مریم نواز، یوسف عباس چوہدری شوگر ملز کیس میں 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

پاکستان کے صوبے پنجاب کی دارالحکومت لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور بھتیجے یوسف عباس کو 12 دن کے جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔

مریم نواز اور یوسف عباس کو نیب نے جمعرات کو چوہدری شوگر ملز کیس میں حراست میں لیا تھا۔ انھیں اس وقت کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لیے گئی تھیں۔

مریم نواز اور یوسف عباس کو جمعے کی صبح جج نعیم ارشد کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

صحافی عباد الحق کے مطابق جج نے ریمانڈ کیلیے نیب کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی درخواست منظور کر لی اور مریم نواز اور یوسف عباس کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج کے استفسار پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ مریم نواز چوہدری شوگر ملز کہ شیئر ہولڈر ہیں اور تحقیقات کے دوران سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں.

نیب نے واضح کیا کہ مریم نے جو شیئر 2008 میں خریدے وہ نوازشریف کو 2015 میں منتقل ہو گئے تھے۔ نیب کے مطابق یوسف عباس کا اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوا۔مریم نواز کے وکیل نے اپنی موکلہ کی گرفتاری پر اعتراض کیا اور اسے بلاجواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین شہریوں کو تحفظ دیتا ہے اور بغیر اطلاع کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن بنیادوں پر گرفتاری مقصود ہوتی ہے ان کے لیے متعلقہ مواد ظاہر کرنا پڑتا ہے.احتساب عدالت نے نیب کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

مریم نواز، حمزہ شہباز، جنید صفدر

مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ان کے بیٹے جنید صفدر کے علاوہ حمزہ شہباز بھی عدالت میں موجود تھے

مریم نواز اور یوسف عباس کی پیشی کے موقع پر عدالت کے احاطے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور جوڈیشل کمپلیکس کو جانے والے راستوں کو رکاوٹیں اور کنٹینرز کھڑے کر بند کیا گیا تھا۔

’میں جوتے پالش نہیں کرتی اور اسے برا سمجھتی ہوں‘

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا اس سوال پر کہ وہ ’لوگوں‘ کو کیوں اچھی نہیں لگتیں کہنا تھا کہ ’کیونکہ میں جوتے پالش نہیں کرتی اور میں اس کو برا سمجھتی ہوں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ جو عوام کے نمائندے ہوتے ہیں ان کی عزت کی جانی چاہیے۔‘

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت چلانا عوام کے نمائندوں کا کام ہے۔ آئینی اور قانونی دائرے سے جو بھی باہر نکلے گا میں اس کے خلاف آواز اٹھاؤں گی۔ظاہر ہے باقیوں کے مفاد ہیں جو اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے کسی نہ کسی مفاد کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو اس کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو سامنے چہرہ ہے بھیانک وہ عمران خان کا ہے۔‘

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ انھوں نے اپنے ساتھ کچھ ہونے کی صورت میں ریکارڈنگز سامنے لانے کا جو اعلان کیا تھا اس پر کب عمل ہو گا، مریم نواز نے کہا کہ ’وہ میں سوچوں گی۔ میرا مقصد ریکارڈنگ ریلیز کرنے کا یہ تھا کہ میں میاں صاحب کی بے گناہی ثابت کر سکوں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’میری دعا ہے کہ انھیں منظر عام پر نہ لانا پڑے۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جو ریکارڈنگز موجود ہیں وہ ’موجودہ ججوں کی ہیں اور لوگوں کی بھی ہیں اور اداروں کی بھی ہیں۔‘

خیال رہے کہ مریم نواز نے گرفتاری سے قبل گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کیا تھا جس میں وہ لگاتار حکومت پر تنقید کرتی رہیں۔

نیب کی پریس ریلیز کا عکس

چوہدری شوگر ملز کیس ہے کیا؟

نیب مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں تحقیقات کے لیے طلب کرتا رہا ہے۔ وہ 31 جولائی کو نیب میں اس معاملے میں پیش ہوئی تھیں جہاں تین رکنی ٹیم نے 45 منٹ تک ان سے تفتیش کی تھی۔ اس پیشی کے بعد نیب کے مطابق انھیں ایک نیا سوالنامہ بھی دیا گیا تھا۔

شریف خاندان کے اراکین حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز چوہدری شوگر ملز میں مبینہ شراکت دار کی حیثیت سے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کررہے ہیں۔

اس کیس میں شریف خاندان پر چوہدری شوگر ملز میں سنہ 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور انھیں لاکھوں روپے کے حصص دینے کا الزام ہے۔

نیب کیس کے مطابق غیر ملکیوں کے نام پر حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم 'وائٹ منی' نہیں تھی۔

مذکورہ شوگر ملز کے مالکان کے خلاف شواہد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں سامنے آئے تھے۔

نیب کے مطابق مریم نواز اور چوہدری شوگر ملز کے دیگر مالکان کی مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا سراغ لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں قومی احتساب بیورو نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی مریم نواز کو ملزم بنایا تھا۔

نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ جولائی 2018 میں آیا تھا جس کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

سزا سنائے جانے کے بعد وطن واپسی پر مریم نواز کو ان کے والد سمیت اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انھوں نے تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزارا تھا۔

اس سزا کے خلاف نواز شریف سمیت تمام ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مریم نواز کو رہائی مل گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *