کینیا: خواتین کی ڈانس پارٹیاں جہاں مردوں کا داخلہ منع ہے!

نیروبی کی ایک گرم شام۔

شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک گھر کے دالان کو ڈانس فلور کے لیے کرایے پر لیا گیا ہے۔ اونچی آواز میں موسیقی بج رہی ہے اور ڈانس فلور پر صرف خواتین ہی محو رقص نظر آ رہی ہیں۔

ان خواتین میں 22 سالہ منیرہ اور 25 سالہ خدیجہ بھی بے دھڑک ناچ رہی ہیں۔ دونوں پکی سہلیاں ہیں۔

بطور مسلمان خواتین انھیں اپنے شہر کی نائٹ لائف کا لطف اٹھانے کے کم ہی موقع دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی ڈانس پارٹیز میں تمام مذاہب کی خواتین شرکت کرتی ہیں۔

خدیجہ کہتی ہیں: 'جب ہم کسی ڈانس پارٹی میں رقص کرتے ہیں تو بعض اوقات سب میں گھلنے ملنے کے لیے ہمیں اپنا حجاب اتارنا پڑتا ہے کیونکہ جب لوگ ہمیں حجاب میں دیکھتے ہیں تو حیرانی سے کہتے ہیں کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘

ان کی سہیلی منیرہ کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے مشکل ہے کیونکہ کینیا میں خواتین کے لیے مخصوص کلب موجود نہیں ہے۔

لیکن اب نیروبی کی اس نئی شام کے پیچھے ایک ٹیم ہے جو یہ دلیل دیتی ہے کہ صرف خواتین کے لیے ترتیب دی گئی ڈانس پارٹیاں انھیں ’نائٹ لائف‘ سے لطف اٹھانے کے محفوظ مواقع فراہم کرتیں ہیں۔

اگرچہ صرف خواتین کے لیے ڈانس پارٹیوں کا یہ خیال انوکھا محسوس ہوتا ہے، لیکن خواتین کے لیے مخصوص اور محفوظ مقام کا تصور نیا نہیں ہے۔

ڈانس پارٹی

اس ڈانس پارٹی میں شامل ہر بار ٹینڈرز، سکیورٹی کا عملہ، ڈی جے، سازندے اور بیرے تمام کی تمام خواتین ہے

خدیجہ کا کہنا ہے کہ 'ایسی جگہ اس لیے بھی بہتر ہے کیونکہ انھیں مردوں کے ساتھ آزادانہ گھلنے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔'

اسی ڈانس پارٹی میں اپنی اچھی دوست کے ہمراہ آئیں ہوئی 26 سالہ شانی بھی کہتی ہیں کہ ' آپ کو مردوں کے ساتھ والی جگہ پر بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ آپ صرف اپنی دوستوں کے ساتھ باہر جانا چاہتے ہیں لیکن مرد آپ کو تنگ کرتے ہیں۔'

'تو اسی جگہ جہاں صرف خواتین ہو آپ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو آپ کو سمجھتے ہیں۔'

اس ڈانس پارٹی میں سخت سکیورٹی ہے اور صرف چند مردوں کو ہی اندر جانے کی اجازت مل رہی ہے اور وہ بھی ان کو جو کسی خاتون کو وہاں چھوڑنے آئے ہیں۔ اس کے بعد انھیں بھی فوراً وہاں سے جانے کا کہا جا رہا ہے۔

اس پارٹی میں شامل صرف ڈانس کرنے والے ہی نہیں بلکہ ہر فرد واحد جنس پالیسی کی پابندی کر رہا ہے۔ بار ٹینڈرز، سکیورٹی کا عملہ، ڈی جے، سازندے اور بیرے تمام کی تمام خواتین ہے۔

دوستوں کے ساتھ مل کر باہر نکلنے اور مخلوط کلبوں میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار تجربات، خواتین کے لیے مخصوص پارٹیوں کے خیال کو خوش آمدید کہنے کی بڑی وجہ ہیں۔

'کینیا کی خواتین کے لیے مشکل سال'

ڈانس پارٹی

دوستوں کے ساتھ باہر نکلنے اور مخلوط کلبوں میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار تجربات، خواتین کے لیے مخصوص پارٹیوں کے خیال کو خوش آمدید کہنے کی بڑی وجہ ہیں

شانی کہتی ہیں کہ 'جب مجھے علم ہوا کہ یہ خواتین کے لیے محفوظ جگہ ہے تو میں نے فوراً اس کا حصہ بن گئی۔'

شانی اور ان کی سہیلی کو کلب جانا پسند ہے اور انھیں صرف خواتین کے لیے مخصوص ڈانس پارٹی کا ٹوئٹر سے پتا چلا تھا۔

اس شام کو 'سٹریکٹلی سلک' کا نام دیا گیا تھا جس کا تصور نجوکی نگومی، نجیری گاتنگو اور اکاتی خاسیانی کو آیا تھا۔ یہ تمام خواتین کینیا کے'دی نیسٹ کولیکٹیو' گروپ کی رکن ہیں جو فلم، میوزک سمیت دیگر مختلف شعبوں میں فنون لطیفہ پر کام کرتا ہے۔

انھوں نے صرف خواتین کے لیے مخصوص ڈانس پارٹیوں کا آغاز سنہ 2018 میں کیا تھا لیکن اس کا مقصد محض ایک تفریحی شام کے لطف سے کہیں بڑھ کر تھا۔

نگومی کہتی ہیں کہ 'سال 2018 بہت سی کینیائی خواتین کے لیے ایک مشکل سال تھا۔خواتین کے خلاف تشدد کے بہت سے واقعات ہوئے، آن لائن اور حقیقی زندگی میں عورت سے نفرت کے اظھار میں لوگ زیادہ بے باک ہو رہے تھے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی کئی کہانیاں سامنے آئیں۔ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ خواتین کی اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی جگہیں بنائی جہاں انھیں عموماً خوش آمدید نہیں کہا جاتا خصوصاً ایسے مقامات جہاں وہ نائٹ لائف کا لطف اٹھا سکیں۔'

حال ہی میں کینیا خواتین کے ریپ اور قتل کے چند مشہور واقعات کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔

سنہ 2018 میں عالمی خیراتی ادارے 'پلان انٹرنیشنل' نے نیروبی کو دنیا کے ان 22 شہروں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر رکھا ہے جہاں خواتین کو سب سے زیادہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیا کی 50 فیصد خواتین کو عوامی مقامات میں ہراساں کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔جبکہ مئی 2019 میں کینیا کی خواتین وکلا کی فیڈریشن (فدا کینیا) نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں 50 سے زائد خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔

نگومی زور دیتی ہیں کہ اسلام جیسے مذاہب میں اور حتیٰ کہ انڈین، عربی ثقافتوں میں بہت عرصے سے خواتین کے لیے مخصوص مواقع اور مقامات دستیاب ہے اگرچہ یہ مواقع سماجی بڑوں یا مذہبی نظام کے تحت رائج ہیں۔

ڈانس پارٹی

ان پارٹیوں کی منتظم نگومی کو امید ہے کہ وہ خواتین کے لیے متواتر مخصوص ڈانس پارٹیوں کا انعقاد نہ صرف کینیا میں کرتی رہیں بلکہ پورے افریقہ میں کریں

البتہ کینیا میں صرف خواتین کے لیے مخصوص پارٹیوں کو ہم جنس پرستوں کی محفل سمجھا جاتا ہے، جسے نگومی کچھ اس طرح رد کرتیں ہیں۔

'ہم جان بوجھ کر صرف خواتین اکٹھی ہوتی ہیں اور ایک ساتھ جشن مناتی ہیں لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مخصوص طرح کی ہم جنسوں کی محفل ہے۔ یہ تقاریب صرف خواتین کے لیے ضرور ہیں لیکن اس طرح کی پارٹیاں نہیں ہیں۔ ہم تمام لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ان کو بھی جو کسی جنس میں نہیں۔'

یہ ہم جنس کمیونٹی میں شامل افراد جنھیں کینیا میں عوامی طور پر دھمکیاں اور یہاں تک کہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے کے لیے ایک یقین دہانی ہے، اور انھوں نے کھلے عام اسے گلے لگا لیا ہے۔

ہم جنس پرستی کینیا میں غیر قانونی ہے اور اس کی سزا 14 برس قید تک ہے۔ مئی 2019 میں، کینیا کی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی پر مہم چلانے والوں کی جانب سے چیلنج کرنے کے بعد ہم جنس پرستی کے قانون کو برقرار رکھا تھا۔

23 سالہ بنتی، جو ہم جنس پرست ہیں کہتی ہیں کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص پارٹی جہاں آپ کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرتا اب تک اس سال کی سب سے خاص بات ہے۔

ان پارٹیوں کی منتظم نگومی کو امید ہے کہ وہ خواتین کے لیے متواتر مخصوص ڈانس پارٹیوں کا انعقاد نہ صرف کینیا میں کرتی رہیں بلکہ پورے افریقہ میں کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ عالمی مسئلہ ہے۔ یہاں خواتین کے نائٹ کلب جانے کے نقصانات، وہاں کے ماحول اور ان کی شناخت کے متعلق باتیں ہوتیں ہیں۔ اب جب ہم کلب کلچر کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں تو ہمارے پاس ایسی جگہیں ضرور ہونی چاہیں جہاں خواتین جشن منا سکیں۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *