکڑ لایا۔ میں نے کہا ’’کیا دارالسلام کی دکان سے ندیم کو بلا کر لا سکتے ہو؟‘‘ وہ گیا اور ندیم کو بلا لایا۔ ندیم کو ٹی وی چینلز کے ذریعے پل پل کی خبر تھی۔ سیانوں سے سنا تھا کہ جیل کبھی خالی ہاتھ نہیں جانا چاہئے۔ میری جیب میں ایک روپیہ تک نہ تھا۔ بس وہی قلم تھا جو گھر سے نکلتے وقت میرے ہاتھ میں تھا۔ ایک دو ضروری ادویات بھی گھر سے نہ آئی تھیں۔ ندیم کو دوائوں کے نام لکھ کر دیئے اور پانچ ہزار روپے قرض حسنہ کا سوال کیا۔ وہ گیا۔ دوائیں، تھوڑے سے آڑو کچھ کھجوریں، ٹوتھ پیسٹ، برش اور پانچ ہزار روپے لے آیا۔

’’بخشی خانے‘‘ کے ایک سنیئر اہلکار نے بتایا کہ ’’یہ کرایہ داری والا کیس کچھ نہیں ہوتا۔ اس کی تو کھڑے کھڑے ضمانت ہو جاتی ہے۔ پتا نہیں کیوں آپ کو چودہ دن کے لئے جوڈیشل کر دیا ہے لیکن اگر آپ کے وکیلوں نے ضمانت کی درخواست دی ہے تو وہ ابھی کی ابھی سن لی جائے گی۔ ہم آخری کھیپ کے روانہ ہونے تک انتظار کریں گے‘‘۔ لمبی لمبی فولادی زنجیروں میں بندھے ’’دست بستہ‘‘ اور ’’پا بستہ‘‘ قیدیوں کے غول، چھوٹے سے آہنی دروازے سے نکلتے گاڑیوں میں بیٹھتے اور اڈیالہ روانہ ہوتے رہے۔ ایکا ایکی موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ پل دو پل میں جل تھل ہو گیا۔ مجھے لگا کہ شاید شوگر لیول کم ہو رہا ہے۔ میں نے دو کھجوریں نکال کر کھائیں پانی پیا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔

بارش کچھ ہی دیر بعد تھم گئی۔ ساون کی پیلی دھوپ کسی بدلی کی اوٹ سے جھانکنے لگی۔ شام ڈھلنے چلی تھی کہ خبر آئی۔ ہماری ضمانت کی درخواست فوری طور پر نہیں سنی گئی۔ اس کے لئے پیر، 29جولائی کی تاریخ دی گئی ہے۔ بخشی خانے کے ایک اہلکار نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’حد ہی ہو گئی‘‘۔ شاید وہ پریزن وین میں دو فالتو سواریاں نہیں لے جانا چاہتا تھا۔

زندانیوں کی آخری کھیپ کے لئے ایک بڑی بس نما پریزن وین لگ گئی۔ زنجیر بستگان آہنی دروازے سے باہر نکلتے رہے۔ آخر میں ہماری باری آئی۔ ایک بار پھر میرے دائیں اور جاوید کے بائیں ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی گئی۔ باہر کچھ لوگ ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہوں نے ہاتھ لہرا کر الوداع کیا۔ میں بصد مشکل اس پریزن وین میں سوار ہوا جس میں تیس کے لگ بھگ قیدی ٹھنسے تھے۔ ہم دونوں ایک کونے میں سکڑ سمٹ کر بیٹھ گئے۔ تھکی ہاری، سالخوردہ گاڑی پہلے کسی معمر بزرگ کی طرح کھانسی اور پھر ہچکیاں لیتی اپنی منزل کو روانہ ہو گئی۔ اڈیالہ یہاں سے کم و بیش بیس کلو میٹر دور تھا اور اس بدن دریدہ پریزن وین پر یہ سفر بڑا طویل لگ رہا تھا۔

اس طرح کے سفر کے عادی اور جیل کے رنگا رنگ تجربوں سے آشنا قیدی، ٹھٹھہ مخول کرتے گالیاں دیتے اور مذاق اڑاتے ’’آزادی‘‘ کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ایک درماندہ سا نشئی نشہ ٹوٹنے سے بے حال ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سگریٹ تھا اور وہ گاڑی کے بند دروازے پر بار بار زور زور سے دستک دے کر عقب میں بیٹھے اہلکاروں کو متوجہ کر رہا تھا۔ بڑی لجاجت سے ماچس یا لائٹر مانگ رہا تھا اور دوسری طرف سے روشن دان کے ذریعے جھڑکیوں اور گالیوں کی بوچھاڑ آ رہی تھی۔ نشئی کی تڑپ پھڑک سے اس کا ’’ہم زنجیر‘‘ ساتھی پریشان ہو رہا تھا اور پریزن وین، ادائے بے نیازی سے اٹکھیلیاں کرتی سوئے منزل رواں دواں تھی۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *