قلم کو ہتھکڑی

’’سوئے زنداں!‘‘

شکستِ نشہ سے چور، مدقوق چہرے والا قیدی، راستے بھر بلکتا، پولیس والوں کی منتیں کرتا، گالیاں کھاتا، اپنے ہم سفروں کو ضیافت طبع کا سامان فراہم کرتا رہا، پیرانہ سالی سے نڈھال، اعضا کی شکستگی سے چور، خستہ حال پریزن وین خود کو سمیٹتی گھسیٹتی آگے بڑھتی رہی۔ خدا خدا کرکے کوئی گھنٹہ بھر بعد اڈیالہ کے بڑے پھاٹک سے جیل کی حدود میں داخل ہوئی اور ایک مقام پر جاکر رک گئی۔ تنور کی طرح دہکتی گاڑی اور برسات کی مرطوب تپش نےجسم کی ساری توانائی نچوڑ لی تھی۔ دیر بعد وین کا عقبی دروازہ کھلا، میں اور میرا ’’ہم زنجیر‘‘ پہلے قیدی تھے جو وین سے نکلے۔ پھر یکے بعد دیگرے تمام قیدی باہر آ گئے۔ سب کو ایک طویل قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔ میں اس صف مجرمان یا ملزمان میں سرخیل کی طرح سب سے آگے تھا، ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ میری کلائی پر گہرا سرخی مائل حلقہ پڑ گیا تھا۔ میں غور سے دیکھنے لگا تو سپاہی بولا ’’ٹھیک ہو جائے گا تھوڑی دیر بعد‘‘۔ میں نے کہا ’’کاش ٹھیک نہ ہو اور میں اسے سب سے بڑی عدالت تک لے جائوں‘‘۔ وہ ہنسا اور آگے بڑھ گیا، ایک اہلکار لمبا سا کاغذ تھامے آیا۔ یہ قیدیوں کی فہرست تھی، اس نے ایک ایک کا نام اور ولدیت پوچھی، حاضری لگائی، درِ زنداں کھلا اور تمام قیدی، میری معیت میں اندر آگئے۔ پھر جگہ جگہ کوائف طلبی اور جامہ تلاشی کے مراحل آئے۔ تلاشی بھی ایسی کہ انگ انگ ادھیڑ ڈالا گیا۔

ایک کائونٹر پہ سوال ہوا ’’کتنے پیسے ہیں؟ حوالے کر دیں‘‘ میں نے بلا حیل و حجت جیب سے ندیم کے قرض حسنہ والے پانچ ہزار روپے نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیئے اور کہا ’’پانچ ہزار‘‘ ہیں۔ وہ بولا ’’کتنے کی رسید دوں؟‘‘ میں کچھ نہ سمجھ پایا، ہونقوں کی طرح اس کا منہ دیکھنے لگا۔ اب کے وہ ذرا تحکمانہ انداز میں بولا ’’بولیں! رسید کتنے کی دوں؟‘‘ اس کے سرزنش نما استفسار نے میرے دماغ کی کسی کل پر ضرب لگائی۔ بجلی سی کوندی اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا پوچھ رہا ہے۔ میں بولا ’’چار ہزار کی دے دو‘‘ اس نے گلابی رنگ کی ایک پرچی پر میرے کوائف لکھے اور چار ہزار روپے کی رسید کاٹ کر مجھے تھما دی۔ ساتھ کھڑے ایک اہلکار نے کہا ’’اسے سنبھال کر رکھنا، یہ چیک ہے‘‘۔ میں نے یہ چیک بڑی احتیاط سے اپنے والٹ کی اوپر والی جیب میں رکھ لیا۔

ایک اور کائونٹر پر لکھت پڑھت ہو رہی تھی کہ ایک پولیس اہلکار کنکھیوں سے اپنے سینئرز کو دیکھتا ہولے ہولے میرے قریب آگیا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی اور وہ رنجیدہ لگ رہا تھا۔ قریب آکر اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔ پھر اپنے دائیں بازو کی آستین اوپر اٹھا کر وردی کو سمیٹا اور کلائی میرے سامنے کرتے ہوئے بولا ’’سر اس پر اپنے دستخط کر دیں‘‘۔ میں نے شفقت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ جیب سے قلم نکالا، اپنے دستخط کئے اور لکھا ’’سدا خوش رہو‘‘۔ اس نے آستین کھول کر بٹن لگایا اور میری طرف منہ کئے بغیر ایک گوشے کی طرف چلا گیا۔

تمام مراحل مکمل ہو گئے تو ایک اہلکار بولا ’’چلیں‘‘ اس دوران وین کے سارے قیدی جانے کہاں ضم ہو گئے تھے۔ بس میں اکیلا رہ گیا تھا، میں اہلکار کے ساتھ ہو لیا۔ گیٹ سے نکلے تو سامنے ایک وسیع و عریض علاقہ تھا۔ ہم ایک پگڈنڈی پر چل دیئے۔ کوئی آدھ کلومیٹر چلے ہوں گے کہ پیچھے سے ایک موٹر سائیکل سوار آیا اور اپنی موٹر سائیکل میرے ہمراہی کے حوالے کرکے چلا گیا۔ اب میرے ساتھ آنے والے نے موٹر سائیکل سنبھالی اور مجھے کہنے لگا۔ ’’پیچھے بیٹھ جائو، اس مشق کو اب ایک زمانہ ہو چلا تھا، اس لئے بہت ڈر لگا۔ میں سامان کا تھیلا تھامے اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور مضبوطی سے اس کا کندھا تھام لیا، دیر بعد موٹر سائیکل جیل کی فلک بوس فصیل کے اندر ایک دریچہ نما دروازے پہ رکی اور مجھے اندر چلنے کا حکم ملا۔ ایک بار پھر اندراج کوائف پھر جامہ تلاشی، بالآخر ایک مقام آیا جس پر لکھا تھا۔ ہائی سیکورٹی بلاک (High Security Block) یہ HSB کے نام سے بھی مشہور ہے۔ بلاک کے اندر داخل ہوئے تو دائیں اور بائیں ہاتھ قطار اندر قطار چھوٹے چھوٹے سیل دکھائی پڑے جن میں چڑیا گھر کے پنجروں کی طرح قیدی ٹھنسے ہوئے تھے، میرے ساتھ آنے والے اہلکاروں نے بائیں ہاتھ کی پہلی کھولی میں جھانکا۔ ایک نے آواز لگائی ’’اوئے کتنے ہو؟‘‘ جواب آیا ’’چھ‘‘ وہ آگے بڑھ گئے۔ دوسری کھولی کے سامنے کھڑے ہوکر انہوں نے آواز لگائے بغیر گنتی کی۔ ’’پانچ‘‘۔ مجھے حکم ہوا کہ اندر چلے جائیں۔ پہلے بیرونی پھاٹک کا بڑا سا تالا کھلا۔ پھر اندر والی کھولی کا پھاٹک کھلا۔ میں چپ چاپ اپنا تھیلا اٹھائے کھولی میں داخل ہوگیا۔ اندر اور باہر کے پھاٹک زوردار آواز سے بند ہوئے۔ تالے پڑے اور اہلکار رخصت ہوگئے۔

یہ بمشکل آٹھ فٹ مربع کا ایک چھوٹا سا سیل تھا۔ مجھ سمیت اب اس میں چھ افراد ٹھنسے تھے۔ چار نسبتاً جوان تھے۔ ایک عمر رسیدہ باریش بوڑھا اور ایک میں۔ میں نے السلام علیکم کہہ کر سب سے ہاتھ ملایا۔ ایک نوجوان نے سرکتے ہوئے مجھے تھوڑی سی جگہ دی۔ زمین پر پڑی ایک دریدہ سی چادر نما دری پر بیٹھتے ہوئے میں نے دیوار سے ٹیک لگا لی۔ میرے دائیں پہلو میں ڈھائی فٹ اونچی ایک چھوٹی سی دیوار تھی جس کی دوسری طرف بیت الخلا /واش روم تھا۔ میں نے زندگی بھر اس احوال کا تصور نہیں کیا تھا لیکن اللہ نے بے پناہ حوصلہ دیا۔ میرے دل کی دھڑکنیں لمحہ بھر کو بھی غیر مرتب نہ ہوئیں کہ یہ میں کہاں آ گیا ہوں۔ پانی کا ایک گلاس پی کر میں سنبھل کر بیٹھا اور نوجوانوں سے ان کی کار گزاری پوچھی، سب کے سب سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ منشیات، قتل، ڈاکہ زنی وغیرہ وغیرہ، سیل کے پھاٹک کی آہنی سلاخوں سے سر ٹیکے، مرد بزرگ جنگلے کو گھورے جا رہا تھا۔ ایک نوجوان بولا ’’یہ ہمارے مرشد ہیں‘‘ پھر وہ مرشد کے پائوں دابنے لگا۔ میں نے مرشد کے کارنامے کی ٹوہ نہ لگائی۔ اچانک ایک نوجوان بولا ’’آپ کس جرم میں آئے ہیں!‘‘ میں اس وقت اپنے جرم کی نوعیت بھول چکا تھا لیکن فوراً ہی خیال آیا کہ مبینہ طور پر میں نے کسی قانون کرایہ داری کی خلاف ورزی کی ہے۔ سب کی تجسس بھری نگاہیں میرے چہرے پر جمی تھیں۔ میں ایک داستان گو کے سے انداز میں گویا ہوا ’’بچو! سچی بات بتائوں، تمہارے جرائم اتنے جید ہیں کہ مجھے اپنا جرم بتاتے ہوئے شرم آرہی ہے‘‘ دو باذوق نوجوانوں نے قہقہہ لگایا۔ پھر میں نے انہیں اپنے جرم کی تفصیل بتائی۔ وہ سب ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے۔ میں جھینپ کر بیت الخلا کی دیوار کے ساتھ چپک گیا۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *