قلم کو ہتھکڑی

یہ نوجوان جانے کب سے اڈیالہ جیل کے سب سے خوفناک منطقے، ہائی سیکورٹی بلاک (HSB) کی اس کھولی میں بند تھے۔ میرے جرم کی نوعیت جان کر وہ بہت محظوظ ہوئے۔ شاید میری صلاحیتِ جرم کی کم مائیگی پر انہیں ترس آیا۔ لیڈر نما نوجوان بولا ’’سر آپ کے لئے چائے بنائیں؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ’’یہاں کیسے بنے گی چائے؟‘‘ ’’سر ہم نے بہت کچھ ایجاد کیا ہے یہاں۔ آپ حیران رہ جائیں گے‘‘ تیسرا بولا ’’پہلے تو آپ چولہا دیکھیں گے کہ کیسے بنتا ہے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ ہم پلاسٹک کی بوتل میں کس طرح چائے بناتے ہیں‘‘۔ میں دلچسپی سے ان کی باتیں سن رہا تھا کہ ایک سیٹی سی بجی۔ سب کو جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ ہڑبڑا کر اٹھے۔ بنیانوں پر قمیصیں پہننے لگے۔ ایک بولا ’’ڈپٹی صاحب آ رہے ہیں رائونڈ پر‘‘ میں نے دیکھا کہ بیرونی جنگلے کے باہر دو تین پولیس اہلکاروں کے درمیان ایک دراز قامت شخص، سول کپڑوں میں کھڑا ہے۔ کھولی کے قیدی مودب ہوکر کھڑے ہوگئے۔ آداب زنداں سے باخبر ایک جوان نے مجھ سے کہا ’’ڈپٹی صاحب ہیں۔ آپ بھی کھڑے ہو جائیں‘‘۔ میں بھی ڈپٹی صاحب کے احترام میں لوہے کا جنگلا تھام کر کھڑا ہو گیا۔ ڈپٹی صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے ’’آپ ٹھیک ہیں؟‘‘

میں نے کہا ’’جی بالکل ٹھیک ہوں‘‘۔

وہ انگریزی میں بولے۔ "ARE YOU SURE?" (کیا واقعی) میں نے کہا ABSOLUTELY. I AM FINE, WHEREVER YOU PUT ME. (جی بالکل۔ مجھے آپ جہاں بھی ڈالیں، میں ٹھیک ہوں) ڈپٹی صاحب چلے گئے۔ ان کی دہشت باقی رہ گئی اور چائے کا تذکرہ اس دہشت میں تحلیل ہوگیا۔ کوئی دس بارہ منٹ بعد یکے بعد دیگرے دونوں پھاٹک کھلے۔ دو اہلکار وارد ہوئے اور بولے ’’ایک آدمی باہر نکلے۔ دوسرے سیل میں۔ جلدی کرو جلدی‘‘ نوجوانوں نے تھوڑی مزاحمت کی کہ ہمیں روز روز اِدھر اُدھر کر دیتے ہو۔ اہلکاروں نے بوڑھے شخص کا بازو تھاما اور کہا ’’باباجی اٹھو۔ چلو چلو‘‘ باباجی نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ اپنا سامان اٹھایا اور کسی سے ہاتھ ملائے بغیر اہلکاروں کے ساتھ باہر نکل گئے۔ مرشد کے جاتے ہی مرید اداس ہوگئے۔ لمحہ بھر کو مجھے محسوس ہوا کہ شاید اب یہ نوجوان مجھے مرشد کا درجہ دے دیں لیکن پھر خیال آیا کہ میرا جرم اتنا بے وقعت ہے کہ کسی طور ان نوجوانوں کی ارادت مندی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

میرا دل چائے پینے کو چاہ رہا تھا۔ ابھی ابتدائی تیاری شروع ہونے کو تھی کہ سیٹی ایک بار پھر بجی۔ کھولی میں پھر بھگدڑ مچی۔ ایک بولا ’’یہ بار بار آپ کی وجہ سے آ رہے ہیں‘‘۔ دراز قامت ڈپٹی تین اہلکاروں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اہلکاروں نے آگے بڑھ کر ایک بار پھر سیل کا بیرونی اور اندرونی پھاٹک کھولا اور مجھے باہر آنے کو کہا۔ میں باہر آگیا۔ ڈپٹی صاحب احترام سے ملے۔ قریب ہی ایک اور صاحب کھڑے تھے۔ ڈپٹی صاحب نے تعارف کرایا ’’یہ جیل سپرنٹنڈنٹ ہیں ثاقب صاحب‘‘ ثاقب صاحب نے بھی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور نفاست سے بات کی۔ ’بدن بولی‘ کسی بھی زبان سے زیادہ بامعنی، واضح اور دو ٹوک ہوتی ہے۔ سو مجھے ثاقب اور کامران (ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ) سے کچھ پوچھنے کی ضرورت تھی نہ انہیں کچھ کہنے کی۔ ان دونوں سے میری کوئی پرخاش نہ تھی۔ ثاقب بولا ’’ہم چاہتے ہیں آپ کو ساتھ والے دوسرے سیل میں منتقل کر دیں‘‘۔ میں نے پوچھا۔ ’’اکیلے؟‘‘ کہنے لگے ’’جی ہاں‘‘۔ میں نے کہا۔ ’’آپ جیسے مناسب خیال کریں لیکن کیا ممکن نہیں کہ جاوید اقبال کو بھی میرے سیل میں منتقل کر دیں۔ میری صحت ٹھیک نہیں۔ کوئی دوسرا ساتھ ہوگا تو مجھے تسلی رہے گی‘‘۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ پھر ثاقب بولے ’’میں نے کامران سے کہہ دیا ہے۔ وہ انتظام کرتا ہے‘‘۔ ایک اہلکار میرا تھیلا اٹھا لایا۔ کامران مجھے ایک کمرے میں بٹھا گیا۔ یہ چھوٹی سی ڈسپنسری تھی۔ میرے کہنے پر وہاں موجود اہلکار نے میری شوگر دیکھی۔ بلڈ پریشر چیک کیا۔ بفضل خدا سب کچھ نارمل تھا۔ ذرا دیر بعد جاوید بھی وہیں پہنچ گیا۔ میں نوجوان رفقائے زنداں کو الوداع بھی نہ کہہ سکا۔ ان کے ایجاد کردہ چولہے اور پلاسٹک کی بوتل والی چائے دھری رہ گئی۔ نیا سیل ہو بہو پہلے سیل جیسا ہی تھا۔ اسی کے پڑوس میں۔ HSB میں ہی۔ زمین پر دو زخم خوردہ سی دریاں بچھی تھیں۔ پیلے رنگ کا ایک واٹر کولر پڑا تھا۔ اسی طرح آٹھ بائی آٹھ کی اس کھولی کے ایک گوشے میں بیت الخلا/ واش روم تھا جو پتلی سی چادر سے پردہ پوش کر دیا گیا تھا۔ ایک دری پہ بیٹھتے ہوئے میں نے دیوار پہ نگاہ ڈالی۔ بڑے خوش خط الفاظ میں لکھا تھا ’’دیکھو دیکھو کون آیا‘‘ سامنے والی دیوار پر جہادی نعرے رقم تھے۔ میں ذرا موٹا تکیہ لینے کا عادی ہوں لیکن وہاں تکیہ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے گھر سے آئے تولیے سے تکیہ ایجاد کیا۔ مجھے کمرے میں مکمل تاریکی کے بغیر نیند نہیں آتی۔ جگنو بھر روشنی بھی سونے نہیں دیتی۔ یہاں میرے سر کے عین اوپر کوئی دو سو واٹ کے لگ بھگ روشنی دینے والا بلب سورج کی طرح دہک رہا تھا۔ آٹھ بائی آٹھ کی کھولی بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔ جیل کے قواعد کے مطابق بلب رات بھر روشن رہتا ہے تاکہ گارڈز قیدیوں پر نظر رکھ سکیں۔ بلب کو جلانے اور بجھانے والا بٹن بھی مقفل سیل سے باہر کسی خفیہ مقام پر تھا۔ سر پر لگا پنکھا ہوا کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی موسیقی بھی بکھیر رہا تھا۔ کئی گھنٹے سے کھانے کو کچھ نہیں ملا تھا۔ اپنی زنبیل سے آڑو نکالے۔ دو تین کھجوریں کھائیں پیناڈال نائٹ کی ایک گولی لی۔ پانی پیا۔ بنیان اتار کر اس کی کئی تہیں بنائیں موٹی پٹی کی طرح آنکھوں پر باندھ لی اور اللہ کا نام لے کر دری پر دراز ہوگیا۔ جلد نیند نے آلیا۔

صبح چھ بجے کے لگ بھگ ہمارے سیل کا آہنی پھاٹک کھل گیا۔ میں نے باہر نکل کر ایک لمبی سانس لی۔ دیکھا کہ ہماری کھولی کے متصل بازو بہ بازو تین اور کھولیاں ہیں۔ سب کے پھاٹک کھل گئے تھے اور قیدی باہر نکل آئے تھے۔ چاروں کھولیوں کے سامنے ایک بہت اونچا جنگلہ تھا جس کے ایک پھاٹک پر بھاری تالا پڑا تھا۔ باہر مسلح اہلکار گشت کر رہے تھے۔ مختصر سا مستطیل احاطہ اب قیدیوں کی جولاں گاہ تھا۔ ہم نووارد تھے۔ سب ہم سے ملے۔ ہمارے ساتھ والی کھولی پر پردہ پڑا تھا۔ میں نے گوشے سے جھانک کر دیکھا۔ دراز قامت شخص کی لمبی لمبی زلفیں تھیں۔ اسے پھانسی کی سزا ہو چکی تھی اور وہ اعلیٰ عدالت میں اپیل کی سماعت کے انتظار میں تھا۔ تیسری کوٹھی میں پانچ افراد سنگین جرائم میں سزا بھگت رہے تھے۔ آخری کھولی میں تین بھائی منشیات کے کسی مقدمے میں الجھے پڑے تھے۔

شہد جیسا شیریں مشروب جسے چائے بتایا گیا اور ایک نیم پختہ تندوری روٹی کا ناشتہ آگیا میں ذیابیطس کے باعث اس چائے کا ایک گھونٹ بھی نہیں پی سکتا تھا۔ روٹی ایک پڑوسی کو دے دی۔ ایک آڑو اور دو کھجوروں کا ناشتہ کیا۔ اب سینئر قیدی مشقتیوں کی مخصوص وردی میں متحرک تھے۔ شاہ جی نامی مشقتی نے ایک کھولی کے مکینوں کے تعاون سے پھیکی چائے تیار کی۔ یہیں مجھے پتا چلا کہ "HSB" کا یہ منطقہ، انتہائی خطرناک قیدیوں کے لئے مخصوص ہے۔ ان کھولیوں کو ’’پررسٹس سیل‘‘ بھی کہتے ہیں۔ قیدیوں کی مقامی لغت میں انہیں ’’قصوری چکیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔ میں نے قصوری چکی کا ذکر مدتوں پہلے آغا شورش کاشمیری کی کتاب میں پڑھا تھا… مگر وہ تو عہدِ غلامی تھا۔ آج تو ہم آزاد ہیں…! (جاری ہے)

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *